
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ خطبہ جمعہ22مئی 2015 بیت الفتوح لندن(تیار کردہ : یاسر احمد ناصر مربی سلسلہ ) ( تشہد و سورة الحمدللہ کے بعد حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں طن سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے حکم دیتا ہے کہ اکثر فساد بد ظن سے ہوتے ہیں ۔بد ظنی بہت بری ہے بہت نیکیوں سے محروم کر دیتی ہے اور پھر انسان خدا پر بد ظنی شروع کر دیتا ہے ۔ باطن پر ہم کی نگاہ نہیں اور اس پر نظر کرنا گناہ ہے ۔انسان ایک خیال کو بد خیال کرتا ہے اور آپ اس سے بد تر ہوتا ہے ۔سوء ظن جلدی کرنا اچھا نہیں ہے ۔یہ سوچنا کہ دل کی بات کو جانتے ہیں یہ نازک معاملہ ہے اس سے قومیں تباہ ہوئی کیونکہ انہوں نے بد ظنی انبیاء پر کی ۔ایسے ہی بد ظنی کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں : مجھے اللہ تعالیٰ نے خلیفہ بنایا ہے اور اسی نے اپنی تائید و نصرت کو ہمیشہ میرے ساتھ رکھا اور سوائے ایک نا بینا اور مادر ذات اندھا کے کوئی نہیں جو انکار کر سکے کہ خدا نے ہمیشہ آسمان سے میری مدد کے لئے فرشتے نازل کئے ۔پس تم اب بھی اعتراض کر کے دیکھ لو تمہیں معلوم ہو جائے گا اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے ۔یہ اعتراض مسیح موعود ؑ پر بھی کیا گیا ۔چندہ دینے پر ایک شخص کو فرمایا کہ تم پر حرام ہے کہ ایک پیسہ بھی بھیجو جو چندہ دو پھر دیکھو کہ سلسلہ کس طرح ترقی کرتا ہے ۔میں کہتا ہوں اگر تم میں ذرا بھی شرافت ہو تو ایک پیسہ بھی نہ دو پھر بھی سلسلہ چلے گا اور غیب سے مخلص کو الہام کرے گا اور سلسلہ کے لئے اپنے اموال خرچ کرنا فخر سمجھیں گے ۔پھر فرمایا کہ مقبرہ میں داخل ہونے کے بارہ میں میرے بچوں پر استثناء رکھا ہے ۔جو اعتراض کرے گا وہ منافق ہے ۔اگر ہم لوگوں کا پیسہ کھانے والے ہوتے تو کیوں ہم کو بغیر وصیت کے مقبرہ بہشتی کے داخل کرتا جو ہم پر حملہ کرتا ہے وہ مسیح موعود ؑ پر حملہ کرتا ہے اور جو ان پر کرتا ہے وہ خدا پر حملہ کرتا ہے ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :حضور ؓ فرماتے ہیں منافق پوشیدہ باتوں کرنے کا عادی ہوتا ہے اسلئے کھلا بتا دوں مجھے شرم آتی ہے کہ چندہ دے کر بتاؤں اتنا چندہ دیا ۔(اس زمانہ میں بہت اعتراضات کا جواب دیا ) جس نے اعتراض کیا کہ ہم نے رقم کھا لی میں نے اور میرے اہل عیال نے جو رقم دی ہے وہ پانچ گنا زیادہ ہے ۔حضور فرماتے ہیں کہ ہر زمانہ میں یہ لوگ اعتراض کرتے ہیں ۔حضور ؑ نے فرمایا میں اپنی نذروں کا روپیہ بھی لنگر کے لئے خرچ کرتا ہوں ۔فرمایا اور انجمن کے سپرد کر دوں لنگر کا انتظام تو کبھی یہ پورہ نہ کر سکیں گے ۔