Saturday, 22 August 2015

Love for All Hatred for None


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ خطاب لجنہ اماء اللہ جلسہ سالانہ یوکے 2015(مرتب کردہ : یاسر احمد ناصر مربی سلسلہ ) تشہد و سورة الحمدللہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا :عورتوں کی اہمیت ان کی اکثریت کی وجہ سے ہے اور ہر ملک میں ان سے وعدہ کئے جاتے ہیں ۔پھر ہر جگہ سختی ہو رہی ہے ۔کہنے کو محبت کی شادی ہوتی ہے ۔مگر کچھ عرصہ کے بعد شادی ٹوٹ جاتی ہے ۔آنحضرت ﷺ نے جو عورت کا مقام قائم کیا وہ کسی دنیاوی حسن یا تعداد کی وجہ سے نہ تھا ۔بلکہ اس کی ذمہ داریوں اور قربانیوں کی وجہ سے مقام فرمایا : ایک موقعہ پر فرمایا جب ایک عورت صرف اللہ کا تقوی دل میں رکھتے ہوئے اور دین کو دنیا پر مقدم رکھتے ہوئے سوال کرتے ہوئے کہتی ہے کہ اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو مردو عورت دونوں کی طرف بھیجا ہے ۔مگر مرد وں کے لئے کافی جہاں پر فضیلت ہے ۔نماز باجماعت کی ،نماز جنازہ ، حج وغیرہ سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں ۔جب کوئی جہاد پر جاتا ہے تو ہم آپ کے اموال کی حفاظت کرتی ہیں ۔پس کیا ہمارا یہ حفاظت کرنا بچوں کی تربیت کرنا ہمیں ان نیکیاں کرنے والوں یا جہاد کرنے والوں کے برابر نیکی دیتی ہے ۔آپ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا : تم کیا بات کرتی ہو کس طرح یہ ہو سکتا ہے ۔ آپ نے اپنا چہرہ مبارک اپنے صحابہ کی طرف موڑا اور کہا کیا کوئی اس سے زیادہ عمدہ طریق سے اپنے معاملہ کو پیش کر سکتی ہے ۔صحابہ نے بھی یہ نہیں کہا کہ عورت کا دماغ خراب ہوگیا ہمارے جہاد جیسی قربانی کے مطابق اجر مانگتی ہے وغیرہ بلکہ صحابہ ؓنے کہا ہمیں نہ معلوم نہ تھا کہ عرب کی مظلوم عورت اس طرح بات کر سکتی ہے ۔اس طرح رضا باری کی متلاشی عورت کی گود مین پلنے والی نسل محفوظ ہو گئی ہے ۔پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے عورت اچھی طرح سمجھ لے اور جن کی نمائندہ ہے ان کو بتا دے کہ خاوند کے گھر کی اچھی دیکھ بال کرنے والی اور اولاد کی تربیت کرنے والی کو وہی ثواب ملے گا ۔جو اس کے خاوند کو ملتا ہے ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :رسول کریم ﷺ نے گھر کی دیکھ بال کرنے والی کو خوشی کی خبر دی ہے ۔جہاد جنگ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے وہاں پتہ چلتا ہے جب دین کو ختم کرنے کے لئے دشمن پہل کرے اس کا سختی سے جواب دو ۔نہ کہ ظلم و بربریت کے اظہار کے لئے ۔ یا ذاتی لوٹ مار کے لئے ۔اس وقت عورت کے مقام کی بات ہو رہی ہے جو اسلام نے قائم کیا ہے ۔