Friday, 4 September 2015

Love for All Hatred for None


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ خطبہ جمعہ 04 ستمبر 2015 بیت الفتوح لندن(طالب دعاو مرتب کردہ : یاسر احمد ناصر مربی سلسلہ ) تشہد و سورة الحمدللہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : اگر دنیا دار شخص کو کہا جائے کہ کسی میں تقوی پیدا ہو جائے تو اس کو سب کچھ مل جاتا ہے ۔ تو وہ یقینا یہ کہے گا یہ سب فرضی باتیں ہیں ۔اور اپنے گرد جمع کرنے کے لئے یہ باتیں کرتے ہیں ۔ ہاں یہ بھی ٹھیک ہے آج کل ایسی باتیں کر کے اپنے مفاد لیتے ہیں ۔مگر ان میں کوئی تقوی نہیں ہوتا ہے نہ وہ پیدا کرتے ہیں ۔ بلکہ اپنے مفاد کو لیتے ہیں ۔دنیا میں رہنے والے تقوی کے متلاشی ہوتے ہیں سینکڑوں خطوط آتے ہیں کہ ہم میں تقوی پیدا ہو جائے اورہماری اولادوں میں بھی ۔یہ سب بیعت کی وجہ سے ہے ۔ اور وہ لوگ دنیا کی نعمتوں سے محروم نہیں رہے ۔ اللہ تعالیٰ انبیاء کو بھی دنیاوی نعمتوں سے نوازتا ہے اور اس پر چلنے والوں کو بھی نوازتا ہے اور بعض دفعہ عارضی تنگیاں ہوتی ہیں مگر پھر حالات بہترہو جاتے ہیں ۔اور متقی میں قناعت بھی ہوتی ہے اور پھر اللہ تعالیٰ جو اس کو دیتا ہے ان کو شکر کی عادت پیدا ہوتی ہے اور جب خدا تعالیٰ کے شکر کی عادت پیدا ہو جائے تو مزید فضل ہوتے ہیں ۔اور ان فضلوں کو دیکھ کر حقیقی مومن قربانیوں کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور کرتا بھی ہے ۔ آج اس زمانہ میں اس مضمون کا حقیقی ادراک ہم احمدیوں کو ہے ۔ جن کے سامنے آنحضرت ﷺ کا زمانہ اور آپ ﷺ کے غلام صادق حضرت مسیح موعود ؑ کا بھی زمانہ ہے ۔حضرت مصلح موعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ دیکھو نبی کریم ﷺ سے لوگوں نے سب کچھ چھین لیا اور صحابہ سے بھی مگر کیا ہوا خدا نے ان کو سب کچھ دیا ۔اسی طرح حضرت مسیح موعود ؑ نے بھی خدا تعالیٰ کے لئے سب کچھ چھوڑا ۔ باوجود اس کے کہ آپ کے پاس جائیداد تھی ۔ باوجھ سمجھتی تھی کہ مفت خورے ہیں ۔مگر پھر اللہ تعالیٰ نے سب کچھ دیا ۔ فرمایا : لفاظات الموائد کان اکلی ۔ ۔۔۔۔ خدا نے اب مجھے توفیق دی ہے کہ ہزاروں لوگ میرے دستر خوان پر کھانا کھاتے ہیں ۔ہمارا ایمان یقینا بڑھتا ہے جب ہم ابتدا کے زمانہ اور اب کے زمانہ کو دیکھتے ہیں ۔ایک اور جگہ فرمایا ۔ جب حضرت مسیح موعود ؑ پیدا ہوئے تو خوشی ہوئی ہو گی اور جب آپ بڑھے ہوئے دنیا سے بے رغبتی پیداہوئی تو والد آپ کی حالت دیکھ کر آہ بھرتے تھے ۔کہ بیٹا کسی قابل نہیں ہے ۔یہ ابتداء تھی اور انتہاء نہیں ہوئی جب فات ہوئی تو اس و قت ہزاروں آدمی آپ پر قربان ہونے کو تیار تھے ۔ حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا :جب شروع میں کوئی مہمان ملنے آتا حضرت مسیح موعود ؑ سے تو بھاوجہ کو کہتے تو وہ کھانا نہ دیتی پھر آپ ؑ اپنا کھانا اس مہمان کو دے دیتے ۔اور خود فاقہ کر لیتے ۔فرمایا : وہ بھاوجہ پھر بیعت کر کے اسی کی بیعت میں آئی ۔ آج لنگر دنیا کے بہت سے ممالک میں چل رہا ہے ۔اور ابھی بھی یہ انتہاء نہیں یہ عارضی انتہا ہے ۔جلسہ کا انتظام بھی لنگر کا بہت وسیع ہے ۔بہت سے جرنلسٹ نے روٹی پلاٹ دیکھ کر بہت متاثر ہوئے ۔کیا وہ زمانہ تھا کہ ایک مہمان آتا تھا اور آپ ؑ اپنا کھانا اس کو دے دیتے تھے لیکن آج دنیا کے مختلف ممالک میں ہزاروں لوگ آپ کے دستر خوان سے کھانا کھاتے ہیں ۔ یہ بھی انتہاء نہیں ہے ابھی بھی اس لنگر نے پھیلنا ہے ۔ لاکھوں اور کڑوروں نے آپ ؑ کو ماننے کے بعد آپ کے لنگر سے کھانا بھی کھانا ہے اور تقوی میں بھی بڑھنا ہے ۔ آج جو دنیا کمانے والے معیار نظر آتے ہیں یہ بھی کوئی انتہاء نہیں ہے اس میں بھی اضافہ ہوتا چلا جانا ہے ۔پس اگر غور کرنے والا لنگر کے نظام کو دیکھے تو یہی آپ ؑ کی صداقت کا بہت بڑا نشان ہے ۔پھر اس سارے نظام کو چلانے کے لئے جو مالی قربانی کی روح افراد میں پیدا ہوئی ہے یہ بھی اسی تقوی کا نتیجہ ہے ۔جو اس بیعت کی وجہ سے ہوئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو حقیقی تقوی اپنے اندر پیدا کرنے کی توفیق دے ۔ آمین حضرت مصلح موعود ؓ حضرت مسیح موعود ؑ کی زندگی کے واقعات بیان کر کے اس سے جو نتیجہ نکالتے ہیں یہ بھی آپ ؓ کا خاصہ ہے ۔ جو ہمارے ایمان کو بڑھانے والےہوتے ہیں ۔ آپ ؑ کے کھانے کا انداز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا آپ ؑ کا کھانا کا انداز بہت نرالہ تھا ۔ آپ لقمہ لیتے اور پھر آپ انگلیوں سے اس کے ریزے بناتے جاتے اور پھر سبحان اللہ کہتے اور پھر ایک چھوٹا سا ریزہ لے کر سالن میں ڈوبا کر کھاتے ۔ہر لقمہ پر آپ سبحان اللہ سبحان اللہ کہہ کر خدا تعالیٰ سے معذرت کرتے تھے کہ یہ چیز تم نے ہمارے ساتھ لگائی ہے ورنہ دین کی مصیبت کے وقت یہ ہرگز جائز نہ تھا ۔غذا بھی ایک مجاہدہ ہوتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا استعمال کریں تو اس کا شکر کریں اور پھر دین کے درد کو بھی محسوس کریں ۔دنیا کی ہر ایک چیز تسبیح کر رہی ہے اور اس کو سنا بھی جا سکتا ہے اور ایک اعلی درجہ کا سننا ہے اور ایک ادنی درجہ کا سننا ہے ۔جب کھانا کھاتے بسم اللہ پڑھتا ہے اور ختم پر دعا کرتا ہے تو یہ اس تسبیح کی تصدیق کرتا ہے ۔ یہ تسبیح ان چیزوں کی طرف سے ہی ہوتی ہے ۔پس کتنے ہیں جو اس پر عمل کرتے ہیں ؟انسان جو بھی چیز کو دیکھ کر تسبیح کرتا ہے وہ ان چیزوں کی ہی تسبیح ہے اور اظہار انسان کے منہ سے ہی ہوتا ہے ۔ اس تسبیح کے انداز کو اپنانے کی کوشش کرنی چاہیے اور یہی تقوی بھی ہے ۔ اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود ؑ کو اللہ تعالیٰ نے اسلام پر حملہ کرنے والوں کو جواب دینے اور اسلام کی خوبصورتی ظاہر کرنے کے لئے بھیجا ہے ۔ اس کا بھی ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ ایک دفعہ ایک عیسائی آیا اور اس نے کہا قرآن کریم کی زبان ام الالسنہ ہے ۔مختصر ہوتی ہے ۔فرمایا ہم نہیں مانتے ۔ چلو ہم اس کو مان لیتے ہیں اور عربی زبان کو دیکھتے ہیں ا س معیار پر پوری ہوتی ہے کہ نہیں ۔ اس نے کہا تھا انگریزی زبان عربی کے مقابلہ میں اعلی ہے ۔ آپ نے فرمایا نہیں ۔ قرآن کریم کو پڑھنے والے ہونگے اور وہ دشمنوں کو اس کا جواب دین گے ۔ اس کے اندر ایسا مادہ رکھ دیا ہے جو بھی اعتراض کرے گا اس کے اندر یہ جواب ہوگا ۔سر سید نے بھی جواب دیئے ۔ پھر حضرت مسیح موعود ؑ نے بھی دشمنوں کو جواب دئے ۔ آپ کے دشمنوں نے بھی اعتراف کیا کہ آپ ؑ نے اسلام کا دفاع کیا ہے اس سے پہلے کسی نے ایسا نہیں کیا ۔آنحضرت ﷺ کو بچانا تھا جب دشمن نے تلوار کا حملہ کیا تو جواب حملہ سے دیا ۔ پھر جب تاریخ سے حملہ کیا تو تاریخ سے جواب دیا گیا ۔آج بھی جو اسلام پر اعتراض کرتے ہیں ہم علم الکلام سے جو حضور ؑ نے بیان کیا جواب دے سکتے ہیں ۔کم علمی کے باوجود عالم بننے کے شوق میں ادھر ادھر باتیں کر جاتے ہیں جس سے دشمن کو استہزا کا موقع ملتا ہے ۔ ایسے ہی واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : لوگ نئے نئے مسائل مذہب میں داخل کر رہے ہیں ۔ایک دشمن حضور ؑ کے زمانہ میں تھے بٹالہ کے حضور ؑ نے یہ مسئلہ بیان کیا تھا ۔ کہ عربی زبان ام الالسنہ ہے ۔ یہ صاحب جو تھے انہوں نے اس مسئلہ کو لے لیا اور اسی کام میں شروع ہو گئے ۔ زیادہ علم نہ تھا ۔ہم ہر لفظ کا عربی زبان سے نکلا ہوا ثابت کریں گے ۔سب کچھ قرآن کریم میں موجود سے مراد تھا تمام ضروریات دینیہ ۔ مگر کسی نے کہہ دیا کہ آلو اور مرچ کا قرآن کریم میں زکر نہیں ۔ انہوں نے کہا الولو والمرجان کے معنی اسی کے ہیں ۔ آلو اور مرچیں ۔ حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا :اصل طریق وسعتی ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تغیر پیدا کرنا تو پھر دنیا اس سے روک نہیں سکتی ۔غلط سوچ کے بارہ میں بیان کیا کہ ایک شخص قادیان آیا آپ ابراہیم ہیں نوح ہیں عیسی وغیرہ ہیں تو مجھے بھی وحی کرتا ہے تو محمد ہے ۔ تمہاری دلیل مجھ پر کیا اثر کر سکتی ہے ۔جب ان کو حضور ؑ کی خدمت میں پیش کیا تو اس نے کہا خدا تعالیٰ نے مجھے کہا ہے تم محمد ہو ۔ آپ ؑ نے فرمایا مجھے تو خدا یہ نہیں کہتا لیکن جب وہ کہتا ہے تو عیسی والی صفات مجھے دیتا ہے ۔ موسی کے ساتھ اس کے نشانات دیتا ہے ۔ اگر آپ کو اللہ تعالیٰ محمد کہتا تو کیا وہ آپ کو قرآن کریم کے معارف بھی دیتا ہے کہ نہیں ۔ اس نے کہا دیتا تو کچھ نہیں ۔آپ ؑ نے فرمایا ۔ سچے اور جھوٹے میں یہی فرق ہے ۔آپ کے ساتھ شیطان مذاق کرتا ہے اگر آپ کو محمد کہا جاتا ہے اور اس کی صفات نہیں دیتا تو پھر یہ خدا نہیں ہے ۔ اگر وہ خدا کہتا ہے تو پھر آپ کو اس کی صفات بھی دی جاتی ۔اللہ تعالیٰ جب کسی کو کوئی لقب دیتا ہے تو پھر اس کی نشانات بھی ساتھ دیتا ہے اور اس کی تائید بھی دیتا ہے اور یہی کچھ حضرت مسیح موعود ؑ کے ساتھ ہم نے دیکھا اور یہی خلافت احمدیہ کی فعلی شہادت کو اس خوش خبری کو ہم نے دیکھا ۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک احمدی کے ایمان میں ترقی دے ۔ آمین نماز کے بعد میں ایک جنازہ بھی پڑھاؤنگا جو مکرمہ صاحبزادی امتہ الباری صاحبہ کا ہے ۔ جو 87 سال کی عمر میں وفات پا گئیں ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ حضرت مسیح موعود ؑ کی پوتی اور حضرت مرزا شریف احمد صاحب ؓ کی بیٹی تھیں ۔ حضور کی پھوپھی بھی تھیں ۔ 1940 کو جب ان کو نکاح ہوا ہے تو حضرت خلیفہ المسیح الثانی ؓ نے جمعہ کے دن خطبہ سے قبل اعلان فرمایا : تری نسلا بعیدا کے معنی ہیں بہت نسل ہوگی اور جتنا بھی بڑی ہو جائے بادشاہی بھی مل جائے پھر بھی فخر اس وجود کی طرف منسوب میں وہ سمجھے گی ۔ یعنی وہ نسل حضرت مسیح موعود ؑ کی طرف منسوب ہونا ہی فخر سمجھے گی ۔آپ ؑ کی عظمت کا نشان رہے گی ۔ یعنی وہ اولاد اپنے دادا کی عظمت کا اقرار کرتی ہے ۔اللہ تعالیٰ اس خاندان کو ہمیشہ اس وجود کی عظمت کا بلند کرنے والا بنائے ۔ آمین حضرت امتہ الباری صاحبہ نے اسی بس میں سفر کیا جس میں حضرت اماں جان ؓ نے سفر کیا ۔ آپ کی بہت بڑی خصوصیت غریب پروری اور مہمان نوازی تھی ۔بہت بے تکلف تھیں ۔بہت مہمان نواز تھیں ۔ پھر اسی طرح حلقہ وسیع تھا ۔بہت وسیع تعلقات تھے جس جس کا واسطہ پڑآ وہ گرویدہ ہوگیا ۔خاندان کے لڑکے لڑکیاں جب لاہور میں پڑھتے تھے تو آپ بہت مہمان نوازی کرتی تھیں ۔اللہ تعالیٰ نے کشائش بھی دی تو آپ نے غربیوں کی خدمت کی ۔شادیوں پر غریبوں کو دیا کرتی تھیں ۔آپ کو کچھ عرصہ سے تکلیف تھی بڑے صبر سے برداشت کرتی رہیں ۔ 31 اگست کو آپ دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے خالق حقیقی سے جا ملیں ۔ چند معیاری دیتی تھیں ۔1952 سے 1994 تک لجنہ کے مختلف عہدوں پر خدمت کی توفیق پائی ۔غم اور خوشی میں شریک ہونے والی اپنا سمجھ کر شریک ہوتی تھیں ۔خلافت سے تعلق انتہاء کا تھا عزت و احترام کا تھا ۔فکر تھی کہ میری اولاد بھی نیک ہو ۔ہمیشہ نیکیوں پر چلے ۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے مغفرت کا سلوک فرمائے ۔ آمین

No comments:

Post a Comment