
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ خطبہ جمعہ 16 اکتوبرر 2015 بیت العافیت جرمنی(طالب دعاو مرتب کردہ : یاسر احمد ناصر مربی سلسلہ ) تشہد و سورة الحمدللہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : گزشتہ دنوں ایک آدمی نے ہالینڈ میں پوچھا کیا جماعت احمدیہ سب سے زیادہ ترقی کرنے والی جماعت ہے ۔میں نے اس کو کہا ہے بین الاقوامی طور پر دیکھا جائے تو یہ سب سے تیزی سے پھیلنے والی جماعت ہے ۔اور یہی مسیح موعود ؑ کی صداقت کا نشان ہے ۔کہ قادیان سے اب یہ ہر جگہ گونج رہی ہے ۔جب ہم دیکھتے ہین کہ اس وقت ایک عام آدمی بھی یہ سوچ نہ سکتا تھا کہ جماعت احمدیہ دنیا میں جانی جائے گی تب حضرت مسیح موعود ؑ بڑے وثوق سے یہ فرمایا کرتے تھے کہ ایک وقت آئے گا جماعت دنیا میں جانی جائے گی۔ایک موقع پر فرمایا : اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کو پھیلا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے چاہا ہے کہ اس سلسلہ کو پھیلائے ۔فرمایا : آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ کو ایسا پھیلا دےگا کہ سب پر غالب کر دےگا۔اور سب ابتلاء دور ہو جائیں گے ۔کوئی بھی درخت اس قدر جلدی پھل نہیں لاتا جس قدر ہماری جماعت ترقی کر رہی ہے ۔یہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے اور عجیب ۔پس ہم تو اس بات پر قائم ہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے صرف 125 سال پہلے ایک چھوٹے سے علاقہ سے اٹھی آواز کو دنیا میں پھیلا دیا بلکہ مخلصین کی جماعتیں بھی قائم کرتا جا رہا ہے۔تو وہ خدا اپنے فضل سے آپ ؑ کی یہ بات بھی پوری فرمائے گا کہ ابتلاء دور ہو جائیں گے اور یہ سلسلہ سب پر غالب ہوگا۔آج کل ہم اس دور میں سے گزر رہے ہیں کہ یہ سلسلہ دنیا میں پھیل رہا ہے ۔تبھی تو یہ جرنلسٹ نے پوچھا تھا۔گو ابتلاء بھی ساتھ ساتھ چل رہے ہیں ۔لیکن دشمن کی نیت اور کوشش کو دیکھیں تو یہ ابتلاء کچھ بھی نہیں ہیں ۔ہر ابتلاء احمدیت کی وجہ سے ذاتی ہو یا پھر پوری جماعت پر ہو ۔ہر ابتلاء اللہ تعالیٰ کی تائیدات کے جلوے دکھاتا ہے۔ہر احمدی جو مغرب میں پاکستان سے آیا ہے اگر اس کے اندر شکر گزاری کا احساس ہے تو وہ یہ انکار نہیں کر سکتا کہ ہجرت کے بعد کس قدر پھل اللہ تعالی نے دیا ہے۔پھر جو واقعات ملتے ہیں ان کو پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کہاں کہاں مخالفت ہے اور اس کی مدد کی جا رہی ہے ۔اگر یہ انسانی جماعت ہوتی تو جتنی مخالفت جماعت کے قیام سے اب تک ہو رہی ہے آپ ؑ کے ماننے والوں کے ساتھ جو سلوک ہے یہ سلسلہ ختم ہوجانا چاہیے تھا۔مگر یہ ختم نہیں ترقیات دکھا رہا ہے ۔