
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ خطبہ جمعہ 23 اکتوبرر 2015 بیت الفتوح یوکے(طالب دعاو مرتب کردہ : یاسر احمد ناصر مربی سلسلہ ) تشہد و سورة الحمدللہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے کہ ہر سفر میں اپنی تائید و نصرت کے نشانات دکھاتا ہے ۔بعض دفعہ فکر ہوتی ہے کہ جماعتیں تجربہ نہیں رکھتیں اور ایسے پروگرام بنا لیتی ہیں جو اپنے پروگرام نہیں ہوتے وہ غیروں کے ساتھ بنا لیتی ہیں جو غیروں کے ساتھ پروگرام ہوں ان کو ظاہر ہے پہلے ان کے ذریعوں سے منتشر بھی کرنا پڑتا ہے ۔اس لئے فکر ہوتی ہے کہ جماعت مخالف پروگرام میں کوئی برائی پیدا نہ ہو ۔یا پروگرام کم معیار کا ہو تو دشمنوں کی ہنسی کا نشانہ نہ بن جائے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کر سکتے اس بات پر کہ اپنی تائید اور نصرت کے نظارے دکھاتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے وعدہ ہر دفعہ نیا رنگ دکھاتے ہیں بلکہ بعض دفعہ غیروں کے اس طرح اظہار ہو رہے ہوتے ہیں اور سراہتے ہیں ہم سوچ میں پڑ جاتے ہیں کیا واقعی ہم نے ایسا پروگرام کیا تھا جو اس قدر تعریف ہو رہی ہے ۔کہ یہ صرف ظاہری تعریف نہیں ہوتی بلکہ لگتا ہے کہ غیر کے جذبات دل سے نکل رہے ہوتے ہین ان کی آنکھیں چہرے بتا رہے ہوتے ہیں کہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ان کے دل کی آواز ہے ۔جرمنی کی جماعت کے اچھے تعلقات ہیں اور میڈیا اور اخبارات بھی جانتے ہیں اور اچھی کووریج دیتے ہیں ۔بعض منفی بھی لکھتے ہیں یا بعض سیاست دان جو ایشین مزاج ہیں اپنی سستی شہرت کے لئے جماعت کے خلاف بھی ہوتے ہیں لیکن عموما جرمن سیاست دان اور پڑھا لکھا طبقہ بھی جو کسی نہ کسی رنگ میں جماعت سے تعارف رکھتے ہیں جماعت کے لئے اچھے خیالات رکھتے ہیں ۔یہ بھی اسلام کی اشاعت کا ذریعہ ہے ۔لیکن ہالینڈ میں جماعت بھی چھوٹی سی ہے اور اب تک اتنی فعال کوشش بھی نہیں کی جس سے میڈیا کے ذریعہ ملک کے وسیع حصہ میں اسلام کا تعارف ہوا ہو ۔پھر ممبران پارلیمنٹ سے بھی اور پڑھا لکھے طبقہ سے بھی ان کے ایسے تعلقات نہیں ہیں جس کی وجہ سے وہ جماعت کو جانتے ہوں اور اسلام کی نمائندہ جماعت سمجھتے ہوں ۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک ممبر پارلیمنٹ سے دو تین سال پہلے تعارف ہوا تھا ۔ان کے ذریعہ ہالینڈ کی پارلمنٹ میں ایک پروگرام کروانے کا سامان کر دیا ۔امیر صاحب نے لکھا کہ آپ آئیں میں گیا میرا خیال تھا کہ چند لوگ ہونگے لوگ نہیں آئیں گے وغیرہ مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہالینڈ جماعت کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو بہت اچھا پروگرام ہوگیا ۔