
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ خطبہ جمعہ 7 اگست 2015 بیت الفتوح لندن(طالب دعاو مرتب کردہ : یاسر احمد ناصر مربی سلسلہ ) تشہد و سورة الحمدللہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : صحابی مسیح موعود ؑ کے واقعات اور حالات بتاتے ہیں کہ کس طرح وہ لوگ محبت کرتے تھے اور پھر حضرت مصلح موعود ؓ کا ان کے ساتھ اپنا خاص تعلق تھا اس وجہ سے جب کوئی واقعہ بیان کرتے ہیں تو اس میں بعض اوقات کئی پہلو سے سبق ہوتا ہے ۔فرمایا : کہ انبیاء سلام کا وجود ہی ایک بارش ہوتا ہے اور اعلی درجہ کا مجموعہ ہوتا ہے ۔انبیاء کو اپنے جیسا سمجھ لینا ظلم ہے اور انبیاء سے محبت رکھنے سے ایمانی قوت بڑھتی ۔مولوی برہان الدین صاحب نے مسیح موعود ؑ کے تیز چلنے کو ہی ان کی صداقت کا نشان سمجھ لیا ۔یہ خداتعالی کا خاص فضل ہی تھا ورنہ بعض لوگ نشان دیکھ کر بھی نہیں مانتے ۔سب ہی سخت دل نہں ہوتے ہیں ۔ہزاروں افریقہ میں ہیں جو آپ ؑ کی بیعت میں آئے ۔روحانی سر سبزی کے لئے الہام کا جاری رہنا بھی ضروری ہے ۔ایک واقعہ عبد الرحمن مدراسی ۔ایک بہت مخلص احمدی تھے ۔ایک واقعہ سنایا کرتے تھے ۔مصلح موعود ؓ بتاتے جب واقعہ یاد آتا ہے دعا کی تحریک ہوتی ہے ۔ابتداء میں مالی حالت اچھی تھی ۔چندہ بھیجتے تھے ۔اور تجارت کے لحاظ سے غلط کام کر بیٹھے اور ان کی تجارت بالکل تباہ ہو گئی ۔یہ الہام ان کے متعلق ہوا ۔قادر ہے وہ بارگاہ جو ٹوٹا کام بنا دے ۔بنا بنایا توڑ دے کوئی اس کا بھید نہ پاوے ۔یہ سمجھا گیا کہ سیٹھ صاحب کا کاروبار درست ہو جائے اور دوسرے کی طرف ذہن نہ گیا۔پھر کاروبار کی حالت اچھی ہو گئی اور پھر خراب ہو گیا اور کھانے پینے کے لئے بھی کچھ نہ ہوتا تھا ۔ایک دن عجیب محبت کے رنگ میں ذکر کیا کہ ان کا اخلاص کتنا بڑا ہوا ہے ۔ایک شخص نے دو تین ہزار روپیہ ان کو دیا ان میں سے پانچ سو روپیہ بھجوا دیا ۔کہا مدت سے چندہ نہیں دے سکا میری غیرت نے برداشت نہ کیا کہ اب روپیہ ملا اور دین کے لئے کچھ نہ دوں ۔حضرت مصلح موعو د ؓ فرماتے ہیں جب ان کی مالی حالت خراب ہوئی تو بعض لو گ مدد کرتے تھے ۔سیٹھ عبد الرحمن بہت دوست ہیں بزرگ سمجھتا ہوں عقیدت مند ہوں ۔ان کو بہت افسردہ دیکھا وجہ پوچھی تو بتایا کہ روپیہ ہوتا تھا تو دین کے لئے بھیجتا تھا ۔مگر اب نہیں بھیج سکتا ۔ان کی اس بات کا دل پر بہت اثر ہوا کہ میں نے منت مانگی ہے کہ میں آپ کو دو یا تین سو روپیہ ماہوار بھیجا کرونگا۔ایک دفعہ منی آڈر آیا دیکھ کر فرمایا ان کی مالی حالت بہت خطرناک ہے ۔پھر خط آیا مجھ پر کچھ قرض ہو گیا تھا ۔دوست سے روپیہ لیا کچھ قرض اتار دیا اور کچھ آ پ کو بھیج رہا ہوں ۔یہ تھا ان کا اخلاص و وفا اور قربانی کا جذبہ حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا: آپ ؑ کے زمانہ کا نقشہ کھنچتے ہیں ۔