Friday, 9 May 2014

Love for All Hatred for None



Y.a.N بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ خطبہ جمعہ مؤرخہ 09مئی 2014 بمقام بیت الفتوح لندن نمبر 1 :تشہدو تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں ہم خاص طور پر غیروں کے سامنے یہ نعرہ لگاتے ہیں ہم یہ نعرہ لگاتے ہیں اس بات کے جواب میں یا غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے جماعت کے افراد دوسروں کے لئے بغض و کینہ نہیں رکھتے یا غیر مسلم لوگوں کے لئے اسلام کی تعلیم کو ابھارنے کے لئے لگاتے ہں اس لئے یہ بات ہی غلط ہے کہ اسلام ظلم و تعدی بربریت کا مذہب ہے ۔یا پھر یہ نعرہ بلند کرتے ہیں کہ ہم اپس میں پیار و محبت سے رہتے ہیں اور رہنا چاہتے ہیں ۔پس اگر ہم کسی بھی خدمت انسانی کرتے ہیں ہم اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں تو یہ بھی اسی وجہ سے ہے کہ ہم دنیا کے ہر انسان سے محبت ہے اور ہم ہر ایک کے دل سے نفرت ختم کر کے محبت کا پودا لگانے چاہتے ہیں ۔ یہ سب کیوں ؟؟ اس لئے کہ ہمارے آقا و مطاع آنحضرت ﷺ نے سکھایا ہے ۔ ہم نے ان کو دنیا کے لئے تڑپتے دیکھا ہے اس تڑپ کو قرآن میں بیان فرما دیا ۔تا کہ آئندہ آنے والے اس تڑپ کر غور کریں اور اعتراض سے بچیں ۔فعلک باخع نفسک ۔۔۔ کہ تو شدت غم کی وجہ سے اپنی جان کو ہلاک کر دے گا کہ وہ ایمان نہیں لاتے ‘‘کس بات پر ایمان نہیں لاتے شرک نہ کرنے پر ایمان نہیں لاتے ۔شرک ایک ایسا گناہ ہے کہ خدا تعالیی نے فرمایا یہ معاف نہیں ہوگا ۔یہ محبت اور ہمددری ہر انسان سے ہے حتی کہ مشرک کے ساتھ ۔اس کو عملی کوشش کے ساتھ دعا بھی کیرں ۔اگر احمدیوں کو محبت کا صحیح ادراک حاصل کرنا ہے تو یہ طریق دربار رسالت سے سیکھنے ہیں ۔ہم اپنی توحید کے معیار بھی ناپنے ہیں ۔جب قوم کی طرف سے ظلم ہوتا تو تباہی کی دعائیں نہیں بلکہ یہ دعا اے اللہ اس کو ہدایت دے یہ نہیں جانتے ۔جو کچھ ہے ان کے فائدہ کے لئے ہے ۔محبت اپنے لئے نہیں ہمدردی اپنوں سے ہی نہیں بلکہ دوسروں سے بھی وہ معیار ہیں ،ایک درد ہے کہ توحید کا قیام ہو جائے تا دنیا تباہی سے بچ جائے ۔ آج بھی دنیا میں ہزاروں قسم کا شرک پھیل چکا ہے اور نہ صرف شرک بلکہ خدا کے وجود سے انکار ی ہے ۔پس خدا تعالیٰ کی حکومت قائم کرنے اور توحید کے قیام کرنے کے لئے ہمیں اس چیز کو اپنانے کی ضرورت ہے جس کا سبق اپنے نمونے سے رسول کریم ﷺ نے دیا ہے ۔ہمیں صرف اس بات پر خوش نہیں ہو جانا چاہیے اس کو دنیا پسند کرتی ہے ۔ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہے کہ یہ نعرہ اس وسیع مقصد کے حصول کا ایک ذریعہ ہے ۔