
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ اختتامی خطاب بر موقع جلسہ سالانہ یوکے 2015(مرتب کردہ : یاسر احمد ناصر مربی سلسلہ ) تشہد و سورة الحمدللہ اور آیت کریمہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا :آج دنیا کے فساد نے ہر امن پسند فساد کو پریشان کیا ہوا ہے ۔ہر وہ انسان جو انسانیت کی ہمدردی رکھتا ہے وہ حیران و پریشان ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے ۔لکھنے والے یہ لکھتے ہیں کہ اسلامی دنیا میں فساد زیادہ ہے اور مسلمان اس میں لگے ہیں اور نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ اسلام نعوذباللہ فساد کی جڑھ ہے ۔مغربی دنیا یہ ہی سمجھتی تھی ۔اور یہ مشرقی ممالک تک یہ فساد رہے گا ۔بعض بڑی طاقتوں یا مذہب مخالف قوتوں کو وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ مسلم ممالک کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ شدت پسندی دہشت گردی کا رحجان اب یہ ہر طرف مغربی دنیا کے لئے بھی خطرہ بن رہا ہے ۔میں گزشتہ چند سالوں سے یہ توجہ دلا رہا ہوں کہ دنیا ایک فساد کی حالت میں ہے ۔ آج ہم اس کو محدود علاقہ میں ہی سمجھ رہے ہیں ۔میری باتوں پر اکثریت اخلاقا ہاں کہتے تھے مگر بعد میں یہ ہی کہتے تھے کہ ترقی یافتہ دنیا کے لئے یہ حالات نہیں ہو رہے ۔لیکن آج دنیا کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے کہنے لگ گئے ہیں کہ اس فساد سے اب ترقی یافتہ دنیا بھی محفوظ نہیں ہے ۔آج وزراء اور اخبارات یہ بتا رہے ہیں کہ فساد دنیا میں پھیل رہا ہے ۔اور اس کی انتہاء ایک مسلمانوں کے مذہبی گروہ کی وجہ سے ہو رہی ہے ۔لیکن یہ مذہب کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :لوگ کہتے ہیں کہ مذہب سے دوری میں اس فساد کا حل ہے ۔جب کہ یہ غلط ہے ۔خدا تعالیٰ کو بھلا دینے کی وجہ سے فساد میں مبتلا ہے یا پھر تعلیم کو غلط سمجھ کر استعمال کیا گیا ہے اپنے مفادات کے حصول کے لئے خدا کا نام استعمال کرنے کی وجہ سے ہے یا پھر خدا کی ذات پر استہزا کرتے ہوئے حدوں کو پھلانگنے کی وجہ سے ہے ۔خدا کا خوف دلوں سے نکلنا بھی فساد کی ایک جگہ ہے ۔اور اپنے نظریات کو ہر ایک چیز پر بالا سمجھنے کی وجہ سے بھی فساد پھیلتا ہے ۔خدا کے نظام کو اپنے نظام سے کم تر سمجھتا ہے ۔ہم تو اس کتاب پر یقین رکھتے ہیں جو چودہ سو سال سے محفوظ ہے اور جس کی تعلیم ہر ایک زمانہ کے لئے مکمل ضابطہ حیات ہے ۔اور وہ خدا تعالیٰ عالم الغیب و الشھادہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے اس کو کیا ضرورت ہے کہ وہ انسانوں کے پیچھے چلے ۔مذہن انسان کو پیچھے چلانے آتا ہے نہ کہ کسی کے پیچھے چلنے ۔آج اسلام اور قرآن ہر زمانہ کے لئے راہنما ہے بشرطیکہ اس کو سمجھنے کی صلاحیتیں ہوں ۔حقوق غصب مذہب نہیں بلکہ مذہب کے نام پر دھوکہ دینے والے کر رہے ہیں َ۔