
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ خطبہ جمعہ13 فروری 2015 بیت الفتوح لندن(مرتب کردہ : یاسر احمد ناصر ) ( تشہد و سورة الحمدللہ بعد حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا :حضرت مصلح موعود ؓ نے ایک دفعہ قومی کمزوری کی طرف توجہ دلائی تھی جماعت کو اس کمزوری سے بچنے کے لئے توجہ دلائی تھی اس مضمون کی آج بھی ضروری ہے ۔نقائص اور کمزوریاں دو طرح کی ہوتی ہیں ایک فردی کمزوری اور نقص دوسرا قومی ۔اسی طرح فردی خوبی اور قومی خوبی بھی ہے ۔فردی نقائص وہ ہیں جو افراد میں ہوتے ہیں مگر قوم میں نہیں ہوتے ۔اسی طرح خوبیاں بھی ہیں ۔افراد اپنے علم اور کوشش سے بعض خوبیاں پیدا کر لیتے ہیں اسی طرح نقائص کی وجوہات ہر شخص کے اپنے حالات اور ماحول کی وجہ سے ہوتے ہیں۔بدی اور نیکی کے بارہ میں یاد رکھیں کہ نقص اور خوبی اپنے ماحول کے اثرات کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے ۔جیسے کوئی بیج زمین کے بغیر نہیں اگ سکتا ۔کسی بھی بیج سے صحیح استفادہ کے لئے یا اگانے کا مقصد حاصل کرنے کے لئے زمین یا زمین جیسے ماحول کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اسی طرح بدی یا نیکی جو نقائص یا خوبی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے وہ ماحول کے اثرات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے ۔ماحول ایک لازمی جز ہے ۔ادھر گرد کے اثرات نیکی یا بدی کے لئے خاص زمین تیار نہ کر دیں وہ بدی یا نیکی نشو نما نہیں پا سکتی ۔لیکن ماحول بھی دو قسم کے ہوتے ہیں ۔ضروری نہیں ہے کہ ہر ایک ماحول سب پر اثر کرے ۔ایک قسم کا ماحول افراد پر اثر ڈالتا ہے اور من حیث القوم ہر ایک کو متاثر نہیں کرتا ۔اس کی مثال ایسی زمین کی ہے جس میں خاص فصلیں اگ سکیں ۔مثلا زعفران ہے ہندوستان میں پیدا ہوتا ہے ۔بلکہ خطہ کشمیر میں ہوتا ہے ۔چاول کا کاروبا کرنے والے جانتے ہیں کہ کالر کے علاقہ میں ہوتا ہے کہ جس سے خوشبو آتی ہے مگر وہ کسی دوسرے خطہ میں نہیں ہوتا ۔ پھر زمین ہے دوسرے موسمی اثرات ہیں ۔اس کے مقابل پر بعض فصلیں ہیں جو ایک ملک میں تمام جگہ پر ہو جاتے ہیں ۔پیدوار میں کمی بیشی ہو سکتی ہے مگر اگ جاتے ہیں ۔اس طرح نیکی اور بدیاں بھی بعض اثرات کے تحت قومی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں ۔اور قوم کی تباہی کا موجب بن جاتی ہیں ۔افراد کی کمزوری تو دور ہو سکتی ہے بلکہ فردی خوبی پیدا بھی ہو سکتی ہے ۔لیکن جو قومی اثرات کے تحت بدیاں یا نیکیاں ہوں ان کے لئے کسی ایک فرد کی کوشش کار آمد ثابت نہیں ہو سکتی ۔فرد جزو ہے کل کا ۔اور جو خرابی کل میں ہو وہ جز کی اصلاح سے ٹھیک نہیں ہو سکتی ۔جو نیکی قومی ہو گی وہ سب پر اثر کرے گی ۔بہرحال یہی قائدہ ہے ۔اگر کل کو فائدہ ہو تو جزو کو بھی فائدہ ہوگا اور اگر نقصان ہو گا تو جزو کو بھی نقصان ہوگا۔پس افراد کی بدیاں تو علاج سے دور کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے ۔کسی کو خود احساس ہو جائے تو وہ خود بھی بدیاں دور کر سکتا ہے ۔لیکن قومی بدیوں کو دور کرنے کے لئے تمام قوم کو غور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔اگر وہ بحیثیت قوم کھڑی نہ ہو وہ بدیاں دور کرنے کی کوشش نہ کرے تو وہ اس قوم میں پیدا ہو جاتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے کہ قوم کو ہلاک کرنے کا باعث بن جاتے ہیں ۔