ہمارا یہ پرچار اور نفرت سے دور ی اللہ کا پیار حاصل کرنے کے لئے اس کی توحید کے قیام کے لئے ہے ۔ ہمین کسی شخص سے نفرت نہیں بلکہ شیطانی عمل سے نفرت ہے اور ہونی چاہئے اس محبت کا تقاضہ ہے اس کو گند سے باہر لایا جائے ۔دنیا داروں سے ہماری محبت دنیا داری کی خاطر نہیں ان کی نفرت ختم کرتے ہیں تو خدا کی محبت پانے کے لئے ۔پس ہمیں چاہئے کہ دنیا کی نظر میں پسندیدہ بننے کے لئے یہ نعرہ نہ لگائیں بلکہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے نعرہ ہو ۔اس زمانہ میں ہم خوش قسمت ہیں جنہیں مسیح موعود علیہ السلام نے خدا کی محبت اپنانے کے لئے ہمدردی مخلوق کے لئے چنا ہے ۔ دین کے دو ہی کامل حصے ہیں ایک خدا سے محبت دوسرا بنی نوع کے لئے دعا کرنا اور ان کی مصیبت کو اپنی مصیبت سمجھ لینا ۔مذہب کی وجہ سے کسی کو دکھ دینا اچھا نہیں ،فرمایا : میرا تو یہ دشمن کے ساتھ بھی حد سے زیادہ سختی نہ کروں کسی کو اپنا ذاتی دشمن نہ سمجھو جو مذہب کی وجہ سے دشمن ہے وہ ذاتی نہیں ہے ۔نوع انسان پ شفقت اور اس کی ہمدردی کرنا بہت بڑی عبادت ہے اور رضا اللہ کے حصول ے لئے زبردست ذریعہ ہے ۔بغیر مذہب و ملت کے ہمددری کرو ۔سچی ہمدردی کے حق ادا کرو ۔کبھی ایسے لوگوں کی باتیں پسند نہیں کرتا جو ہمدردی صرف اپنی قوم کے لئے چاہتے ہیں ہمدردی کے دائرہ کو محدود نہ کرو ان کے ساتھ ایسے پیش آؤ جیسے ان کے رشتہ دار ہو ۔ماں کی طرح طبعی جوش سے نیکی کرو وہ دکھاوا کی نیکی نہیں ہو گی ۔یہ معیار ہیں دوسروں سے ہمدردی اور محبت کے یہ صرف خدا کے حکم کی وجہ سے ہے ۔کیسی خوبصورت تعلیم ہے ہمدردی خلق کے بارہ میں اسلام کی ۔کیا اس تعلیم کےدینے والے خدا کو چھوڑ کر اور اس زمانہ کے فرستادہ کو چھوڑ کر کہیں اور جا کر یہ معیار حاصل کر سکتے ہیں ؟ کبھی نہیں کر سکتے ۔ہماری محبت ہر ایک کے لئے یہ ایک آخری مقصد نہیں ہے بلکہ خدا کی رضا حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے ۔اس کو سامنے رکھنی چاہے اور کوشش کرنی چاہے۔ کچھ عرصہ سے خیال ہوا کہ ہیومینٹی فرسٹ کو احساس ہوا ہے دین سے علیحدہ رہ کر خدمت کرنے سے زیادہ وقعت ہو گی میں نے کہا اپ کی اہمیت دین سے جڑنے کی وجہ سے یہ پیش نظر رہے کہ ہم نے خدا کو خوش کرنے کے لئے خدمت انسانیت کرنی ہے اللہ کو خوش کرنے کے لئے اس کے ساتھ تعلق اور اپنی عبادتوں کی حفاظت کی بھی ضرورت ہے ۔ان کو یہ بات سمجھ آ گئی لیکن دوسرے ملکوں میں جو شاخیں ہیں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کے کام میں برکت اسی وقت ہو گی جب تعلق باللہ مضبوط ہو گا ۔اور اپنے کام کو اللہ کے حصول کا ذریعہ بناؤ گے اپنے کاموں کو دعاؤں سے شروع کرو گے اس کے علاوہ کبھی برکت نہیں ملے گی ۔ اب میں محبت سب کے لئے کہ نعرہ کی طرف آتا ہوں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ بیشک خدمت خلق اور محبت پھیلانے اور دشمنی ختم کرنے کی نیکی بہت بڑی نیکی ہے صرف یہی نہیں سمجھنا چاہئے کہ یہ نعرہ زندگی کا مقصد ہے خیال آجائے کہ یہ کر لیا تو سب کچھ پا لیا یہ نعرہ اس مقصد کے حصول کا ایک حصہ ہے ۔خدا کی وحدانیت کا صحیح ادراک پیدا کرنا ۔خدا کے بتائے ہوئے احکام پر چلنا رسول اللہ ﷺ کے اسوہ کو اپنا مقصد بنانا اور اس کے حصول کے لئے کوشش کرنا ۔اسی سے ہر نیکی کو ممکن بنایا جا سکتا ہے ۔حضرت مصلح موعود ؓ کے دور میں بھی بعض نے پوچھا تو آپ نے توجہ دلائی کہ وہ ایسا ہے جس سے دین بھی مضبوط ہوتا اور ایمان بھی مضبوط ہوتا حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی بھی ہوتی ہے ۔آپ نے فرمایا کوئی نہ کوئی مطمع نظر ہونا چاہئے ہر ایک کا کوئی نہ کوئی مطمع نظر کھتیں ہیں ،دنیا میں اخلاقی ترقی کے لئے نعرہ لگایا جاتا تعلیمی ترقی کے لئے بھی اور کسی جگہ حقوق غصب ہوتے دیکھ کر سیاسی جماعتیں نعرہ لگاتی ہیں ۔ہر ایک کوئی نہ کوئی مطمع نظر بناتا ہے اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ہم نے اس بات کو دنیا مین قائم کرنا ہے اور اپنی جماعت کے سامنے بھی رکھنا ہے ۔سہولت کی غرض سے ایک نیکی کو مطمع نظر بنایا جاتا ہے آپ نے فرمایا بعض ماٹو ایسے ہوتے جو آپس میں ملتے ہیں خدا کی اطاعت اور نیکیوں کا حصول ایک دوسرے سے ملتے ہین ۔کیونکہ اطاعت کے بغیر ممکن نہیں ہے اس طرح یہ کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا اور نیکیوں میں سبقت لے جانے کی کوشش کرروں گا یہ بھی دونوں آپس مین ملتے ہیںٍ ۔ماٹو کے سامنے آنے کی وجہ سے اسی کی طرف توجہ ہو جاتی ہے ۔ہمارے نوجوان دینی حالت کو بھول گئے ہیں مگر محبت سب کے لئے کا نعرہ لگانا شروع کر دیا ہے تھیک ہے مگر ہمارا یہ مقصد نہیں بلکہ وسیع ہیں ۔ہمدردر خلق کے ساتھ یاد غائب ہو رہی ہے تو فائدہ نہیں ۔فرمایا یہودی نے کہا ہم کو مسلمانوں سے حسد ہوتی ہے وجہ پوچھی تو کہا کہ اسلام میں خاص خوبی ہے اسلام مین ہر ایک بات کا حل ہے ۔جب کہ ہمارے پاس نہیں ہے یہ حسد پیدا کرتی ہے ۔پس اگر اس بات کو سامنے رکھیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اسلام بھی کسی ایک بات کو بطور ماٹو چننا مناسب نہیں اسلام کی ہر نیکی مطمع نظر بن سکتی ہے وہ دل کو اپنی طرف کھینچتی ہے ۔آپ نے فرمایا کہ آپ کی بعثت کا زمانہ ظھر الفساد فی البر و الحر تھا ہر خرابی تھی حضرت مسیح موعود ؑ کے ظل ہیں اس لئے یہ زمانہ بھی اسی زمانہ کا ظل ہے اج بھی تمام قسم کی خرابیاں اپنے کمال کو پہنچی ہیں ۔