Friday, 21 November 2014

Love for All Hatred for None



بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ خطبہ جمعہ 21 نومبر 2014 بیت الفتوح لندن اس وقت بعض تحریرات حضرت مسیح موعود ؑ پیش کرونگا جس میں قبولیت دعا کے چند واقعات ہیں اور اپنے ساتھ تائیدات کا زکر فرمایا ہے اور نصیحت فرمائی ہے کہ مجھے اس زمانہ میں بھیجا ہے اس کی باتیں سنو کہ اسی میں برکت ہے اور اس سلسلہ کی ترقی خدا تعالیٰ کی تقدیروں میں سے ایک تقدیر ہے اور اس کے ماننے سے ہی انسانیت کی بقا ہے ۔ایک جگہ نواب علی محمد خان صاحب کے ایک خط کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انہوں نے لکھا کہ میرے امور معاش بند ہو گئے ہیں آپ دعا کریں کہ کھل جائیں ۔جب میں نے دعا کی تو الہام ہوا کہ کھل جائیں گے اور بذریعہ خط اطلاع دی ۔دو چار دن کے بعد ان کے امور کھل گئے ۔اور ان کو بشدت اعتقاد ہو گیا ۔پھر ایک دفعہ بعض پوشیدہ مطالب کے لئے خط روانہ کیا ۔جس گھڑی خط انہوں نے ڈالا تبھی الہام ہوا کہ خط آنے والا ہے تب میں نے لکھا کہ اس مضمون کا خط آپ روانہ کریں گے جب خط ان کو ملا تو دریائے حیرت میں ڈوب گئے ۔کیونکہ ان کے راز کی خبر کسی کو نہ تھی ۔ان کا اعتقاد اس قدر بڑا کہ فدا ہو گئے ۔وہ ان دونوں واقعات کو لکھ کر اپنے پاس رکھا کرتے تھے ۔اور بعد میں انہوں نے ایک وزیر کو بھی وہ کتاب دکھائی اور ایمان کا راز یہی تھا ۔جب میں وفات سے پہلے ان کو ملنے گیا تو وہ وہی کتاب لے آئے اور کہا یہ حرض جان ہے اور اس کو دیکھ کر تسلی پاتا ہوں ۔پھر جب قریب نصف کے رات ہوئی تو وفات پا گئے ۔ پھر آپؑ فرماتے ہیں : چند سال ہوئے کہ سیٹھ عبد الرحمن صاحب مدراس جو اول درجہ کے مخلص ہیں قادیان آئے تھے تجارت کے لئے کچھ مسائل پیدا ہوئے تو دعا کے لئے کہا تب الہام ہوا کہ خدا تعالیٰ ٹوٹا ہوا کام بنا دے گا پھر بنا بنایا توڑ بھی دے گا ۔چنانچہ یہ الہام ان کو سنایا گیا تھوڑے دن گزر ے تھے کہ تجارت میں رونق پیدا کردی ۔ایسے اسباب پیدا ہوئے کہ فتوحات مالی شروع ہو گئی ۔پھر کچھ عرصہ کے بعد بنا بنایا کام ٹوٹ گیا ۔پھر آپ ؑ فرماتے ہیں کہ مجھے دو بیماریاں تھیں ایک شدید درد سر اور بہت بیتاب کرتی تھی اور یہ مرض قریبا 25 برس تک رہی اور چکروں کی تکلیف بھی ہو گئی اور لکھا ان عوارض کا آخری نتیجہ مرگی ہوتی ہے ۔چنانچہ میرے بڑے بھائی اسی مرض میں مبتلا ہو کر مرگی میں مبتلا ہو گئے اور اسی سے وہ انتقال کر گئے ۔میں دعا کرتا رہا کہ ان امراض سے مجھے محفوظ رکھے ۔ایک دفعہ عالم کشف میں دکھائی دیا کہ ایک بلا سیاہ رنگ کی ہے بڑے بڑے بال اور مجھ پر حملہ کرنے لگی دل میں ڈالا گیا کہ یہ مرگی ہے تب داہناں ہاتھ سینہ پر مارا اور کہ تیرا اس میں حصہ نہیں تب وہ عوارض جاتے رہے ۔