جہاں یہ ضروری ہے کہ ہر ایک اپنے نفس کی کمزریوں کو دیکھے وہاں بحیثیت قوم بھی ضرروی ہے ۔اور ان کا علاج کریں ۔اور اس علاج میں ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔کیونکہ مشترکہ کوشش کے بغیر کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔دنیاوی قانون کو بھی اگر دیکھیں تو ذمہ دار بند باندھ کر سیلاب سے زمین کو نہیں بچا سکتا ۔مشترکہ کوشش حکومت کی طرف سے ہوتی ہے ۔حکومت نام ہے لوگوں کے جمع ہونے کا ۔اور جہاں حکومت نکمی ہو پوری قوم نقصان اٹھاتی ہے۔پاکستان میں ہوتا ہے ۔بعض قدرتی آفات سے بچا جا سکتا ہے ۔بعض آفات کے انے سے پہلے ان سے ہوشیار کرنے کے سامان ہو جاتے ہیں لیکن انسان اپنی لا پرواہی کی وجہ سے توجہ نہ دیتے ہوئے نقصان اٹھاتا ہے ۔اگر قوم اور حکومت کو اپنی زمہ داری کا احساس نہ رہے تو نقصان بہت بڑھ جاتا ہے ۔پس قومی احساس اصلاح کے لئے ضروری ہے ۔ جماعت کے حوالہ سے اس بارہ میں توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کس طرح غور کرنا چاہیے فرمایا : اگر جماعت بعض پہلوؤں سے اس پر غور کرے اور علاج کرے تو اس کا فائدہ ہو سکتا ہے ۔یہ ذرائع قومی امراض کی تشخیص کر سکتے ہیں ۔پہلا ذریعہ تعلیمات ہیں ۔اگر وہ بری باتیں ہیں تو اس کی وجہ سے برائی پیدا ہوتی ہے ۔اگر کسی مذہب میں غلط بات ہے تو اس سے ہر شخص متاثر ہوگا۔ہم مسلمان ہین قرآن کو خدا کا کلام سمجھتے ہیں اور یقین ہے کہ برے نتائج نہیں ہو سکتے ۔کوئی بدی پیدا نہیں ہو سکتی تعلیم بے عیب ہے برا نتیجہ نکل نہں سکتا ۔برائی نہیں آ سکتی ۔کیا تمام مسلمان برائیوں سے پاک ہیں۔جب جائزہ لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ مسلمان اکثریت تو برائی میں مبتلا ہے ۔پس اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ قرآن میں کوئی نقص نہیں ہے ۔خدا نے خود کہا اس میں کوئی نقص نہیں ہے ۔تعلیم مکمل ہے پھر بھی انسان میں برائی ہے تو کمی کہا ں ہے ۔جواب یہی ہے کہ سمجھنے میں غلطی ہے عمل میں غلطی ہے ۔یہ غلطیاں قرآن کے غلط سمجھنے کی وجہ سے ہو سکتی ہیں اور موجودہ علماء کے غلط سمجھنے کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہیں علماء کے اپنے نظریہ تھے یا ہیں یہ انفرادی نظریات ہیں ۔لیکن قوم یہ نہیں کہتی قوم ان علماء کی طرف دیکھتی ہے اس لئے ان کے پیچھے چلنے والے غلط نظریات کی وجہ سے اعلی تعلیم کے باوجود نقصان اٹھا رہے ہیں۔قوم میں برائی بھی پیدا ہو گئی ۔ماحول کا اثر ہو گیا تمدن کا اثر ہو گیا ۔نقائص پیدا ہوئے ۔اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود ؑ کی جماعت میں شامل ہیں اور ان پرانی روایات یا تفاسیر کا ہم پر اثر نہیں ہو سکتا اور نہ ہی ہونا چاہیے ۔لیکن پھر بھی ہم پوری طرح محفوظ نہیں ہیں اپنے نظریات رکھنے والے بھی جماعت میں ہیں ۔کیونکہ بعض مواقع پر وہ اپنا نظریہ رکھتے ہیں ۔اس لئے برائی سے بچنے کے لئے علماء کو بھی خلافت اور جماعتی نظام کے تحت ہی اپنے نظریات کا اظہار کرنا چاہیے ۔ہم عمومی طور پر ان غلط نظریات سے پاک ہیں ۔ان سے اپنے آپ کو صاف رکھنے کی ضرورت مستقل طور پر ہیں ۔