آج مذہب اخلاق اور دنیا کی ترقی کی بھی ضرورت ہے اور حقیقی دنیاوی ترقی بھی ضرورت ہے کیونکہ اس وقت جس کو ترقی کہتے ہین وہ نفسانیت کا ایک مظاہر ہ ہے وہ اپن ذات کے لئے مفاد ہیں دنیا کی ترقی نہیں کہلا سکتی کیونکہ اس سے ایک حصہ فائدہ اٹھا رہا ہے دوسرے کو غلام بنایا جا رہا ہے ۔پس ایسے وقت میں یہ کہنا کہ فلاں ایت کو مطمع نظر بنا اور فلا کو چھوڑ دو بلکہ قرآن کریم کی ہر آیت ہی ہمارا مطمع نظر اور نسب العین ہے ۔ہمارا ماٹو تو تمام قرآن کریم ہی ہے اگر کسی ماٹو کی ضرروت ہے تو وہ لا الہ الا اللہ محمد رسول یہ تمام قرآن کریم کا خلاصہ ہے ۔حقیقت ہے کہ تمام تعلیمیں تمام اعلیٰ مقاصد توحید سے تعلق رکھتے ہیں ۔ توحید ایسی چیز ہے جو رسول اللہ ﷺ کی مدد کے حاصل نہیں ہو سکتی اسی لئے لا الہ الا اللہ کے ساتھ محمد رسول اللہ ﷺ لگا دیا ہے خدا کو آج پانا ہے تو اس کے ذریعہ دیکھو آپ ہی وہ عینک ہیں جس سے معبود نظر آ سکتا ہے ۔پس آنحضرت ﷺ کا وجود مبارک ہی ہے جن کے آنےسے دنیا میں توحید حقیقی قائم ہوئی ورنہ اس سے پہلے کسی نے عزیر ؓ کو کسی نے عیسی ؒ کو خدا کا بیٹا بنایا ہوا تھا ۔اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ہی توحید کے قیام کے لئے کھڑا کیا اور اسی ذات سے دنیا میں توحید قائم ہوئی ۔یہی لاالہ الا اللہ کا ماٹو ہے جب کسی شخص کا اسلام میں لایا جاتا تو اسے بھی یہی کہا جاتا ہے ۔دینی کمزوری کی وجہ یہی ہے کہ لا الہ الا اللہ اس کے منہ سے ہٹ گیا ہوتا ہے جب تک رسول کریم ﷺ پر ایمان کامل نہ ہو تب تک توحید کو کامل نہیں سمجھ سکتا ۔جو رسول اللہ میں محو ہو کر توحید کو نہیں سمجھتے وہ شرک مین مبتلا رہتے ہیں ۔غیر مسلم دور مگر پیروں فقیروں کو اپنا خدا بنا بیتھے ہین کہا تو احمدیوں کو جاتا کہ ہم نے نعوذ باللہ توہین رسالت کی ہے بلکہ حقیقت میں یہ لوگ دور ہیں ۔اور توحید کے مرتکب ہیں حقیقی ادراک آج مسیح موعود ؑ کو ہی ملا جن کو دنیا کافر کہتی ہے وہی توحید حقیقی کے علمبردار ہیں ۔اپ محو ہوئے تو نظر آگیا کہ عیسی ؑ وفات پا گئے ہیں ۔آپ سے پہلے لاکھوں عالم تھے جو خدائی صفات منسوب کرتے تھے مردہ زندہ کرنا وغیرہ مسیح موعود ؑ کی وجہ سے کوئی بھی اس عقیدہ پر قائم رہنا گوارہ نہیں کرتا اس کے علاوہ بہت سی باتین ہیں جو آپ ﷺ سے نور لیکر ہم کو بتائیں آپ ؑ نے ہی لا الہ الا اللہ کا جلوہ دکھایا ۔جیسے رسول کریم ﷺ نے کسی کو بڑی نیکی جہاد کسی کو بڑی نیکی ماں باپ کی خدمت ہر ایک کو اس کی بنیادی نیکی دور کرنے کی طرف توجہ دلائی ۔اس کا یہ مطلب نہیں دوسرے احکام بجا لانے ۔