کم علم عورت ان ممالک میں عورت ایک کونے میں ہو جاتی ہے یا پھر آزادی کے نام پر ان جیسا ہو جاتی ہے اور دین سے دور ہو جاتی ہے ۔جو مقام رسو ل کریم ﷺ نے عورت کو دیا ہم اپنے گھر میں عورت سے گفتگو کرنے سے ڈرنے لگے تھے ۔اب بتائیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں لاکھ قانون بنانے کے بعد بھی مردوں کو کوئی خوف ہے ۔اگر ظاہری چوٹ نظر نہ آئے پھر بھی مقامی لوگوں میں مار دھاڑہوتی ہے ۔ان ممالک کے ہاں آزادی عورت کو حقوق دینے مین نہیں بلکہ ننگا کرنے کے لئے ہے ۔لیکن ایک مومنہ عورت جو اپنے آپ کو لجنہ کی ممبر کہتی ہے اللہ کی لونڈی ہے ۔اس عورت کی آزادی جس کا خاوند بھی مومن ہو اس سے کہیں بڑھ کر ہے ۔شرط صرف مومن اور مومنہ ہونا ہے ۔صحابہ اپنی بیوی سے غلط بات کرتے ہوئے ڈرتے تھے ۔کیونکہ پتہ تھا کہ اگر کوئی غلطی کی تو رسول کریم ﷺ کی ناراضگی ہوگی ۔حضرت مسیح موعود ؑ مردوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : اگر تم کو عورت کے حقوق کی ادائیگی کا پتہ ہو اور اس کی سزا کا تو تم ایک شادی بھی نہ کرو ۔بیشک اسلام نے چار شادیوں کی اجازت دی ہے ۔شرائط بہت سخت ہیں اور گناہ ہے کہ شائد ایک شادی سے بھی بچے ۔ بہرحال عورت کا مقام اور اہمیت قائم ہونے کی بات ہو رہی تھی ۔ایک شخص نے پوچھا میرے حسن سلوک کا مستحق کون ہے؟ تین بار پر فرمایا تیری ماں پھر تیرا باپ اور پھر باقی رشتہ دار ۔اس میں بھی ماں کو رکھ کر عورت کی اہمیت کو ظاہر کر دیا ۔بچہ کے لئے تکلیف اٹھاتی ہے پالنے میں تکلیف اٹھاتی ہے ۔اپنی نیند کو آرام کو قربان کر رہی ہوتی ہے ۔ماں بچوں کی جنت کی ضامن یونہی نہیں بنائی بلکہ بہت قربانیوں کے بعد یہ رتبہ ملا ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :ماؤں کی خدمت کسی بچہ کے لئے ایک جذبہ کے تحت ہوتی ہے اور یہی چیز ماں کی جنت کا بھی باعث بنتی ہے ۔اب بتائیں کہ عورت کو اسلام میں حیثیت ہے یا نہیں ۔پس مائیں اس بات کو سمجھیں اس دنیا میں پیسہ کمانے کے لئے صبح سے شام تک باہر رہ کر بچوں کو اگنور کر کے ان کو ہلاکت میں نہ ڈالیں ۔اپنی دنیا کے لئے اپنی اولاد کو عدم توجہ کر کے ان کو ہلاک نہ کرو ۔اس معاشرہ میں اس بات کو سمجھنا اور بھی آسان ہے جہاں رشتہ ٹوٹ جاتا ہے تو ایک فریق کے ساتھ رہتا ہے بہت کی باتوں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔نشہ میں لگ جاتے ہیں ۔برائی میں پڑ جاتے ہیں ۔میاں بیوی کو آپسی رنجش کو بچوں کے بعد ان کو ختم کرنا چاہیے ۔مردوں کو بھی اپنی نسل کی فکر کرنی چاہیے اور دنوں میاں بیوی تقوی پر چلیں ۔کہنے والے کہہ دیتے ہیں کہ اسلام لڑکی کو اپنا رشتہ طے کرنے کی اجازت نہیں دیتا بلکہ یہ بعض ممالک کا معاشرہ ہے ۔کوئی ذات کوئی برادری کچھ حیثیت نہیں رکھتی ۔اسلام کہتا ہے کہ رشتہ کے وقت دین کو دیکھو ۔بہت سی لڑکیاں لکھتی ہیں کہ ہماری شادی نہیں کرتے کہ برادری کا نہیں ۔یہ سب غلط ہے۔ایک مومن عورت کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے خاص طور پر احمدی عورت کو اس زمانہ میں حقیقی مومنہ وہی ہے جس نے غلام صادق کی بیعت کی ۔اس کا یہ عہد ہے دین کو دنیا پر مقدم رکھونگا ۔اس کو ہمیشہ سامنے رکھیں اور رشتے کرتے وقت بھی سامنے رکھیں ۔اس طرح احمدی لڑکیوں سے یہ بھی کہونگا ۔کہ احمدی لڑکوں سے یہ کہونگا کہ احمدی لڑکیوں سے رشتے کریں ۔چار وجوہات میں سے ایک دین ہے ۔آپ ﷺنے فرمایا صرف دین دیکھو ۔دین دار لڑکیوں سے رشتہ کریں ۔لڑکیوں کو بھی دعا کرنی چاہیے کہ نیک نصیب بنیں ۔جماعت میں بہت سے مسائل ہیں ۔پریشانی تک پہنچ جاتی ہے ۔میں باقاعدگی سے ان کے لئے دعا کرتا ہوں ۔سب کو کرنی بھی چاہیے ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :اسلام رشتوں کے حوالے سے لڑکی کی رائے کو اہمیت دیتا ہے ۔جو والدین اس پر عمل نہیں کرتے وہ ظلم کرتے ہیں ۔برادری اور پیسے کی وجہ سے روک نہ ڈالیں ۔اس زمانہ میں ہم پر احسان ہے کہ ہم نے حضرت مسیح موعود ؑ کو مانا ہے آپ ؑ نے فرمایا اسلام کے ہر حکم میں حکمت ہے ۔عورت کے بارہ میں جو احکامات ہیں وہ اس کی عزت اور وقار قائم کرنے کے لئے ہیں ۔بعض دفعہ لجنہ کی رپورٹ پر یہ لکھا ہے کہ پردہ سن کر تنگ آ گئی ہیں ۔پردہ کیا ہے ۔حیا کو قائم کرنا ہے عورت کی خوبصورتی حیا کو قائم کرنے میں ہے ۔اگر اس کا نہ غور کیا جائے تو کیا یہ کہا جائے کہ بے حیائی کا نعرہ لگاؤ میں نہیں سمجھتا کوئی سچی احمدی ایسے نعرے لگانے والی ہو۔آپ ؑ نے فرمایا : یہ زمانہ ایسا نازک ہے کہ اگر پردہ کی رسم نہ ہوتی اس زمانہ میں ہونی چاہیے تھی کیونکہ بدی اور فسق و فجور کا زور ہے اور دلوں میں دہریت کے خیالات ہیں ۔اور اللہ کی عظمت دل سے اٹھ رہی ہے زبان پر سب کچھ ہے دل روحانیت سے خالی ہیں ۔ایسی عورت میں غریب بکری کو بھیڑیا کے لئے چھوڑ دیا جائے ۔پھر فرمایا : مردوں کو بھی قرآن نے غض بصر کا حکم دیا ہے ۔آپ ؑ فرماتے ہیں اسلامی پردہ سے مراد یہ نہیں کہ جیل خانہ میں بند کر دی جائے بلکہ غیر مرد کو نہ دیکھے ۔جس عورت کو ضرورت ہے باہر جائیں مگر نظر کا پردہ رکھیں ۔یہ باتیں اس زمانہ میں کہیں جب حیاکا تصور تھا مگر اب تو یہ بھی اٹھ گیا ہے ۔پردہ عورت کی عزت و وقار کو قائم کرنے کے لئے ہے ۔گھر میں عورت کی اہمیت ہے بچوں کی تربیت میں عورت کی اہمیت ہے رشتہ قائم کرنے میں اہمیت ہے ۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کے وعدہ کو بھی پورا کرنے والا بنائے ۔ آمین

No comments:

Post a Comment