اس تقریب میں 89 حکام شامل تھے جن میں ممبر پارلیمنٹ کے علاوہ کئی ممالک کے ممبران بھی شامل تھے ۔جیسا کہ میں نے کہا جرمنی کی جماعت کے اچھی سطح کے تعلقات ہیں ۔لیکن وہ بھی اس طرح کا پروگرام نہیں کروا سکے ۔پروگرام نہ کرنے کی ایک وجہ شائد یہ بھی ہو ۔ہالینڈ کی جماعت نے جو تعلقات بنائے ہیں میڈیا سے رابطے کئے ہیں ان کو مزید آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے اس کو اپنی انتہاء نہیں سمجھیں گے ۔اس پروگرام میں 18 بیس منٹ میں نے بیان کیا ۔عموما جہاں بھی اسلام کی تعلیم کے حوالہ سے کچھ کہوں لوگ سمجھتے ہیں اور اظہار کر دیتے ہیں ان کے سوالوں کے جواب مل گئے ۔لیکن یہاں مختلف تین چار ممبران نے کہا ہم نے سوال بھی کرنے ہیں ۔ اس پر انہوں نے سوال کئے جو وہی باتیں تھیں لگتا تھا وہ مجھ سے نکلوانے کے لئے کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اسلام کی تعلیم کو غلط کہنے کے لئے کوشش کر رہے ہیں بعض ڈچ جو پروگرام دیکھ رہے تھے انہوں نے بھی اس بات پر ناراضگی کا اظہار کیا اور شرمندگی کا بھی اظہار کیا ۔ہم کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے مجھے برداشت اللہ نے بہت دی ہوئی ہے ۔اس پروگرام کی لمبی تفصیل ہے ۔سن لی ہوگی یا پڑھ لیں ۔اس وقت بیان نیہں ہو سکتا ۔لیکن اس پروگرام میں شامل مہمانوں اور سننے والوں پر اسلام کی تعلیم کا اچھا اثر پڑا ہے ۔یہ پروگرام منعقد ہونا اللہ کا خاص فضل ہے ۔کسی کوشش سے نہیں ۔ان کے نزدیک اس کی میڈیا میں بہت زیادہ کوریج ہونی چاہیے تھی ۔تا کہ اسلام کی صحیح تعلیم کا پتہ چلتا ۔اسی ممبر نے یہ بھی کہا کہ مجھ سے بہت سے لوگوں نے ممبران نے پوچھا کہ یہ پروگرام تم نے کس طرح منعقد کروا لیا ۔یہ ممبر پارلیمنٹ کہتے ہیں یہ پروگرام میری امید سے ہر لحاظ سے بہت زیادہ کامیاب رہا ۔وہ کہتے ہیں کہ اس کے بہت اچھے نتائج نکلیں گے ۔ہالینڈ کے لوگوں کا یہ حق ہے کہ ان کو اسلام کا امن پسند چہرہ بھی دکھایا جائے ۔کہتے ہیں کہ اب ہم مزید پروگرام کا انعقاد کریں گے ۔کئی لوگوں نے اسلام کی تعلیم کا چہرہ دکھانے پر شکریہ ادا کیا ۔مجھے خواہش ہے کہ آپ بار بار ہالینڈ آئیں تا کہ اسلام کا ڈر لوگوں سے نکل جائے ۔پھر اس تقریب میں سپین کے ایمبیڈر نے کہا بالخصوص برداشت اور عزت و احترام جیسے سوالات کے جوابات دیئے وہ بہت اعلی تھے ۔برداشت مذہبی آزادی اور اخوت کے بارہ میں بیان کیں یہ دل کو لگتی ہین اور میں حمایت کرتا ہوں ۔