مسیح موعود ؑ کو کئی کئی گھنٹے عدالت میں کھڑا رہنا پڑتا ۔ایک دن پانی بھی نہ پینے دیا۔اس زمانہ کے لئے مخلصیں کے لئے بہت بڑا ابتلا تھا ۔ایک طرف بادشاہ کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے کہ الہامات تھے ۔دوسری طرف ایک معمولی آدمی پانی پینے نہ دیتا تھا ۔کمزور ایمان والے حیران ہوتے ہونگے کہ کیا یہی وہ شخص ہے ۔جس کے بارہ میں یہ وعدہ ہیں غرض یہ بھی ابتلاء تھا ۔بعض کے لئے یہ بیچارگی اور ایمان کا یہی تقاضہ تھا کہ ایسے لوگوں کو مار ہی ڈالو۔ایک آدمی جواری تھا مگر احمدی ہونے پر یہ کام چھوڑ دیا ۔یہ بھی ایک نصیحت ہے ۔ان کو بھی مسیح موعود ؑ سے عشق تھا غربت کو اخلاص سے برداشت کرتے تھے ۔ایک دفعہ دکان کھولی اور ان کو تبلیغ کرتے ہوئے لڑ پڑتے تھے ۔خواجہ کمال الدین صاحب کو ایک دن کہا کہ وہ آپ کی تبلیغ سے کرتے ہوئے لڑ پڑتے ہیں ۔ان کو فرمایا کہ ہمارے لئے ہی نرمی اختیار کرو اور ہمارے لئے ہی یہی تعلیم ہے ۔سب کچھ سن کر یہ کہنے لگے میں ایسے دین کو نہیں مان سکتا ۔جب آپ کے آقا کو ایک لفظ بھی کہے تو آپ مباہلہ کرے اور ہمارے پیر کو کچھ کہے تو نرمی کریں ۔بظاہر یہ بدتمیزی تھی ۔مگر یہ عشق تھا ۔پھر فیصلہ کے وقت مخلصین کے دل میں ایک لمحہ کے لئے بھی فیصلہ کے خلاف ہونے کا اندیشہ نہ تھا۔جب مسیح موعود ؑ اندر تشریف لے گئے تو دوست کو باہر روک دیا۔ایک پتھر اٹھا کر مجسٹریٹ کا سر پھوڑنے کے لئے دوڑے جماعت کے افراد نے پکڑ لیا ۔ایسے حالات میں کمزور ایمان والے مرتد ہو جاتے ہیں اور مخلصین کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے ۔بہت زیادہ جذباتی لوگ خود بدلہ لینے کی سوچ لیتے ہیں ۔لیکن تعلیم ہم کو اس سے منع کرتی ہے اور وہی ہمارے لئے اسوہ ہے ۔ہمیشہ ہم کو یاد رکھنا چاہیے ۔اج بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں انجام کار وہی ہونا ہے جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے دی ہے ۔صبر اور دعا سے کام لینے والے اس کے نظارے دیکھیں گے ۔ حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا: بعض دنوں کے بارہ میں کچھ کا خیال ہوتا ہے یہ دن اچھا ہے اور اس میں سفر نہ کرو اور اس میں سفر کرو ۔مسیح موعود ؑ کا حوالہ پیش کر دیا جاتا ہے بعض لوگوں نے منگل کے دن کو جو مسیح موعود ؑ کی ذات سے وابستہ تھی تو اس نحوست سے مراد منگل کے دن وفات ہونے والی تھی ۔جب خدا تعالیٰ نے خود تمام دنوں کو با برکت کیا ہے تو اس کی موجودگی میں روایت آئے گی تو ہم کہیں گے یہ روایت بیان کرنے والے کو غلطی لگی ہے اور ہم اس کو یہی کہیں گے کہ سارے کے سارے دن با برکت ہوتے ہیں مگر مسلمانوں نے اپنی بد قسمتی سے دنوں کو منحوس کرنا شروع کر دیا ۔اور کامل طور پر نحوست کے نیچے آگئے ۔بعض لوگ عاجزی میں ضرورت سے زیادہ بڑھ جاتے ہیں ۔اور بعض نظریات میں زیادہ شدت اختیار کر لیتے ہیٰں ۔یہ مزاج رکھنے والے دو اشخاص تھے جو ایک جگہ جمع ہو گئے ۔ایک شخص حافظ محمد صاحب پشاور کے رہنے والے تھے بہت زیادہ سخت تھے ۔ایک دفعہ جلسہ پر آئے ہوئے تھے اور راستہ میں خشیت کے بارہ میں بات ہو گئی ہم لوگ ذلیل حقیر ہیں ہماری کوئی عبادت بھی قبول کرتا ہے کہ نہیں اس پر دوسرا شخص بولا اللہ تعالیٰ کی بڑی شان ہے میں سوچتا ہوں کہ میں مومن بھی ہوں کہ نہیں ۔یہ حافظ صاحب نے پوچھا تم مومن ہو یا نہں کیا تم سمجھتے ہو کہ نہیں ۔اس نے کہا میں یقین سے نہیں کہا سکتا ہوں کہ نہیں حافظ صاحب نے کہا میں پیچھے نماز نہین پڑھ سکتا ۔غرض دوست پشاور پہنچے اور جماعت کے ساتھ نماز پڑھنی چھوڑ دی جب فساد زیادہ ہوا تو اس کی اطلاع ملی تو فرمایا حافظ صاحب ٹھیک کہتے ہیں ۔مگر ان کی غلطی تھی کہ لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنی چھوڑ دی ۔انہوں نے کفر نہیں کیا ۔بات ٹھیک ہے کہ ہماری جماعت کے دوستوں کا فرض تھا حسن ظنی کرتے ۔جہاں تک کوشش ہے وہ جاری رکھے مگر مومن ہونے سے انکار کر دے یہ غلط طریق ہے ۔ حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا:لباس آج کل یورپ میں ننگ ہی ننگ نظر آتا ہے ۔عریانی کو ہی ایک فحشن سمجھ لیا گیا ہے انتہاء ہو گئی ہے کسی جگہ مسلمانوں لڑکیوں کا گروہ سائیکل چلا رہا تھا گرمی محسوس کی اور کپڑے اتار دئے ۔اب وہ زمانہ بھی آگیا ہے جب جسم کے بعض حصے اخلاقا اور طبعا بھی ننگے رکھنا معیوب سمجھا جاتا ہے ۔حضورؑ کے زمانہ میں عریانی بہت کم ہوگی ۔ایک مصور کا بیان لکھا ہے کہ ایک مضمون لکھا اور اس میں عورتوں کو مخاطب کیا اور فرمایا کہ آج کل یورپ کی عورتوں میں یہ رواج پایا جاتا ہے کہ عورتوں ننگے کرتی جاتی ہیں ۔مصور نے کہا ننگا جسم خوبصورتی پیدا نہیں کرتا ۔اگر جسم کو ننگا رکھنا تعریف کے لئے ہے تو و ہ نفرت پیدا ہوتی ہے ۔یہ ایک ماہر فن کی رائے ہے اور بڑی وزن دار ہے ۔مرد بھی عجیب حلیہ بنا لیتے ہیں لباس پہن لیتے ہیں ان کا وقار بھی ضائع ہوتا ہے ۔آج کل تو آزادی کے نام پر کوئی اظہار کر دیں تو اس کو اہمیت دی جاتی ہے جس کی وجہ سے معاشرہ مجموعی طور پر بد اخلاقی کا شکار ہوتا چلا جا رہا ہے ۔آج سے 80 مصور کا یہ خیال تھا ۔آج کا مصور بھی شائد ایماندرانہ رائے نہ دے ۔خوبصورتی عریانی میں نہیں ہے ایک دفعہ دو صحابہ میں بحث چڑھ گئی ۔فرمایا خوبصورتی کو پہنچانا اتنا آسان نہیں ۔مولوی عبد الکریم ؓ فرماتے تھے ہر آنکھ اس کو پہنچان سکتی ہے خلیفہ اول کا نقطہ نگاہ یہ تھا کہ اس شناخت میں بہت سی غلطیاں ہو جاتی ہیں ۔کیا آپ کے نزدیک کوئی مرد خوبصورت بھی ہے ۔جو اتفاقا سامنے آگیا ۔آپ کی نگاح میں خوبصورت ہے مگر اس کی ہڈیوں میں نقص ہے ۔پھر قمیض اٹھائی کہ مولوی عبد الکریم ؓ کہنے لگے لاحول ولا قوة ۔