تا دو زرد چادروں کی پیشگوئی میں خلل نہ آئے ۔فرمایا دوسری مرض ذیابیطس ہے ۔کافی تکلیف ہے ایک دن خیال آیا کہ ڈاکٹروں کی رو سے انجام اس کا نزول الماء ہوتا ہے یا پھر سرطان کا پوڑا مہلک ہوتا ہے ۔اسی وقت نزول الماء کے بارہ الہام ہوا کہ ۔یعنی تین عضو پر رنگ نازل کی گئی آنکھ اور دو عضو پر ۔پھر کاربنکر کا خیال دل میں آیا تب الہام ہوا السلام علیکم اب ایک مدت گزری ہے میں ٹھیک ہوں ۔گزشتہ دنوں پوچھا تھا کسی نے کہ اگر شوگر تھی تو پھر روزہ کیوں رکھتے تھے ۔پھر بیماری کا زکر 1907 کا ہے اور روزوں کا جوانی میں ذکر ہے ۔لگاتار روزے رکھے تھے وہ جوانی میں تھے ۔فرمایا اتنی طاقت تھی اگر چاہتا تو چار سال تک رکھ سکتا تھا ۔یہ بعد کی بیماری ہے ۔ پھر مولوی عبد الکریم صاحب کے بارہ میں فرماتے ہیں ۔ان کا بڑا مقام تھا ۔ان کی بیماری کے دوران دعا بھی کرتے رہے فرمایا سال گزشتہ 11 اکتوبر 1905 کو اسی بیماری کی وجہ سے بنکر یعنی سرطان کی وجہ سے فوت ہوئے بہت دعا کی تھی ایک بھی الہام تسلی بخش نہ تھا یہی الہام ہوئے کفن میں لپیٹا گیا ۔انا للہ ۔موتوں کے تیر خطارا نہیں جاتے ۔اس پر دعا کی گئی تو الہام ہوا کہ اے لوگوں تم اس خدا کی پرستش کرو اسی کو اپنے کاموں کا کارساز سمجھو کیا تم دنیا کی زندگی کو اختیار کرتے ہو ۔کسی کے وجود کو ایسا سمجھنا کہ اس کی غیر موجودگی سے حرج ہوگا ۔یہ شرک ہے ۔میں پھر خاموش ہو گیا اور پھر وہ وفات پا گئے ۔وہ درد جو وارد ہو ا تھا اور چاہا کہ اس ناکامی کا ایک اور کامیابی کے ساتھ تدارک کرے ۔فرمایا میرا صد ہا دفعہ تجربہ کیا ہے کہ جب ایک دعا قبول نہیں کرتا تو اس کے عوض میں کوئی اور دعا قبول کر لیتا ہے ۔دعا کی فلاسفی کا بھی پتہ لگ جاتا ہے ۔نبیوں کی دعا بھی بعض دفعہ قبول نہیں ہوتی اس کے مقابلہ میں دوسری دعا قبول ہو جاتی ہے ۔جو اس کے مثل ہوتی ہے ۔پھر اپنی صداقت کے طور پر جو پیشگوئیاں ہیں ان میں سے ایک پیشگوئی جو سواری کے بارہ میں ہے اس کے بارہ میں آپ فرماتے ہیں کہ ایک نئی سواری کا نکلنا ہے جو مسیح موعود کے ظہور کی خاص نشانی ہے ۔واذا العشار علطت آخری زمانہ میں اونٹیاں بیکار ہو جائیں گی ۔ایام حج میں مدینہ سے مکہ کی طرف سفر ہوتا ہے اب دن قریب ہیں کہ ریل تیار ہو جائے گی تب یہ صادق آئے گی ۔ریلوے نہیں ہے اب پروجیکٹ ہے جو شروع ہوا ہے 2015 تک مکمل ہو جائے گا اور فاسٹ ٹرین ہوگی ۔سواریاں تو بیکار ہوئیں اب ریل بھی بچھ رہی ہے ۔کام ہو رہا ہے ۔پھر اسلام کے ایک دشمن کی بد زبانی کی وجہ سے دعا کی تھی پکڑ کی ۔اس دعا کے بعد اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر انجام کا اعلان کیا ۔