کیونکہ بین المذاہب ہم آہنگی اور دنیا کے امن کے لئے ان باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے ۔پھر ممبر آف پارلیمنٹ سپین کہتے ہیں کہ یہ سن کر خوشی ہوئی جہاں جنگ اور مذہب کے نام پر ظلم والی جگہ پر امن کے پیغام پر شکر گزار ہیں ۔پھر ایک اور ملک کے ممبر نے کہا یہ تقریب جماعت کے لئے بہت بڑی کامیابی ہے کہ ان کے امام نے اسلام کی حقیقی تعلیم اعلی سطح پر پیش کی اور سوالات نہایت برداشت سے جواب دیے۔آج کے پر خطر دنیا میں ایسی تقریبات کی اشد ضرورت ہے ۔پھر ہیومن رائیًٹ کے ممبران نے کہا یہ تمام پولیسی میکر تک یہ پیغام پہنچائے ۔پھر کروشیا کے ممبر نے کہا کہ امام جماعت نے اسلام تعلیمات کو بہت اعلی رنگ میں پیش کیا تمام مسلمان اس پر عمل کریں تو دنیا امن کا گہوارہ بن سکتی ہے ۔اگر دنیا کے طاقتوار ممالک ان نکات پر عمل کریں تو دنیا امن کی طرف آ سکتی ہے پھر سویڈن کے ممبر کہتے ہیں خطاب بڑا اچھا تھا اثر کرنے والا تھا ۔مذہبی لیڈر کی حیثیت سے آ پ نے صاحب اختیار لوگوں کو جھنجھوڑا ہے ۔آپ نے امن بھائ چارہ کے بارہ میں توجہ دلائی ہے اور دنیا کو امن کا پیغام دیا ہے۔پھر البانیہ کے مشیر اعلی اور مذہبی امور کے صدر بھی رہ چکے ہیں وہ کہتے ہیں میرے تصور میں بھی نہیں تھا کہ جماعت احمدیہ اتنی اعلی سطح پر تبلیغ اسلام کر رہی ہے ۔ایک یونیورسٹی کے پروفیسر نے کہا کہ امام جماعت نے اسلام کی امن کے حوالہ سے جس واضح انداز میں ذکر کیا کہ ہمارے پروگرام میں جماعت کو شامل ہونا چاہیے تا کہ اسلام کی اصل اور حقیقی تصویر ہمارے سامنے آ سکے ۔جتنے دن رہا کوئی نہ کوئی اخبار ٹیلی ویژن والے انٹرویو لیتے رہے اور جس میں ان کو مقام اور دعوی اسلام کی تبلیغ خلافت وغیرہ کے موضوع پر بتایا گیا۔اس ذریعہ سے جماعت کا کافی وسیع تعارف ہوا ہے ۔ پہلا انٹریو ایک ریڈیو والے نے لیا جو مسجد سے ہی نشر کیا گیا ۔پھر ایک ٹی وی اسٹیشن کے جرنلسٹ نے انٹرویو لیا ۔پھر دو ملین افراد کو پیغام پہنچا ۔پھر 6 اکتوبر کو ہالینڈ کے نیشنل اخبار نے انٹریو لیا پھر 7 کو ایک اخبار نے انٹریو لیا پھر 9 اکتوبر کو ہالینڈ کے اخبار نے انٹرویو لیا ۔ان کے ذریعہ جو کوریج ہوئی وہ بہت اچھی تھی ۔یہ بہت اچھا پروگرام تھا ۔ہالینڈ کے کافی اخبار ات نے خبریں دیں ۔9 اخبارت نے انٹرنیٹ پر خبریں دیں ۔تین ملین لوگوں تک پیغام پہنچا ۔ملک کے نیشنل ٹی وی پر بھی خبریں دی گئی ۔پانچ ملین لوگوں تک پیغام پہنچا مجموعی طور پر پہلی کوشش میں 8 ملین افراد تک یہ پیغام پہنچا ہے ۔ہالینڈ میں دوسری مسجد کی بنیاد رکھی گئی ۔60 سال کے بعد باقاعدہ جماعت مسجد بنا رہی ہے ۔اور اب مسجد وقت کی ضررورت بھی تھی ۔