آج کا فساد مذہب نہیں بلکہ مفاد پرست کر رہے ہیں ۔آج کی سب باتیں جو ہو رہی ہیں انسان کو اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے اور الہام کے انکار کی وجہ سے ہیں ۔قرآن نے بھی کہا زمین فساد سے تمہاری حرکتوں کی وجہ سے بھر گئی ۔پس انسان کے پیدا کردہ اس فساد کی وجہ سے جس سے کوئی باہر نہیں ہے سب اس میں گرے ہوئے ہیں ایسے حالات میں ظاہر ہے کہ انسان خدا کی طرف جائے گا اور ثواب پائے گا۔انبیاء دنیا میں سیدھے راستے کو دکھانے کے لئے بھیجے جاتے ہیں ۔خدا تعالیٰ بندوں کو آگ سے گرنے سے بچانے اور انعامات سے نوازنے کے لئے اپنے نبیوں کو بھیجتا ہے ۔اس بارہ میں حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں : اس وقت لوگ روحانی پانی کو چاہتے ہیں زمین مر چکی ہے یہ زمانہ فساد کا ہو چکا ہے جنگل اور سمندر بٹک چکے ہیں ۔ہر ایک طبقہ میں فساد ہو گیا ہے دنیا کی حالت بدل گئی ہے روحانی باقی نہیں رہی نہ اس کی تاثیر نظر آتی ہے ۔دنیا کو سیدھا راستہ دکھانے کے لئے اپنے فرستادے بھیجتا ہے اور اس زمانہ میں بھی حضرت مسیح موعود ؑ کو بھیجا ہے ۔دنیا جس کو پانی سمجھ کر بھاگ رہی ہے وہ سراب ہے ۔حقیقی پانی وہ ہے جس کو خدا تعالیٰ نے اتارا ہے ۔بجائے اس کے کہ دنیا اس سے پانی پیئے اور روشنی لے گندے پانی کو پی رہے ہیں اور گندے پانی کو پی رہے ہیں ۔دوسرے مذاہب کے لوگ بھی حق کو شناخت کرنے کی بجائے اس سے دور ہو رہے ہیں اور اس کی وجہ سے آج دنیا مذہب سے ہی دور ہو رہی ہے اور خدا کے وجود سے ہی انکاری ہے ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :مسلمان مانتے تو ہیں خدا کو مگر ان کی عملی حالت میں بہت فرق ہے ۔یہ حقیقت ہے اور مسلمان دنیا میں فساد مذہب خدا اور رسول کے نام پر دہشت گردی دنیا کے سامنے ہے اور حکومت کا رایا پر ظلم اور رایا کا باغیانہ رویہ سب اس بات کا واضح ثبوت ہے ۔اور رسول کریم ﷺ کا قول سو فیصد پورا ہوتا ہے کہ علماء کے پاس سے فتنوں کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا ۔جب علماء جاہل ہونگے اور اپنے مطلب کے فتوے دیں گے تو پھر عام مسلمان کی کیا حالت ہوگی ۔علماء نے اپنے مفاد کے لئے اسلامی تعلیم کو ایسا کر دیا ہے کہ دوسرے حقوق کو غصب کرنا حق بن گیا ہے ۔پاکستان میں عام ہے یہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں ان کا مال لوٹنا جائز ہے ۔آپس میں بھی مختلف فرقوں میں تفرقہ ڈالے ہوئے ہیں ۔اور ان کے درمیان دشمنیاں ہیں ۔یہ اس بات کی دلیل ہے یہ فساد کی حالت مسلمانوں میں ہے اور اللہ کی رحمانیت کا تقاضہ تھا کہ کسی کو بھیجتا اور اس نے اپنی سنت اور وعدہ کے مطابق بھیجا ۔مگر علماء نے اس کی تائید کرتے اس کی مخالفت کرتے ہوئے انہوں نے زمانہ کو بھی مخالفت میں بڑھا دیا اور فتنہ و فساد پیدا کر دیا۔مغربی طاقتیں ایک طرف مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی اور فتنہ و فساد ختم کرنے کے لئے کہتے ہیں اور اسلام کو برا نہیں کہتے ہیں دوسری طرف یہ بھی کہتے ہیں کہ اسلام دہشت گردی پھیلاتا ہے۔