اسی طرح یاد رکھنا چاہیے کہ سارے احکام ضروری ہیں اصل لا الہ الا اللہ کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے توحید کی حقیقت کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے ۔دنیا کے ہر کام میں توحید کا تعلق ہے ۔آنحضرت ﷺ اپنے سونے کے وقت اور اٹھنے کے وقت توحید کا قیام فرمایا کرتے تھے ۔توحید کی لازمی شرط ہے کہ بھروسہ صرف خدا کی ذات پر ہو ۔ہر کام مین خواہ دینی ہے دنیاوی ہے وہ نظر خدا کی طرف اٹھے ۔بیشک ہر ایک اچھا ماٹو ہے لیکن کامل موحد بننے کے لئے ضروری ہے کہ ہر ایک چیز خدا کے سوا ہٹ جائے پس حقیقی ماٹو لا الہ الا اللہ ہے ۔اس کے لئے آنحضرت ﷺ کا نمونہ اسوہ حسنہ ہے حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کان خلقہ القرآن اس ایک فقرہ میں تمام باتیں بتا دیں ۔جس نے محمد رسول اللہ ﷺ سمجھ لیا اس نے خدا کو سمجھ لیا جس نے خدا کو سمجھ لیا اس نے سب کچھ سمجھ لیا ۔توحید پر قائم ہونے کے بعد انسان میں اعلیٰ اخلاق علم تمدن سب کچھ آ جاتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا نور ایک تریاق ہے ۔ہمارا ماٹو لا الہ الا اللہ ہے ۔جو خود خدا نے بیان فرما دیا ہے ۔اس زمانہ میں دجال اپنی طاقت کے ساتھ رونما ہے اس کا مقصد ہے دنیا کو دین پر مقدم رکھوں گا ہمارا فرض ہے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا نعرہ لگائیں اس لئے شرائط بیعت میں فقرہ شامل فرمایا مراد ہم اپنے اوپر دین کی تعلیم لاگو رکھیں گے ۔ہر مخالف کے جواب میں اللہ کا چہرہ دکھائیں گے ۔ہم نے اس زمانہ میں بیعت ہی اس مقصد کے حصول کے لئے کی ہے۔فرمایا خذ التوحید التوحید یا ابناء الفارس ابناء الفارس سے صرف خاندان ہی مراد نہین بلکہ تمام جماعت کے لئے یہ حکم ہے ۔ مصیبت کے وقت کسی خاص چیز کو پکڑا جاتا ہے مصائب کے وقت توحید کو پکڑ لیا کرو ہماری جماعت کا مقصد ہے لا الہ الا اللہ کا ماٹو ہر وقت سامنے رکھیں آج دہریت پھیل رہی ہے ہم اپنے آپ کو ایک نعرہ پر محدو د کر کے دنیا کو سنوارنے والے نہیں بن سکتے نہ خدمت انسانیت کے زعم میں اپنی نمازوں کو نہین چھوڑ سکتے ہم کو اپنے حقیقی مطلع نظر کو ہمیشہ سامنے رکھنے کی ضرورت تا کہ ہم تمام انعامات کو سامنے رکھ سکیں ۔نماز کے بعد ایک جنازہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر ہ العزیز نے پڑھایا ۔موصوف کارکن کے لحاظ سے بہت اچھے کارکن رہے ہیں بہت لمبی بیماری کاٹی ہے کینسر کی بیماری صبر سے گزاری ہے اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت کا سلوک فرمائے ان کی والدہ کو بھی صبر کی توفیق دے اور اہلیہ کا اور ان کے بچہ کا بھی حافظ و ناظر ہو آمین ۔طالب دعا : یاسر احمد ناصر

No comments:

Post a Comment