اس تقریب میں لوگ 102 شامل تھئے میئر ججز مذہبی لیڈر وغیرہ شامل تھے ۔مئیر صاحب نے کہا جو بھی باتیں آپ نے مسجد کے بارہ میں کیں یہ ایک پر امن فضا قائم کرنے کے لئے اثر انگیز ہے ہم سب کو مل کر اس پیغام کو نافذ کرنا چاہیے ۔مسجد کے ذریعہ امن کا پیغام ضرور پھیلے گا۔ایک نے کہا لگتا ہے کہ مستقبل میں آپ کی جماعت ہی امن کی علامت ہے ۔پھر ایک نیشنل ریڈیو نے سنگ بنیاد کی ساڑھے چار منٹ کی رپورٹ نشر کی ۔حضور کی آمد کے بارہ میں اور خلیفہ کے بارہ میں بھی بتایا گیا ۔اس کے علاوہ بھی کافی خبریں دیں میڈیا نے ۔اس کے بعد جرمنی میں دو مساجد کی بنیاد رکھی اور معززین آئے جماعت کا تعارف مزید بڑھا ۔نور ہال میں سنگ بنیاد رکھا ۔ایک ٹی وی چینل نے انٹریو لیا ۔اللہ تعالیٰ حقیقت میں بھی ان کے دل کھولے اور اسلام کی تعلیم ان کے دل میں پڑے ۔ ایک عورت نے کہا میں پہلی دفعہ اس پروگرام میں آئی ہوں اور حیران ہوں ہر انسان ایک سلجھا ہوا انسان ہے ۔یہ تاثرات ہمیں یاد رکھنے چاہیے کہ ہم ہمیشہ سلجھے ہوئے رہیں ۔کہتی ہیں کہ ہم جرمن اس سے عاری ہو چکے ہیں ۔میں جو اخلاقی قدریں سکھانا چاہتا ہوں انہی قدروں کے خلاف سکول میں تعلیم دی جار ہی ہے ۔لوگ سمجھتے ہیں جو آزادی کے نام پر تعلیم دی جا رہی ہے ۔یہاں کے لوگ بھی بہت پریشان ہیں ۔اپنے بچوں کو سمجھانا چاہیے کہ ہر بات ان کی سچ نہیں ہے وہاں ایک خاتون کو پتہ چلا کہ افریقہ میں جماعت پانی دینے کے لئے کیا کچھ کر رہی ہے ۔ایک عورت نے کہا پانی کو ضائع بالکل نہیں کرنا چاہیے ان کی باتیں سنو تا کہ تم کو کچھ سمجھ آئے ۔اسی طرح ایک میاں بیوی تھے وہ ایک احمدی سے پردہ کے متعلق بحث کر رہے تھے انہوں نے پوچھا عورتوں کے لئے علیحدہ مارکی کیوں ہے ۔جب انہوں نے خطاب سن لیا اور پردہ کی رو بتائی گئی تو پھر کہنے لگی مغرب میں عورت کی آزادی سطحی طور پر ہے ۔صحیح آزادی نہیں ۔اور پردہ میں ہی عورت کی شان ہے ۔پس غیروں کو اسلامی تعلیم کی سمجھ آ رہی ہے ہماری عورتوں کو بھی جو پردہ کے بارہ میں کمپلیس ہو جاتا ہے ان کا اعتماد بڑھنا چاہیے ۔ایک آدمی نے کہا مجھے تجسس تھا کہ آپ کے خلیفہ کونسی باتیں کریں گے مگر میں نے دیکھا جو کچھ کہا ہے سچ کہا ہے ۔اب یہ باتیں سن کر میرے اندر کوئی خوف باقی نہیں رہا ہے ۔پھر ایک دوست نے کہا میں مذہب کا مخالف ہوں لیکن آپ کے خلیفہ نے ثابت کر دیا ہے کہ اسلام برداشت کا مذہب ہے ۔خلیفہ کا پیغام تھا کہ رنجش ختم کر دیں ۔ایک خاتون کہتی ہیں جو امام جماعت نے باتیں کیں ان کی بہت ضرورت تھی ۔امام جماعت کا پروگرام سب کو متحد کر سکتا ہے ۔اخبارات نے خبریں شائع کیں ۔