حضور ؑ نے فرمایا : مخالفتوں نے ہر طرح مخالفت کی مگر خدا تعالیٰ نے ساتھ دیا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:مخالفین نے زور لگاتے رہے اور لگا رہے ہیں بڑے بڑے علماء بلکہ حکومتوں کی بھی پر زور کاروائیوں کے حضور ؑ کی بات ہی پوری ہو رہی ہے ۔یہ خدا تعالیٰ کا نشان ہے ۔اور جماعت کے مخالف ناکام ہیں ۔پھر جب لوگوں کا اس سلسلہ میں داخل ہونے کا پتہ چلتا ہے تو حیرت ہوتی ہے ۔حضور کےدور میں فقیروں کو بھی اطلاع دی جاتی رہی کہ مرزا مولی ہے اور مرزا صاحب سچے ہیں یہی خدا تعالیٰ کا منشاء ہے ۔ایک اور انسان نے مرزا صاحب کے درد میں کتاب لکھنی چاہی تو رسول کریم ﷺ نے اس کو خواب میں فرمایا تو رد لکھتا ہے مگر مرزا صاحب سچے ہیں ۔آج بھی جو کچھ رویا اور خوابوں کے ذریعہ تبلیغ ہو رہی ہے ۔یہ بھی بہت بڑا حصہ ہے ۔آج بھی اللہ تعالیٰ بے شمار لوگوں کی رہنمائی کر رہا ہے اور ان کی راہنمائی ہو رہی ہے ۔اس وقت کچھ واقعات پیش کرتا ہوں جن کی خوابوں کے ذریعہ سے راہنمائی ہوئی ۔قادیان سے ہزاروں میل دور ہیں بعض ایسے علاقوں میں ہیں جہاں کوئی ذریعہ بھی نہیں ہے ۔ایک آدمی حضور ؑ کی تصویر ایم ٹی اے پر دیکھ کر کہنے لگے یہ یہی بزرگ ہیں جو میں نے خواب میں دیکھے تھے ۔اسی طرح افریقہ کےدور دراز ملک میں کینی کراکری ۔ایک طالبعلم تھے۔بہت عرصہ سے تبلیغ میں تھے وہ آئے اور کہا بیعت کرنا چاہتا ہوں تو کہا خواب میں ایک کشتی میں سوار تھا ایک کشتی ڈوب رہی ہے اس کے مسافر ہم کو پکار رہے ہیں ہم ان کو اپنی کشتی میں سوار کر لیتے ہیں اور ہم اس میز پر ہیں جہاں امام مہدی موجود ہیں اور پینے کے لئے دودھ کا پیالہ دیتے ہیں ۔جو بہت عمدہ تھا۔میں سمجھ گیا کہ یہ جام اسی میں ۔اسی طرح ایوری کوسٹ میں ایک صاحب نے بتایا خواب دیکھا ایک بڑا مجمع ہے اور اس میں امام مہدی بھی ہیں ۔امام مہدی سے ملنے سے پہلے بیعت کر لو اور پھر آپ ؑ کو دیکھتا ہوں کہ آپ تبلیغ کر رہے ہیں اور اس کے بعد وہ بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گئے ۔پھر ہندوستان کیرالا میں ایکدوست کو پانچ ماہ قبل خواب کے ذریعہ احمدیت قبول کرلی۔پھر تیونس میں ایک دوست قادر صاحب نے بھی بیعت کی تو خواب کی وجہ سے۔پھر مالی کے ایک معلم بتاتے ہیں کہ ایک صاحب ہیں جو قصبہ کے رہنے والے ہیں دسمبر 2014 بیعت کی ۔ان کو خواب میں بتایا گیا تھا کہ بیعت کرو ۔جب ریڈیو میں سنا امام مہدی کی آمد تو خواب بھی یاد آگئی اور احمدی ہو گئے ۔پھر ایک احمدی نوجوان طاہر صاحب ہیں افریقہ کے ملک کے اس سال رمضان 27 رات کو دیکھا کہ چاند اپنی پوری روشنی کے ساتھ ہے ۔خواب میں آواز آئی کہ یہ روشنی ہے جس کو تم نے پا لیا ہے ۔