عبد اللہ آتھم کے بارہ میں پیشگوئی ہے دراصل دو تھیں اول 15 ماہ میں مر جائے گا دوسرا یہ اگر وہ باز آجائے گا جو اس نے لکھا نعوذباللہ رسول کریم ﷺ دجال ہیں تو وہ نہیں مرے گا ۔سچ ہے کہ پندرہ ماہ کی میعار تھی ساتھ شرط تھی کہ حق کی طرف رجوع نہ کرے مگر اس نے اسی مجلس میں رجو ع کر لیا ۔اور ندامت ظاہر کی زبان باہر نکال کر ۔اس کے گواہ 70 کے قریب لوگ ہیں ۔اب سوچنا چاہیے کہ کسی بد ذاتی اور بے ایمانی ہے باوجود اس کھلے کھلے رجوع کے جو اس نے کیا اور پھر بھی کہا جائے کہ رجوع نہیں کیا ۔مسلمان ہونے کا پیشگوئی میں کوئی ذکر نہیں ۔جب اس نے انکساری کے ساتھ رجوع کیا تو خدا نے بھی معاف کر دیا ۔الہام میں یہ نہیں کہا گیا تھا کہ اسلام نہیں لائے گا تو مرے گا۔خدا اسلام کے لئے کسی پر جبر نہیں کرتا یہ پیشگوئی غلط ہے کہ فلاں ایمان نہ لائے تو مر جائے گا یہ تو جبر کی قسم ہو گئی ۔یہ پیشگوئی بھی نہایت صفائی سے پوری ہوئی ۔ایسے دلوں پر لعنت ہے جو اس کے باوجود بھی باز نہیں آتے ۔اور کہتے ہیں کہ پوری نہیں ہوئی ۔ پھر حضرت مسیح موعود ؑ بیان فرماتے ہوئے کہ قرآن کریم کی برکات انسانوں کی طاقت سے بہت بڑ کر ہیں اور ماننے والوں کو نشان دکھا کر معرفت عطا کرتا ہے اور اسی کی برکت سے معجزات ظہور میں آتے ہیں ۔آپ ؑ فرماتے ہیں کہ میں قرآنی برکات کو قصہ کے طور پر بیان نہیں کرتا بلکہ وہ معجزات پیش کرتا ہوں جو مجھ کو خود کھائے گئے ہیں وہ تمام ایک لاکھ کے قریب ہیں غالبا اس سے بھی زیادہ ہیں ۔جو اس کی پیروی کرے گا اس کو معزات دئے جائیں گے ۔میں نے خود وہ معجزات پائے ہیں ۔طاعون زلزلہ آفات سب اسی معجزات میں سے ہیں ان کی خبر 25 سال پہلے شائع کر دیا تھا ۔سو وہ آگئی اور ابھی بس نہیں بلکہ آنے والی آفات ان آفات سے بہت زیادہ ہیں ۔ایک سخت اور خوفناک قسم کی طاعون ظاہر ہونے والی ہے ،(بڑے خوف کا مقام ہے یہ نشانات بند نہیں ہوئے ) جو عمل ہیں دنیا کے خدا سے دور ہٹ رہے ہیں اور ظلم بھی کر رہے ہیں اور ان آفات کو بلانے کے لئے یہ خود عمل کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ رحم فرمائے احمدیوں کو دعا کی توفیق دے اور اپنے اعمال درست کرنے کی توفیق فرمائے ۔اگر دنیا خدا سے ڈرے تو یہ آفات ٹل بھی سکتی ہیں ۔بظاہر کچھ امید نہیں کہ خدا سے ڈریں کیونکہ دل بہت سخت ہو گئے ہیں ۔ہم کو الزام دیا جائے گا کہ لوگوں میں تشویش پھیلاتا ہے ۔مسلمانوں کا اپنا حال ہے خدا سے دور ہو رہے ہیں اورجو صحیح راستہ کا کہہ رہا ہے اس کو تشویش پھیلانے کی کوشش کرنے والا کہا جائے گا۔