اب جو کشائش ہے جماعت کو یہ بھی مسیح موعود ؑ کی دعاؤں اور اللہ کے وعدوں کا نتیجہ ہے ۔آج مسیح موعود ؑ کا لنگر بھی دنیا میں ہر جگہ چل رہا ہے ۔پھر ایک واقعہ کا ذکر جس کا تعلق روحانیت کے ساتھ ہے ۔انبیاء کے زمانہ میں جماعت کی حالت اور بعد کی حالت کا ذکر ہے وہ بیان کرتا ہوں ۔انبیاء روحانی ترقی کے لئے آتے ہیں ۔روحانی مقام کے لحاظ سے نبی کا زمانہ جو ہوتا ہے وہ بعد میں نہیں ہو سکتا ۔بعد میں دنیاوی ترقی بھی ملتی ہے مگر روحانیت میں کمی ہو جاتی ہے ۔اس بات کی وضاحت حضور ؓ نے فرمائی ہے ۔آپ ؓ نے واقعہ بیان فرمایا : فرماتے ہیں کہ نبی کی وفات کے بعد روحانی لحاظ سے رات ہوتی ہے لیکن جسمانی لحاظ سے نبی کی وفات طلوع آفتاب ہوتی ہے ۔ایسا ہی رسول کریم ﷺ،موسی ؑ کے زمانہ میں ہوا ایسا یہ اب مسیح موعود ؑؑ کے زمانہ میں ہوا ۔آخری جلسہ میں 700 لوگ تھے ۔اور اس وقت فرمایا ریتی چھلہ میں لوگوں کی کثرت کو دیکھ کر فرمایا ۔معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا کام ختم ہو چکا ہے ۔اب غلبہ کے آثار ظاہر ہو چکے ہیں ۔پھر بار بار احمدیت کی ترقی کا ذکر کرتے کہ ہمارے جلسہ میں 700 لوگ آگئے ہیں ۔یہ اتنی بڑی کامیابی ہے میں سمجھتا ہوں وہ کام پورا ہو چکا ہے ۔اب احمدیت کو کوئی مٹا نہیں سکتا ۔(اب دنیا میں احمدیت پہنچ چکی ہے ) حضور ؓ نے فرمایا کہ جب کثرت سے مہمان آئے تو خطرہ پیدا ہوا کہ اب ایک آدمی بھی سارا خرچ اٹھا سکتا ہے ۔جب مہمانوں کی کثرت ہوئی تو والدہ سے فرمایا بہت مہمان ہیں اب روپیہ کی صورت نظر نہیں آتی قرض لے لیا جائے ۔جب ظہر کی نماز سے واپس آئے تو مسکرا رہے تھے اور پھر والدہ سے فرمایا انسان باوجود خدا کے نشان دیکھنے کے بد ظنی کر لیتا ہے ۔میں نے خیال کیا تو پیسے نہیں ۔جب نماز کے لئے گیا تو میلے کچیلے انسان نے ایک پھوٹلی دے دی ۔کچھ پیسے ہونگے ۔مگر جب گھر آ کر اس کو کھولا تو اس میں سے کئی سو روپیہ نکل آیا ۔اب دیکھو وہ روپیہ اب کے زمانہ سے کیا ہوگا ۔اب اگر کسی کو کہا جائے کہ اس زمانہ کا ایک دن دیکھ لو مگر ایک دن کا خرچ اٹھاؤ مگر وہ کہے گا ایک سال کا خرچ لے لو ۔فرمایا : میں نے قرآن کریم پر ایک جھوٹا سا نوٹ تحریر کیا میں نے سلام پر نوٹ لکھا ہے کہ اس رات میں سلامتی ہی سلامتی ہے ۔ آہ مسیح موعود ؑ کا وقت اس وقت تھوڑے تھے مگر امن تھا بعد میں اللہ تعالیٰ نے بڑی ترقیات دیں ہیں مگر یہ ترقیات اس زمانہ کا کہاں مقابلہ کر سکتی ہیں جو مسیح موعود ؑ کا زمانہ تھا ۔( اب جماعت مالی لحاظ سے زیادہ مضبوط ہے ۔بڑے بڑے لوگ ہماری بات سنتے ہیں ۔آج ایک ایک آدمی کا چندہ اتنا ہے جتنا دو سال میں بھی نہ آتا تھا ۔مگر اس کے باوجود اس زمانہ سے اس کو بہتر نہیں کہا جاسکتا ۔