ایک ہی وقت میں دو باتیں کہہ کر اسلام مخالف طاقتوں کو بھی خوش کرنا چاہتے ہیں اور مسلمانوں کو بھی خوش کرنا چاہتے ہیں ۔ہم ان کو بتاتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم امن و صلح کی تعلیم ہے جس کا کوئی دوسری تعلیم مقابلہ نہیں کر سکتی ۔مسلمانوں کے خلاف بولنے والوں کو ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے یہ باتیں کر کے مزید مسلمانوں کو بھڑکاتے ہیں ۔امن قائم کرنے کے لئے مذہب پر الزام سے کام نہیں ہوگا بلکہ مذہب کو ایک طرف کر کے ظلم کے خلاف کاروائی کر کے یہ کام ہوگا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : پس یہ لوگ جو بڑی طاقتوں سے تعلق رکھنے والے ہیں ان کو بھی اپنی حکمت عملی کو انصاف کرنے کی ضرورت ہے ۔بڑی طاقتیں صرف طاقت کے زعم میں نہ رہیں اگر امن قائم کرنا ہے تو اپنے رویہ بدلنے ہونگے ورنہ یاد رکھیں تمام دنیا فساد کی لپیٹ میں اور شدت سے آئے گی اسی طرح مسلمانوں کو بھی خدا کی آواز کو سننا ہوگا ۔اللہ تعالیٰ آپ سے کیا چاہتا ہے ۔وہ چاہتا ہے کہ اس کے بھیجے ہوئے کی طرف نظر کریں ۔اگر یہ ہوگا تو مسلم امہ امت واحدہ بنے گی اور غیر طاقتو ں سے آزادی ملے گی ۔ہم کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ مغربی اور دنیاوی تعلیم امن و سلامتی کی ضامن نہیں ہے ۔بلکہ دنیا کے امن کی ضامن اسلام کی تعلیم ہے ۔جو کسی نے پیش نہیں کی ہے ۔اسلام کی خوبصورت تعلیم ہی امن کی علمبردار ہے ۔پس ہر مسلمان کو اس بات پر غور کرنا چاہیے صرف دفاعی رنگ اختیار کرنے کی بجائے اس تعلیم کو دنیا کے سامنے رکھیں ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :آج وہ تعلیم کی کچھ روشنی بیان کرونگا جو چودہ سو سال پہلے ان پر اتری تھی ۔بعد کے علماء کے ذاتی مفادات نے اس تعلیم پر پردہ ڈال دیا میں یہ بھی مانتا ہوں پس اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود ؑ کو بھیجا جنہوں نے اس خوبصورت تعلیم سے روشناس کروایا ۔آپ ؑ نے فرمایا میری آمد کے دو مقاصد ہیں ایک بندہ کو خدا سے ملانا اور اس کا حق ادا کروانا دوسرا بندوں کے حقوق ادا کرنے والا بنانا۔اس زمانہ میں بھی اللہ کے فرستادہ نے کس طرح ہر دو قسم کے حقوق کی ادائیگی کے لئے اس آیت سے راہنمائی لی ۔فرمایا : دو بڑے حکم ہیں ایک توحید باری اور دوسرا ہمدری اپنے بھائیوں کی ۔ان کو تین درجہ پر تقسیم کیا ہے ۔عدل ،احسان ،اور ایتاء القربی ۔خدا کی عبادت میں عدل کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ۔اگر تم نے یہ کر لیا تو یہ عدل ہے اس کے بعد ترقی کرنا چاہو احسان کا درجہ ہے اس کی عظمت کے ایسے قائل ہو جاؤ گویا تم نے اس کی عظمت اور حسن کو دیکھ لیا ہے ۔