(بلکہ اب تو ایک مولوی صاحب نے پاکستان میں کہا کہ امام مہدی نے نہ آنا ہے اور نہ ہی آئے گا اگر پیدا ہوا ہے تو جلد ختم ہو جائے یہ ان کی اپنی سوچیں ہیں ۔) پھر اپنی اصلاح کرنے کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ اب برے اخلاق سے بھر گئے ہیں اب اخلاص اٹھ گیا ہے خدا تعالیٰ کے ساتھ صدق وفادار توکل ختم ہو گئے ہں ۔اب خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ نئے سرے سے زندہ کرے ۔اس نے مجھے معمور بنا کر بھیجا ہے اور نرم الفاظ میں ہدایت کرے اور دوسری طرف علوم و فنون کی ترقی ہے عقل آتی جاتی ہے ۔فرمایا : آسمان نشان ظاہر کر رہا ہے ۔پھر قہری نشانات ہیں ان میں سے طاعون بھی ایک نشان ہے ۔بہت سے لوگ ہیں جو فائدہ اٹھا رہے ہیں کوئی دن نہیں جاتا کہ کوئی خط یا خود حاضر ہو کر بیعت نہیں کرتے ۔سعید بھی انہی میں ملے ہوئے ہیں ۔خدا تعالیٰ ان لوگوں کو نکال لے گا اور ان کو سمجھ دے گا ۔اور باقی طاعون کا نشانہ بن جائیں گے اسی طرح اتمام حجت ہو گا ۔ہر جگہ ایسے لوگ پائے جاتے ہیں اب تو لاکھوں کی تعداد میں جماعت میں داخل ہو رہے ہیں ۔ فرمایا : یاد رکھو جو پیشگوئیاں مجھ پر ظاہر ہوئی ہیں ایسی تم پیش نہ کر سکو گے ۔اب تو نشانات میں بہت اضافہ ہو رہا ہے ۔ایک نو مسلم نے آکر نشان مانگا ۔آپ نے فرمایا ہر ایک معمور کے دل میں جو کچھ ڈالا جاتا ہے وہ اس کی مخالفت نہیں کر سکتا ۔یہی بالکل سچ ہے ۔جب وہ کسی کو بھیجتا ہے تو تائید میں خارق عادت نشان ظاہر کرتا ہے ۔مجھ پر بھی بہت ظاہر کئے ہیں اور لاکھوں لوگ گواہ ہیں ۔ایک طالب حق کے لئے وہ نشان تھوڑے نہیں ہیں مگر اس پر بھی دل شہادت نہ دے تو ایک شخص طالب حق ہے تو ہم اس کے لئے توجہ کر سکتے ہیں ۔اور اللہ تعالیٰ پر یقین رکھتے ہیں کوئی امر ظاہر کر دے گا ۔لیکن یہ بات نہ ہو اور پہلے نشانوں کو ناکافی سمجھا جائے تو جوش پیدا نہیں ہوتا ۔اس لئے ضروری ہے تو جوش ڈالا جائے ۔فرمایا : یہ تحریک اس وقت ہوتی ہے جب ایک صادق اور مخلص طالبگار ہو ۔ فرمایا نشان عقلمند کے لئے ہوتے ہیں ۔ فرمایا : کہ نشانات کا ظاہر ہونا ہمارے اختیار میں نہیں ہے یہ شعبدہ بازی تو نہیں یہ اللہ کے اختیار میں ہے جب چاہے ظاہر کرتا ہے ۔اس وقت کا دل میں ڈالا ہے یہ اسی قسم کا جو ابو جہل کی طرح کے لوگ کیا کرتے تھے ۔انہوں نے کیا فائدہ اٹھایا ۔رسول کریم ﷺ پر بہت نشانات ظاہر ہوئے مگر کوئی فائدہ نہ اٹھایا ۔طالب حق کے لئے بہت کافی ہیں ۔ آج کل جو توجہ پیدا ہو رہی ہے اور پیغام سن رہے ہیں یہ بھی ایک نشانوں میں سے ایک نشان ہے ۔بہرحال نشانات تو ہر عقلمند کے لئے ظاہر ہوتے ہیں اور ہو رہے ہیں ۔ پھر آپ ؑ ایک جگہ فرماتے ہں کہ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ خدا تعالیٰ اس سلسلہ کو بے یارومددگار نہیں چھوڑے گا۔