لیکن اس کے باوجود ہم حضرت مسیح موعود ؑ کی دعاؤں کے وارث بن سکتے ہیں اگر ہمارے اندر یہ جذبہ اور جوش پیدا ہو جائے کہ آپ کے مشن کی تکمیل میں خلوص و وفا سے کام کرنا ہے اور روحانیت میں ترقی کرنی ہے ۔جو صحابہ میں پیدا کی ) فرمایا : بعض اور حوالہ بھی ہیں مصلح موعود ؓ کے جو مسیح موعود ؑ کی سیرت پر دلالت کرتے ہیںٰ ۔ عشق صحابہ ؓ کا تذکرہ ۔ہم نے آپؑ کو دیکھا جو آپ سے لوگوں کو محبت تھی اس کا اندازہ بعد میں آنے والے نہیں کر سکتے ۔مگر مجھے ایسا دل دیا تھا کہ پچپن سے ہی باتوں کی طرف متوجہ تھا ۔میں نے ان کی محبت کا اندازہ لگایا ہے میں نے سالہا سال ان کے بارہ میں دیکھا ہے کہ ان کو جدائی کی وجہ سے کوئی لطف نہ آتا تھا ۔حضرت خلیفہ اول ؓ جو بہت حوصلہ والے تھے ۔وہ غم و فکروں کو ظاہر نہ ہونے دیتے تھے مگر کئی دفعہ مجھے کہا میاں جب سے حضرت صاحب فوت ہوئے ہیں مجھے اپنا جسم خالی محسوس ہوتا ہے ۔آپ کے علاوہ کئی اور لوگوں کو بھی دیکھا جو صحبت سے فیض یاب ہوئے کہ محبت و عشق بہت بڑھ ہوا تھا ۔وہ کہتے ہیں کہ کاش ہماری جان نکل جائے اور ہم مسیح موعود ؑ سے جا ملیں ۔ پھر جماعتی کارکن کو نصیحت کرتے ہوئے جہاں مہنگائی کرتے ہوئے فرمایا کہ خدا سے مانگیں کہ انجمن پر نظر ہو کسی کی ۔فرمایا : حضرت مسیح موعود ؑ کو بھی بہت سردی محسوس ہوتی تھی اس لئے مشک کھاتے تھے ۔جیب میں رکھ لیتے تھے ۔فرمایا کرتے تھے ایک شیشی دو دو سال تک چلتی ہے لیکن جب خیال آتا ہے تو مشک کم ہے تو شیشی دیکھتا ہوں تو ختم ہو جاتی ہے ۔پس اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو غیب سے رزق بھیجتا ہے اس کے رزق کے طریقہ نرالے ہیں ۔تم اس سے مانگو جس کا خزانہ کم نہیں ہوتا ۔تم خدا سے مانگو تم خدا پرست ہو جاؤ تم اس سے مانگو وہ غیب سے رزق بھیج دے گا۔صدر انجمن کے پاس اتنا رپیہ نہیں کہ تمہیں گزارہ دے سکے ۔( مہنگائی بہت زیادہ ہے کارکنوں کے آلاؤنس ہے کم ہیں جو زیادہ سے زیادہ گنجائش کی سہولت دی جا سکتی ہے دی جاتی ہے ۔ایسے لوگوں کو ان کی طرف دیکھنا چاہیے جن کو بچوں کے علاج کی بھی توفیق نہیں ہوتی ۔اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنے کی زیادہ ضرورت ہے بجائے اس کے ادھر ادھر دیکھا جائے ) حضرت مسیح موعود ؑ کی پیشگوئیوں کےذکر میں ایک پیشگوئی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : بہت سی بعد میں پوری ہوئی ہیں مثلا میرے متعلق ہی پیشگوئی تھی کہ وہ صاحب شکوہ و دولت ہوگا ۔آپ نے انعامی چیلنج کے وقت 10000 کی تھی اب لاکھوں کی ہو چکی ہے یہ کہاں سے آئی ہے یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے ۔