پھر بعد اس کے تیسرا درجہ ہے وہ یہ ہے کہ تمہاری عبادت اور محبت ہر قسم کا تصنع دور ہو جائے اور ایسے یاد کرو جیسے تم اپنے باپ کو یاد کرتے ہو ۔بچہ اپنی ماں سے محبت رکھتا ہے ۔اور دوسری طور پر بنی نوح سے ۔بھائیوں اور بنی نوح سے عدل کرو اور حقوق سے زیادہ ان سے کچھ نہ لو ۔دوسرا پھر احسان کرو ۔کچھ عدل سے زیادہ دے دو ۔بدی کے مقابلہ میں بھی نیکی کرو ۔تکلیف کے بدل میں راحت دے ۔پھر تیسرا ایتاء ذی القربی کا ۔خیر خواہی بنی نوع کے ساتھ کسی سے کوئی غرض نہ ہو ۔ یہ اخلاقی ترقی کا آخری کمال ہے ۔کوئی غرض یا فائدہ نہ ہو بلکہ اخوت کا جوش ہو کہ بغیر کسی تکلف کے تم دوسرے سے نیکی کرو ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :مگر ہو کیا رہا ہے جہاں مفاد ہو وہاں عدل بھی نہیں کیا جاتا ۔اگر کچھ مزید کریں تو احسان کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہ احسان بھی فرائض سے نہیں ہے جس پر کیا گیا ہو اس کو بتایا بھی جاتا ہے ۔جب کسی ملک کی مدد کی جائے تو بعض شرائط ہوتی ہیں مگر اسلام کہتا ہے کہ ایسی مدد جس کے پیچھے احسان جتانا ہو وہ نیکی نہیں ہے ۔دنیاوی قانون میں ہم عدل تک ہی جا سکتے ہیں وہ بھی الفاظ کی حد تک ۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم کو خدا عدل قائم کرنے کا اور احسان کرنے کا اور ایتاء ذی القربی کرنے کا حکم دیتا ہے ۔دوسرے کے درد کو اپنا درد سمجھو یہ تم کو مومن بناتی ہے ۔جب تک بے غرض ہو کر انصاف ، احسان اور محبت کے معیار قائم نہیں کرو گے حقیقی امن اور سلامتی کے ضامن نہیں بن سکتے ۔یہ وہ تعلیم ہے جو ایک انسان کو دوسرے انسان کے حقوق ادا کرنے والا بناتی ہے ۔اگر اس کے خلاف ہے تو وہ اسلام کی تعلیم کی مخالفت کر رہے ہیں ۔یہ اسلام کے نام پر کسی کا غلط فعل اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ اسلام کی تعلیم اس کو غلط کام کرنے کا کہتی ہے ۔یہ جو بیانات دیتے ہیں یہ بے انصافی کے نام پر ہیں ۔امن کے نام پر یہ ظلم کرتے ہیں ۔مجھے اس پر رائے دینے کی ضرورت نہیں ۔ان کے اپنے لکھنے والے ان کے امن و انصاف کا پول کھولتے ہیں ۔ایک میڈیا نے آرٹیکل لکھا کہ نیٹو نے لیبیا میں دخل دیا اور اس کو تباہ کر دیا ۔جہاں داعش نے مضبوطی پکڑ لی ہے ۔یہ بات یاد رکھیں نیٹو سے قبل کوئی کمیپ نہ تھے ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :اسلام کہتا ہے کہ عدل کی نیکی سب سے چھوٹی ہے ۔یہ عدل کا نعرہ لگا کر بڑی نیکی کہتے ہیں ۔اگر اس پر بھی عمل کر لیں جب ان کے مفادات ہوں وہاں عدل کے بھی معیار نہیں رہتے ۔اسلام عدل کا کیا معیار بتاتا ہے ؟ اسلام کہتا ہے کہ اپنے پیاروں کے خلاف بھی گواہی دینا ہو تو عدل سے دو ۔اور کسی کی دشمنی بھی تم کو عدل سے نہ ہٹائے ۔انصاف قائم کرنا ہے تو حقیقی رنگ میں کرنا ہے ۔ایک مومن کو اللہ کے حکموں کی باریکی میں جا کر انصاف کے تقاضے پورے کرنے ہیں ۔ایک مومن کو ہمیشہ اس کی تلاش میں رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا کیا حکم ہے ۔