اور خواب میں ہی سمجھایا گیا کہ یہ روشنی مراد احمدیت ہے جو پورے ملک میں پھیل جائے گی ۔لوگ سمجھتے ہیں کہ افریقہ کے لوگ یونہی قبول کر لیتے ہیں ۔ان کی فطرت نیک ہے تو اللہ بھی بتا دیتا ہے ۔دین کے لئے ان کے دل میں درد ہوتا ہے ۔مالی کے ایک اور صاحب ہیں جنہوں نے جماعت احمدیہ کے بارہ میں سنا سمجھ نہ سکے کہ سچی ہے یا نہیں استخارہ کیا اور تیسرے دن دیکھا کشتی میں ہیں پانی میں ڈوب جاتی ہے اور اتنے میں پانی سے ایک بچہ نکلتا ہے کہ بچنا ہے تو بیعت کر لو ۔انہوں نے بیعت کرلی ۔سیرالیون میں ایک صاحب کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب احمدی تھے لیکن میں جماعت سے دور ہوتا گیا اور تبلغی جماعت میں شامل ہو کر جانے لگا۔مجھ کو کافی سمجھایا مگر اثر نہ ہوا ۔کچھ عرصہ کے بعد خواب دیکھی کہ بہت بڑی آسمان پر ایک تصویر امام مسیح مہدی امام زمان کی ہے ۔پھر میں نے بیعت کرلی۔اللہ تعالیٰ خلفاء کو بھی خواب میں دیکھاک ر اہنمائی فرما دیتا ہے ۔ایک صاحب بحری جہاز میں تھے طوفان آگیا اور زندگی کے آثار ختم ہونے لگے تب ایک آدمی نے ہاتھ پھیلائے اور مجھ کنارہ پر لے آیا۔پھر ایم ٹی اے پر جب میری تصویر دیکھی تو کہنے لگا یہی خدا کا بندہ تھا جس نے بچایا تھا۔اس نے سارے خاندان کے ساتھ بیعت کر لی۔سوڈان کے لوگ بڑے کٹر ہیں وہاں کے ایک صاحب ہیں ایک ڈاکٹر نے کہا بیعت کرنا چاہتا ہوں ۔بیعت کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی اہلیہ نے اپنے میاں کو خلیفہ المسیح الرابع کو خواب میں دیکھا اور انہوں نے پوچھا کہ آپ نے بیعت کیوں نہیں کی ۔پھر ان کی بیٹی نے مجھے اپنے ابو کے ساتھ دیکھا اور یقین ہوگیا کہ جماعت سچی ہے خلافت کا نظام سچا ہے ۔موصوف کا تعلق صوفی خاندان سے ہے انہوں نے بتایا کہ ایک بزرگ ابراہیم صاحب ہیں انہوں نے پھر بیعت کر لی ۔اسی طرح بینن کا ایک واقعہ ہے ۔ایک دوست تھے جو کاروبار کے سلسلہ میں آئے نماز کے لئے دو مساجد دیکھ کر سوچ میں پڑھ گئے کہ کس مسجد میں جاؤں ۔غیر احمدیوں کے مسجد میں گئے اور پھر احمدیوں کی مسجد میں آگئے ۔اور پھر برا بھلا کہا اور صفائی اور سلیقہ کے لحاظ سے مسجد احمدیوں کی اچھی ہے ۔چنانچہ دیا کی کہ تو ہی مدد کر پھر خواب میں دیکھا میرے گھر کے دو صابن دکھائے گئے ایک نیلے رنگ کا اور ایک لوکل نیم بیداری میں تعبیر سمجھائی گئی اور پھر نیلے رنگ کی صفحیں ملی ۔پھر میں نے احمدیہ مسجد میں ہی یہ صفیں ہیں ۔پھر خواب میں دیکھا کہ امام نے مجھے کتاب دی ہے اس میں بہت خوبصورت تصویر ہے ۔انہوں نے مجھے جو کتاب دی اس میں وہی تصویر تھی جو کتاب میں دیکھی تھی ۔پھر ایک مرتبہ قرآن کریم دکھایا گیا چند دن کے بعد فرنچ ترجمہ قرآن وہ مسجد میں دیکھا اس طرح اللہ تعالیٰ میری راہنمائی کرتا گیا ۔