ورنہ مجھے یاد ہے کہ وفات کے بعد زمینوں کے کاغذات واپس کئے تو میں اپنے آپ کو اتنا بے بس محسوس کرتا کہ حیران تھا کیا کروں ۔تب شیخ نور صاحب میرے پاس آئے مجھے ملازم رکھ لیں ۔میں نے کہا میں تنخواہ کہاں سے دونگا ۔تب انہوں نے کہا مجھے دس روپیہ مہوار دے دیا کریں ۔لیکن بعد میں ایسا فضل کیا کہ جائیداد کی قیمت بھی بڑھتی چلی گئی جب قرآن کریم کے پہلے ترجمہ کے چھپوانے کا سوال ہوا تو میں نے چاہا کہ اس ترجمہ کی اشاعت کا سارا خرچ خاندان ہی برداشت کرے اور اس وقت شیخ نور صاحب کو بلوایا تو دو ہزار کی ضرورت ہے کیا مہیا ہو سکتا ہے ۔کچھ زمین فروخت کرنے کی اجازت دی یہ زمین پچاس کنال تھی ۔تھوڑی دیر کے بعد شیخ صاحب آئے اور تھیلی دی اور کہا کہ دس ہزار کی ضرورت ہو تو وہ بھی مل سکتا ہے ۔مجھے اتنے ہی ضرورت ہے ۔اس طرح دارالفضل کی بنیا د پڑی اور وہ روپیہ اشاعت قرآن میں دے دیا گیا ۔ قادیان سے محبت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : جن مقاموں کے ساتھ خدا تعالیٰ کا تعلق ہوتا ہے وہ متبرک بنا دئے جاتے ہیں ۔اس جگہ سے اس کو محبت تھی ۔ایک موقع پر لاہور گئے ہیں تو فرمایا ایک دن مجھے مکان میں بلا کر فرمایا کہ محمود یہ دھوپ کیسی زرد سے معلوم ہوتی ہے ۔میں نے کہا ہر رو ز کی طرح کی ہے ۔یہاں کی دھوپ کچھ زرد اور مدھم سی ہے قادیان کی دھوپ بہت صاف ہوتی ہے ۔یہ قادیان سے الفت کا پتہ دیتی ہے۔ پھر اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جو گھوڑ سواری کے بارہ میں ہے ۔فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ وفات سے پہلے گھوڑی دی ۔میں نے لڑکوں کو سواری کرتے دیکھا تو دل میں شوق ہوا تو آپ ؑ کو بتایا تو آپ ؑ نے فرمایا مجھے سائیکل کی سواری پسند نہیں میں گھوڑا کی سواری کو پسند کرتا ہوں ۔مضبوط اور طاقتور گھوڑا پسند ہے ۔پھر کپور تھلہ والوں کو لکھا کہ گھوڑا خرید کر بھیجوا دیں اور قیمت نہ لی ۔آپ کی وفات کا اثر میرے اخراجات پر بھی پڑتا تھا ۔میں نے سوچا کہ اس کو فروخت کر دوں ۔تا کہ اخراجات کا بوجھ والدہ صاحبہ پر نہ پڑے ۔یہ تحفہ مسیح موعود ؑ کا ہے اس کو فروخت نہ کریں ۔جس جگہ یہ بات کہی گئی مجھے جب یہ کہا گیا تو بغیر سوچے سمجھے میرے منہ سے نکلے بیشک یہ تحفہ مسیح موعود ؑ کا ہے اس سے بھی بڑھا تحفہ حضرت ام المومنین ؓ ہیں ۔پھر مسیح موعود ؑ کی وفات اور اپنی حالت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب حضور ؑفوت ہوئے تو سمجھا جاتا تھا کہ اچانک فوت ہو گئے ہیں ۔میں نے دیکھا کہ بہشتی مقبرہ سے کشتی میں آرہا ہوں پانی زور کا تھا سب ڈرنے لگے اور تب پانی سے ہاتھ نکلا اور تحریر تھی کہ یہاں پیر صاحب کی قبر ہے ان سے درخواست کرو تو اس سے نکل جائے گی ۔