پس ظاہر ی حسن بعض دفعہ نظر آتا ہے جو اندر سے حسن نہیں ہوتا۔لباس زینت بننے کے لئے ہے ۔مگر اب اسی سے دوڑ رہا ہے انسان ۔ہماری جماعت میں ایک شخص تھے جس کو فلاسفر کہتے تھے فوت ہوچکا ہے ۔اس کو بات بات پر لطیفہ سوجھتا تھا ۔ہر بات میں نیا نقطہ نکال لیتا تھا ۔ایک دفعہ روزوں کا ذکر چل پڑا کہنے لگا یہ ڈھونگ رچایا ہوا سحری ذرا دیر سے کھاؤ تو روزہ نہیں ہوتا ۔جس نے بارہ گھنٹے فاقہ کیا پانچ منٹ بعد سحری کھا لی تو کیا حرج ہے ۔صبح گھبرایا ہوا خلیفہ اول کے پاس آیا ۔آتے ہی کہنے لگا آج رات کو ڈانٹ پڑی ۔رات بحث کر رہا تھا مولویوں کا ڈھونگ رچایا ہے اگر بارہ گھنٹے کے فاقہ والے پانچ منٹ دیر سے کھائے تو کیا فرق ہے ۔خواب میں دیکھا کہ دونوں طرف رسی کو باندھا ۔جب دوسرے کے پاس گیا تو تانی ختم ہوگئی میں بار بار زور لگتا کہ اس کو باندھ دوں مگر کامیاب نہ ہو سکا۔میں سمجھا کہ میرا سارا سوت تباہ ہوگیا۔یہی شور مچاتے مچاتے آنکھ کھل گئی جب جاگا و سمجھا کہ اس رویا کے ذریعہ سمجھایا ہے کہ دو انچ سے تانی خراب ہو جائے تو پانچ منٹ کے فاصلہ سے روزہ کیسے کامیاب ہو سکتا ہے ۔حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں کہ انسان اکیلا نہیں رہ سکتا ۔فرمایا ایک مجلس میں ذکر ہو رہا تھا کہ کیا کسی نے گندم کی روٹی کھائی ہے ۔ہم نے گندم کی روٹی نہیں کھائی ۔ایک نے کہا گندم کی روٹی بڑی مزہ دار ہوتی ہے ۔ایک شخص کو کھاتے ہوئے دیکھا ۔بعض لوگ مرغا کھانے کے بڑے شوقین ہوتے ہیں ۔مرغے کی ٹانگ بڑی پسند تھی حضور ؑ کو بھی ٹانگ بڑی پسند تھی بہرحال مجھے پسند نہیں ہے ۔بعض چیزیں بہت مرغوب ہوتی ہیں ۔وہ مل جائیں تو بہت خوش قسمت ہیں ۔مگر وہ ادنی ہوتی ہیں ۔لیکن اگر خدا تعالیٰ پر ہم کو یقین ہو اور وہ مل سکتا ہو تو قطعی اور یقینی طور پر کہہ سکتا ہے کہ اس کے بعد ہم کو کسی اور کی کیا ضرورت ہے ۔انسانی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ کسی کا ہو کر رہنا چاہتا ہے یا کسی کو اپنا بنا کر رہنا چاہتا ہے ۔یہ انسانی فطرت ہوتی ہے ۔ ایک مثال جو ایسے پاگل کی ہے جو میرا استاد بھی تھا ۔ایک میرے استاد تھے نبوت کے مدعی بن گئے مسیح موعود ؑ کے ساتھ محبت کی وجہ سے جنون آگیا ۔فرمایا کہ یہ دیوانگی اور عشق کی حالت ہے جب کوئی چیز نہیں پھر بھی محبوب کے ہاتھ کو ہلنے کے اشارہ کو اپنے پاس بلانے کو اپنا بلانا سمجھ کر قریب چلے جاتے ہیں ۔لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے واضح اعلان کے بعد بھی ہم نہ جمعہ پر جاتے ہیں نہ نمازیں پڑھتے ہیں ۔اس طرح سب احمدیوں کو کوشش کرنی چاہیے ۔مساجد کو آباد کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں ہماری نمازوں کی حفاظت اور ادائیگی کے حق ادا کرنے کی بھی توفیق فرماتا رہے ۔ آمین
No comments:
Post a Comment