اس نے خود فرمایا ہے کہ نذیر کو زور آور حملوں سے تائید کرے گا کیونکہ خدا مفتری کا دشمن ہے ۔کیا کوئی کذاب ایسا کر سکتا ہے ۔یہ اسی کا جگر اور دل ہے جو تمام جہاں کا مقابلہ کرنے کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے۔دن قریب ہے کہ دوست خوش ہونگے کون ہیں وہ جن لوگوں نے نشان کے بغیر قبول کیا ۔انہوں نے اکیلا پایا اور مدد کی اور مجھے دیکھ کر مدد کی ۔خدا کی رحمت ہو ۔جو نشان دیکھ کر مانے گا تو پھر مجھے کیا اور اس کو اجر کیا ۔ میرے ساتھ وہی ہے جو میری مرضی کے لئے اپنی مرضی کو چھوڑتا ہے اور اپنے نفس کے لئے مجھے حکم بناتا ہے ۔(یعنی ہر معاملہ میں مجھ سے فیصلہ لیتا ہے ) اطاعت میں فانی ہے انانیت سے باہر ہے مجھے آہ کھینچ کر کہنا پڑتا ہے کہ نشانوں والے وہ مقام نہیں پا سکتے جو ان صادقوں کو ملیں گے جو ان لوگوں نے پائیں ۔انہی باتوں سے ہدایت پانے والے پا جاتے ہیں اور جو کج دل ہیں وہ اور بڑھ جاتے ہیں ۔میں جانتا ہوں کہ نشانوں کے بارہ میں بہت کچھ لکھ چکا ہوں ۔اب تک تین ہزار کے قریب خدا تعالیٰ کی طرف سے صادر ہوئے ہیں اور آئندہ اس کا دروازہ بند نہیں ۔ اللہ تعالیی دنیا کو بھی عقل دے کہ نشانوں کو سمجھنے والے ہوں اور نشانوں کا مطالبہ کرنے والے نہ ہوں بلکہ زمانہ کی آواز جو اظہار کر رہی ہے اس کو سنیں اور سمجھنے کی کوشش کریں ۔اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کو تلاش کر کے ماننے والے بھی ہوں تا کہ دنیا کے فسادوں کا خاتمہ ہو سکے ۔ ایک درویش قادیان کا جنازہ بھی حضور انور ایدہ اللہ نے پڑھایا ۔آپ 313 درویشوں میں شامل تھے ۔189 نمبر تھا ان میں ۔اپریل 1925 میں شادیوال پیدا ہوئے ۔فوج میں ملازمت کی ۔چار سال کے بعد حفاظت مرکز کے لئے قادیان آئے ۔1947 کو حاضر ہو گئے تبلیغ کا شوق تھا ۔3 بیٹے اور 5 بیٹیاں ہیں ۔خواب کے مطابق آپ کو بتایا کہ 90 سال عمر ہوگی ۔بہت ہی نیک اور سادہ لوگ تھے ۔آخری وقت تک مسجد مبارک جاتے تھے ۔کہ سکون ملتا ہے اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے ۔ان کے علاوہ دو درویش وفات پا گئے تھے ان کا زکر خیر نہیں ہوا تھا ۔ان درویشوں نے بڑی بڑی قربانیاں دی ہوئی ہیں ۔لمبا عرصہ بہت مشکل میں گزارا ۔ مرزا محمد اقبال صاحب تھے ۔ 11 جون 2014 میں فوت ہوئے تھے ۔ان کے دادا مرزا رسول بیگ صاحب صحابی تھے ۔یہ 313 میں سے تھے ۔دفاتر میں بھی رہے ۔ نیک عبادت گزار تھے ۔مالی قربانی میں پیش پیش تھے ۔چودہدری منظور احمد صاحب چیمہ بھی تھے ۔اللہ تعالیٰ سب کے ساتھ محبت پیار کا سلوک کرے ۔آمین طالب دعا : یاسر احمد ناصر

No comments:

Post a Comment