انصاف کے بارہ میں یہ حکم سامنے رکھو کہ کسی قوم کی دشمنی انصاف سے تم کو دور نہ لے جائے ۔جب دشمن سے انصاف ہے ۔لیبیا کی جنگ یا قذافی کو ہٹانے کے معاشی محرکات تھے ۔تیل کی دولت کو ہتھیانا تھا ۔قرآن کریم کہتا ہے کہ دوسرے کی دولت پر لالچ کی نظر نہ ڈالو ۔جب یہ بات کہی تو امریکہ میں ایک افریقی سیاست دان نے کہا یہ بہت صحیح بات ہے ۔اسلام پر کس طرح اعتراض کر سکتے ہیں ۔اب لکھنے والے لکھنا شروع ہو گئے ہیں ۔کہ ہماری عراق جنگ اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے مسلمانوں کی شدت پسندی ہے ۔جاپان میں جو قتل عام کیا گیا یہ کونسا انصاف تھا ۔لیکن آج بھی اس فعل پر شرمندہ نہیں ہیں ۔جنگ فوجوں کے درمیان ہے اور قتل معصوم بچوں کا ہو رہا ہے ۔اگر کوئی مسلمان غلط حرکت کرتا ہے تو اس کو اسلامی تعلیم کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اسلام کی تعلم ہر سطح پر عدل و انصاف کی تعلیم دیتی ہے ۔ظلم کو رد کرتی ہے ۔اس پر سب سے زیادہ عمل رسول کریم ﷺ کی زندگی میں نظر آتا ہے ۔یہودی جب داد رسی کے لئے آتا ہے مسلمان کے خلاف شکایت کرتا ہے تو آپ ﷺ سب بات سن کر یہودی کے حق میں فیصلہ فرماتے ہیں ۔آج کل کہاں یہ اسوہ ہے ۔قرضدار کو رسول کریم ﷺ وقت سے پہلے مطالبہ احسان کرتے ہوئے قرض دیتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ کسی نبی کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ قیدی بنا لے سوائے اس کے باقاعدہ جنگ میں قیدی پکڑے جائیں ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :پھر اسلام کی جنگی قیدیوں کے متعلق ہدایات واضح ہے ۔ان سے فدیہ لیکر یا پھر احسان کے طور پر چھوڑ دو ۔اس سے بھی بڑھ کر سلوک ہے ۔تم احسان کے طور پر چھوڑ سکتے ہو نہ فدیہ دیا ہے اگر وہ کہیں ہم کو آزاد کر دو ہم جرمانہ ادا کر دیں گے اگر وہ روزی کما کر دے سکتے ہیں تو ان کو آزاد کر دو ۔بلکہ اس کو آزاد کرنے کی کوشش کریں ۔آج کل کے انصاف اور عدل کا نعرہ لگانے والے بھی یہ کام نہیں کر سکتے ۔جنگی قیدی تو دور مذہب اور سیاسی قیدی کو بھی نہیں چھڑا سکتے ۔مسلمان بھی ہر اس تعلیم پر غور کریں تو بلا وجہ قیدی بنا لئے جاتے ہیں ۔وہ بھی نہ کریں ۔آج جاپان کے بارہ میں باتیں کر کے یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ۔جنگ کی صورت میں اگر کوئی حملہ کر رہا ہے تو اس کی شکل بگاڑنے کی اجازت نہیں کسی بچہ اور عورت کو نہیں مارنا پادری کو قتل نہیں کرنا بوڑھے بچوں کو قتل نہیں کرنا صلح و احسان کو سامنے رکھنا دشمن ملک میں جاؤ حملہ کرو تو وہاں ڈر اور خوف پیدا نہیں کرنا ۔عوام الناس پر سختی نہیں کرنی ۔دشمن کے منہ پر زخم نہیں لگانا ۔کم سے کم نقصان پہنچانے کی کوشش کرنی ہے اگر کوئی مسلمان کسی قیدی پر سختی کر دے تو آزاد کر دیا جائے ۔رشتہ دار ہوں تو ان کو ساتھ رکھے جس کے پاس کوئی قیدی ہو اس کو کھلائے جو وہ خود کھائے ۔