پھر کسی نے لکھ کر پانی میں ڈال دیا اور میں نے وہ پانی سے تحریر نکال لی اور تبھی پانی سکوت میں آگیا ۔جب وفات ہوئی تو میں بہت مضبوط ہو گیا تبھی ایک عہد کیا کہ میں اس کام کو کرتا رہوں گا ۔ جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تکلیف میں گھبرانا نہیں چاہیے بعض کہتے تھے آپ ؑ کی وفات بے وقت ہے ۔تب میں 19 سال کا تھا جب میں نے یہ سنا اور خدا تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے دعا کی اے خدا یہ تیرا محبوب تھا جب تک زندہ رہا اس نے بہت قربانیاں کیں ۔اب تم نے بلا لیا ہے ممکن ہے یہ باتیں ٹھوکر کا موجب ہوں اور جماعت کا شیرازہ بکھر جائے تو میں عہد کرتا ہوں کہ اگر ساری جماعت پھر جائے تو میں جان لڑا دونگا ۔یہی ایک چیز تھی جس نے 19 سال کی عمر میں ایک ایسی آگ لگا دی کہ مسیح موعود ؑ کا مقصد ہی اس کو پورا کرنا تھا ۔جو شخص یہ عہد کر لے کہ یہ کام میں نے کرنا ہے تو سب روکیں ہٹا دی جاتی ہیں ۔پس جماعت کے لئے نصیحت ہے کہ ہر فرد کو یہ عہد کر لینا چاہیے کہ دین کا کام میں نے ہی کرنا ہے اور اس عہد سے بیداری پیدا ہو گی اور مشکل آسان ہو جائے گی عسر یسر بن جائے گا تکلیف بھی ہوگی مگر راحت محسوس کریں گے ۔ پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور جماعتی ترقی کے بارہ میں مصلح موعود ؓ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے مجھے عہد کو پورا کرنے کی توفیق دی اور آپ ؑ کا پیغام دنیا تک پہنچانے کے لئے اپنی زندگی وقف کر دی اور ہزاروں درود و سلام محمد ﷺ پر بھیجنا شروع ہو گئے ہیں مگر یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اڑھائی ارب کو خدا کا پیغام پہنچانا ہے کہ اسلام کا پیغام پہنچانا ہے اور یہ جماعت احمدیہ کا کام ہے ۔یہ بہت بڑا کام ہے اور بھاری بوجھ ہے ۔اتنے اہم کام میں اللہ کی نصرت کے سوا ہماری کامیابی کی کوئی صورت نہیں ہو سکتی ۔اس کے عاجز اور حقیر بندے ہیں ۔پس اس کے فضلوں کو جذب کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔یہ عہد کا جو ہم سب کا عہد ہونا چاہیے یہ خدا تعالیٰ سے عہد ہے ۔یا اللہ اگر تمام دنیا بھی تم کو چھوڑ دے ہم تم کو نہیں چھوڑیں گے ۔آج اس عہد کو نئے سرے سے کرنے کی ضرورت ہے اور نبھانے کی ضرورت ہے ہم میں سے ہر ایک کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم شرک سے دور رہے گے اور مشن مسیح موعود ؑ کی تکمیل کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے اور محمد ﷺ کا جھنڈا دنیا میں لہرانے کی پوری کوشش کریں گے ۔ اللہ تعالیٰ ہم کو اس کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
No comments:
Post a Comment