اس اک طریقہ یہی ہے کہ ہم غیر احمدیوں پر نظر رکھیں اس پر نظر رکھ کر ہی ہم قومی نقائص سے بچ سکتے ہیں ۔ارد گرد جو مذاہب ہیں یا لوگ ہیں ۔ان میں کون کون سے قومی نقائص ہیں ۔اس دائرہ کو ساتھ کے ملکوں کے قومی نقائص تک بھی وسعت دینی چاہیے۔بچے جس ماحول میں رہتے ہیں اس کا بھی اثر ہوتا ہے ۔ماں باپ بے شک سکھائیں جہاں بھی کمزوری ہوتی ہے پھر بھی اثر ہو جاتا ہے ۔بچوں نے زیادہ وقت سکول میں یا کھیل میں گزارنا ہے ۔ایسے دوست ہیں جو سب پر اثر انداز ہو رہے ہیں اس کا نتیجہ ہے کہ بچے ماں باپ کی بات نہیں سنتے اور خود بچوں سے فاصلہ پیدا کرتے چلے جا رہے ہیں ۔اور کچھ ان ذریعوں سے خود ہی اپنے ماحول کو خراب کر رہے ہیں پھر نتیجہ اس کا یہ نکلتا ہے کہ ماں باپ بچوں پر ظلم کرنے لگ جاتے ہیں اور بچے عزت نہیں کرتے ۔اور یہ پھر فردی برائی نہیں رہتی بلکہ قومی برائی بنتی چلی جاتی ہے ۔ماں باپ بچوں کا روحانی قتل بھی کر رہے ہیں اور جسمانی بھی ۔اس سے پہلے کہ قومی برائی بنے ہمیں قوم کی حیثیت سے ان باتوں سے بچنے کے لئے تیز کوشش کی ضرورت ہے جماعت کے نظام کے تمام حصے اس بات کے غور کے لئے سر جوڑیں اور منصوبہ بندی کریں اور ابھی سے اس کو ختم کریں ۔اس سے پہلے کہ خدا نہ کرے کہ ہم میں سے ب بحیثیت قوم مغربی ممالک کی برائیاں پیدا ہو جائیں ۔ہم نے دنیا کے علاج کا ذمہ لیا ہے ۔اگر علاج کرنے والے ہی مریض بن گئے تو دنیا میں فردی یا قومی بدیاں برائیاں کون دور کرے گا۔کسی قو م میں مخصوص حالات میں برائی اور نیکی بھی پیدا ہو سکتی ہے ۔مثال یہ ہے کہ ہماری جماعت دور دور کے دلوں کو فتح کر رہا ہے ۔اور ساتھ ہی ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ غیر کے پیچھے نماز نہ پڑھو کیونکہ اس نے اس امام کو نہیں مانا بلکہ غلیظ زبان بھی استعمال کرتے ہیں ہم بندوں کے امام پر خدا کے امام کو ترجیح نہیں دے سکتے ۔اب عموما نماز سنٹر اور مساجد ہیں ۔جہاں احمدی باجماعت نماز پڑھ سکتے ہیں یا پڑھتے ہیں ۔گھر میں بھی با جماعت نماز پڑھ لیا کریں ۔بعض مصروفیت کی وجہ سے اپنی نماز الگ پڑھ لیتے ہیں ۔یہ ساری وجوہات اس لئے ہیں کہ مسجد جانے کی طرف توجہ نہیں یا قریب نہیں ۔ نماز پڑھ ہی لیتے ہیں مگر نماز باجماعت کی طرف عموما توجہ نہیں ہے یا نمازیں جمع کرنے کی طرف زیادہ توجہ ہو گئی ہے ۔بار بار توجہ دلانے کے نماز با جماعت کی طرف ذوق و شوق نہیں ہے ۔یہ فردی نقص نہیں ہے یہ قومی نقص بن رہا ہے ۔اور بن چکا ہے ۔حالات کی وجہ سے سہولت نے نماز با جماعت کو کم کر دیا ہے ۔بیشک گھروں میں پڑھتے ہیں بہت سے ایسے بھی ہیں جو گریہ و زاری سے گڑگڑا کر پڑھتے ہیں ۔دوسرے غیر احمدی چاہے ظاہر داری ہو مسجد میں جا کر نماز پڑھتے ہیں ۔نمازیں توجہ سے پڑھتے ہیں یا نہیں مگر جاتے ضرور ہیں ۔لیکن ایک چیز ہے کہ مسجد میں جاتے ہیں ۔ہم نے مسجد میں جانا ہے تو برائیوں کو دور کرنے جانا ہے اور ان کو توجہ ہے مگر ہماری اس طرف توجہ میں بہت کمی ہے ۔ہم کو اس طرف توجہ دینی چاہیے کہ مسجدوں کو آباد حقیقی مومنوں نے کرنا ہے حقیقی مومن وہی ہے جس نے زمانہ کے امام کو مانا ہے ۔من حیث القوم نماز مسجد میں جا کر نہ پڑھنے کا مزید خطرہ یا امکان بڑھ جاتا ہے کہ بچوں کے ذہنوں میں اس کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے بعض بچے ماں باپ کی حالت دیکھ کر کہتے ہیں کہ دن میں تین ہوتی ہیں ۔