یہ سب کا سب احسان ہے ۔ کون ہے جو اس طرح جنگی قیدیوں سے سلوک کرے ۔اس اسلام کی تعلیم کا کوئی بھی مقابلہ نہیں کر سکتی ۔یہ جنگیں جاری رکھنے کے لئے نہیں ہیں بلکہ جنگیں ختم کرنے کے لئے ہیں ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ عدل تھا جو رسول کریم ؔﷺ نے قائم فرمایا تھا اگر مسلمان یہ معیار قائم کریں اور معاہدات کی پابندی کریں تو کبھی ذلت نہ ملے ۔مسلمانوں کی تاریخ بتاتی ہے جب تک وہ عہد نبھاتے رہے ترقی کرتے رہے جہاں عدل کو خیر باد کیا وہاں ہی ذلت شروع ہو گئی ۔حمس کی مثال کیا عجیب ہے خراج واپس کر دیا کہ آپ کی حفاظت کے لئے لیا تھا مگر اب ہم جا رہے ہیں یہ خراج تم رکھ لو ۔وہ لوگ روتے تھے اس پر جواب دیا ۔انہوں نے کہا ہم تو اپنے ہی مذہب کے لوگوں کی حرمت کا نشانہ تھے تم نے یہ قبضہ کیا اور عدل سے گرویدہ بنا لیا اور ہم تم سے مل کر جنگ کریں گے ۔اور پھر رومی سے جنگ لڑی اور پھر فتح پائی ۔کاش مسلمان بھی اس پر عمل کریں ۔مگر اس کے لئے بھی اللہ کی آواز کو سننا ہوگا جو زمانہ کا امام دے رہا ہے ۔یہ مضمون عد ل و احسان اور ایتاء ذی القربی کا ایسا ہے اور سیرت نبی ﷺ بھی اس سے بڑھی ہوئی ہے اور پھر حضرت مسیح موعود ؑ کی تحریرات میں حوالے ملتے ہیں ۔ایک بات اور پیش کرونگا ۔جو رسول کریم ﷺ کی انسانیت کے لئے بھی ایک بات ہے ۔آپ ﷺکا اللہ سے دور لوگوں کے لئے غم یعنی اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں اس طرح اللہ تعالیٰ کی سزا کے مستحق بنیں گے ۔آ پ ﷺ راتوں کو بھی بے چین رہتے تھے اس بے چینی کو دیکھ کر فرمایا کیا تو اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالتا ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے ۔؟اس س بڑھ کر کوئی انسانیت کے لئے محبت کا اظہار نہیں کر سکتا ۔تعداد بڑھانے کے لئے نہیں دنیا کے درد میں ڈوب کر یہ جذبات تھے ۔پھر اعتراض کر دیتے ہیں کہ اسلام کی شدت پسندی کی وجہ سے یہ عمل ہے نعوذباللہ ۔بلکہ یہ بھٹکنے کی وجہ سے عمل ہیں ۔مسلمانوں کو خداکے فرستادہ کو پہنچانے کی ضرورت ہے اسلام پر اعتراض کرنے والے بھی اپنی آنکھیں کھولیں اور اسلام کی اس تعلیم کو دیکھیں ۔ہر احمدی کا فرض ہے جہاں وہ اس کو خود کر لاگو کرے اور ہر شخص تک یہ پیغام پہنچائے ۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ انسانیت کے لئے یہ درد ہم سب میں پیدا ہو جائے اور ہر ایک اپنے اپنے جذبات اور کیفیات کے لحاظ سے پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور دنیا تباہی کی طرف جانے کی بجائے عدل احسان اور ایتاء ذی القربی کے مضمون کو سمجھتے ہوئے اپنے آپ کو بچا لے اور یہ دنیا بھی جنت بن جائے اور آخری جنت بھی بن جائے ۔ اللہ تعالی سب کو خیریت سے گھر لے جائے ۔ حاضری جلسہ کی اللہ کے فضل 35478 اور 96 ممالک کی نمائندگی ہے ۔
No comments:
Post a Comment