مسجد کی بنیاد کے حوالے سے کافی خبریں شائع ہوئیں ۔ریڈیو نے بھی اس مسجد کی خبر دی ۔مجموعی طور پر دو مسجدوں کے سنگ بنیاد کی چار لاکھ تریسٹھ ہزار کی اشاعت تھی جن میں خبر آئی ۔ٹی وی اور ریڈیو کی تعداد بھی کئی ملینز مین ہے ۔جامعہ احمدیہ جرمنی کی پہلی کلاس اس دفعہ میدان عمل میں آئی ہے ۔سولہ مربیان تیار ہوئے ہیں ۔اصل مقصد تو جرمنی کا یہی تھا ۔یہ 200 8 شروع ہوا تھا ۔اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے جامعہ کی باقاعدہ عمارت ہے ۔اللہ تعالیٰ ان فارغ ہونے والے مربیان کو صحیح رنگ میں توفیق دے اور وفا کے ساتھ اپنے وقف کو نبھانے کی توفیق بھی دے ۔ حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں :ہماری جماعت کے متعلق اللہ تعالیٰ کے بڑے بڑے وعدے ہیں کوئی انسانی عقل یا دور اندیشی یا دنیاوی اسبا ب ان وعدوں تک ہم کو نہیں پنہچا سکتے ۔اللہ تعالیٰ خود ہی اسباب پیدا کر دے گا۔تب یہ انجام کو ہوگا ۔فرمایا میں جانتا ہوں کہ خدا نے اس سلسلہ کو پیدا کیا ہے اور اس کے ذریعہ یہ نشو نما پا رہا ہے ۔اصل یہی ہے کہ اللہ کے ارادہ کے بغیر کوئی نشو نما نہیں پا سکتا ۔مگر جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے وہ ایک بیج کی طرح ہو جاتی ہے ۔پس اللہ تعالیٰ کی تقدیر جب فیصلہ کرتی ہے کہ یہ ہو تو وہ ہونے لگ جاتی ہے ۔اور وعدہ جماعت کی ترقیات ہے اور یہی سلوک بھی نظر آتا ہے ۔یہ جو کچھ ہو رہا ہے جو رپورٹ بیان کی ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کا کام ہے ۔کسی کا کوئی کمال نہیں ہے ۔ہاں اللہ تعالیٰ کی تقدیر کو سمجھتے ہوئے جو کوشش کر سکتے ہیں وہ کرنی چاہیے تا کہ ہم بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے ہوں اللہ تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے ۔ مکرم مرزا اظہر احمد صاحب جو حضرت مصلح موعود ؓ کے بیٹے تھے ان کا نماز جنازہ بھی پڑھاؤنگا۔یہ آخری بیٹے حیات تھے ۔ یہ دوسری نسل ختم ہوئی اب آئندہ نسلیں اللہ تعالیٰ کرے کہ دین پر قائم رہنے والی ہوں ۔ آمین فرقان بٹالین میں بھی خدمت کی توفیق ملی اور خزانہ میں بھی لمبا عرصہ خدمت کی ۔خلافت سے بڑا گہرا تعلق تھا میرے ماموں تھے مگر بہت تعلق احترام کا رکھا ہے ۔جب ان پر میری نظر پڑی جلسہ میں تو ایک خالص وفا خلوص ان کے اندر جھلک رہا تھا ۔1956 میں ان کا نکاح ہوا قیصرہ خانم صاحبہ سے ۔ایک داماد ان کے واقف زندگی ہیں ایک ڈاکٹر ہیں لندن میں ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان سے رحمت اور مغفرت کا سلوک فرمائے اور اپنی رحمت میں جگہ دے آمین ۔
No comments:
Post a Comment