پس اس بارہ میں ہر جگہ توجہ کی ضرورت ہے ۔نہیں تو اگلی نسل میں قومی برائی بن جائے گی ۔ہم کو وسیع تر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔ہم نے شدت کے ساتھ کوشش نہ کی تو اور برائیاں بھی آتی جائیں گی ۔دین نام کا رہ جائے گا۔ کوئی وباء پھوٹے ہم کوشش کرتے ہیں تو روحانی بیماری کے لئے کس قدر کوشش کی ضرورت ہے ۔ہم کو اپنی اصلاح کے بعد مستقل طور پر گمراہی سے بچنے کے لئے بہت زیادہ کوشش کی ضرورت ہے ۔ہم کو غور کرتے رہنا چاہیے کہ کہاں کہاں دوسرے لوگوں میں نقائص پیدا ہوئے اور ہم نے ان سے بچنا ہے ۔حضور ؑ کی تعلیم پر عمل کرنا بھی بہت ضروری ہے ۔خلافت کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ۔اس زمانہ میں جماعتی ویب سائیٹ اور ایم ٹی اے کے ساتھ منسلک رہنے کی بہت ضرورت ہے ۔اس سے ہم کو حقیقی قرآنی تعلیم اور مسیح موعود ؑ کے عرفان کا پتہ چلتا ہے ۔اس کے ساتھ جڑے رہنے کی ضرورت ہے ۔یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مسلمانوں کو قرآن کریم جیسی کتاب ملی پھر بھی ان میں غلطیاں پیدا ہو گئی ۔جو قومی بدی پیدا کرنے کا باعث بنی وہ ان کا یقین تھا کہ یہ مکمل کتاب ہے اور اول سے اخر تک ہدایت کا موجب ہے ۔ان باتوں سے بظاہر تو لگتا ہے کہ قرآن کریم کی خوبی کو عیب بتایا جا رہا ہے مگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ دراصل ہے خوبی مگر اس کو غلط طور پر سمجھنے کی وجہ سے مسلمانوں میں بہت بڑا عیب پیدا ہو گیا ۔کوئی شک کی بات نہیں ہے کہ قرآن مکمل کتاب ہے اور قیامت تک ہدایت ہے ۔مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ جو انسانی دماغ کا خالق ہے وہ جانتا تھا کہ سوچنے کی عادت نہ ڈالی جائے تو یہ مردہ ہو جاتا ہے اس میں ترقی کی کیفیت باقی نہیں رہتی ۔ہر حکم جو دیا اس کا ایک حصہ انسانی دماغ کے لئے چھوڑ دیا ۔کچھ احکام واضح ہیں کچھ پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس لئے قرآن کریم ایسے الفاظ اور عبارت میں نازل کیا گیا ہے کہ ان پر غور کر کے معارف پر اطلاع ہوتی ہے ۔ورنہ سب کو یکساں فائدہ دینا مقصود ہوتا تو کھلا کھلا کلام ہوتا ۔الہی منشاء یہی ہے کہ انسانی دماغ معطل یا بیکار نہ ہو ۔اصول و ضوابط ہیں ۔اس کی راہنمائی کے لئے مسیح موعود ؑ نے بہت سے اصول بتا دئے ہیں اور تفسیر کر دی ہے اس کے مطابق قرآن کریم کے نئے نئے نقات تلاش کرنے چاہیں ۔اگر پرانی تفسیرون سے لگے رہے تو معارف نہیں کھلیں گے ۔آج کل بڑے مفسر جو علماء بنتے ہیں جو جماعتی تفاسیر پڑھ کر درس دیتے ہیں ۔قرآ ن کریم کامل اور مکمل کتاب ہے لیکن اس کو پڑھ کر غور کرنے والے اور اس کی تعلیم کے مطابق عمل کرنے والے کو ہی ہدایت ملتی ہے ۔جہالت کی وجہ سے اسلام کی خوبیاں دکھانے کی بجائے بدنام کر رہے ہیں ۔ان نام نہاد مسلمانوں کی وجہ سے ہم کو ہر برائی کو قومی برائی بننے سے پہلے دور کرنا ہے اور ہر نیکی کو قومی نیکی بنا کر پوری جماعت میں رائج کرنا ہے ۔ہمیشہ ایسا ماحول پیدا کرنے والے ہوں جس سے بدیاں نہ پھیلیں ۔اللہ تعالیٰ ہم کو اس کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین ۔آج نماز کے بعد حضور انور ایدہ اللہ نے دو حاضر جنازے پڑھائے اور دو غیب نماز ہائے جنازہ تھے
No comments:
Post a Comment