ایک دن اللہ تعالیٰ نے نیم خوابی کے احکام میں بتایا گیا کہ دس احکام پڑھو اور ہر ایک مضمون میرے دل میں راسخ ہوتا جا رہا تھا ۔عین تین چار دن کے بعد باتیں ہو رہی تھیں کہ اسلام پر عمل کرنے کے لئے یہ دس شرائط ہیں ان کو پڑھو اور سمجھو ۔جب یہ پڑھیں تو بہت رویا کہ میرے خدا نے کس طرح مجھ کو ہدایت دی ہے ۔غرض بہت سے واقعات ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے خواب کے ذریعہ راہنمائی فرمائی ہے ۔پس یہ حق کو سمجھنے والے خوش قسمت لو گ ہیں ۔ان کے دل کو دیکھ کر راہنمائی کی ۔بعض لوگوں کی خوابوں سے ظاہر ہے کہ واضح راہنمائی فرماتا ہے ۔حضور ؑ ایک نومبائعین کے ساتھ تھے فرمایا آپ بڑے خوش قسمت ہیں کہ بڑے بڑے علماء کے لئے دروازہ بند کر دئے اور آپ کو اس دروازہ میں داخل کر دیا۔ہمیں بھی اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو یاد رکھنا چاہیے اور اس کا شکر گزار ہونا چاہیے ہو سکتا ہے کہ آپ کے آباؤ اجداد بھی اس مجلس میں شامل ہوں جس میں حضورؑ نے یہ الفاظ ادا فرمائے تھے ۔پھر آپ لوگوں کو ان بزرگوں کے لئے بھی دعا کرنی چاہیے جنہوں نے اس احسان کو یاد رکھا اور اپنی نسلوں میں جاری کیا ۔فرمایا: ہماری جماعت کو ہی دیکھ لو یہ سب کی سب ہمارے مخالفوں میں سے ہی آتے ہیں ان میں صلاحیت اور سعادت نہ ہو تو کس طرح آتے ۔بہت سے لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں پہلے میں گالیاں دیا کرتا تھا اور اب توبہ کرتا ہوں مجھے معاف کیا جائے ۔آج بھی ایسے لوگ ہیں بیعت کے بعد اخلاص و وفا میں بڑھے ۔مالی کے ممبر جماعت نے لکھا کہ ایک صاحب نے بتایا کہ بیعت کے بعد ان کے بھائی پاس گئی کہ تمہارا بھائی احمدی ہوگیا اور مسلمان نہین رہا ۔تم جا کر اس کو سمجھاؤ اور اس پر ان کو غصہ آیا اور سلمان صاحب کے پاس آئے اور کہاں چھوڑو ۔اگر نہیں چھوڑنی تو میں تمہارا تعلق کوئی نہیں ۔ان کے مخالف بھائی نے ریڈیو سننا شروع کیا کہ احمدیت سے اپنے بھائی کو بچائیں گے اور پھر کچھ عرصہ کے بعد ان کے دل کی حالت بدل گئی اور بیعت کرلی۔پس یہ اللہ تعالی کے کام ہیں جو وہ کر رہا ہے اور جماعت یہ نشانات دیکھ رہی ہے ۔فرمایا کہ یہ خدا کے ہی سلسلہ میں برکت ہے کہ وہ دشمنوں کے درمیان پرورش پاتا اور بڑتا ہے ۔دنیا نے بڑے بڑے منصوبے کئے خون تک کے مقدمے بنائے مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو باتیں ہوتی ہیں وہ ضائع نہیں میں سچ سچ کہتا ہوں یہ سلسلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ۔انسانی منصوبوں کے سامنے اس کا بڑھنا اور ترقی کرنا ہی اس کی صداقت کا ثبوت ہے جس قدد قوت یقین بڑھاؤ گے اسی قدر دل مضبوط ہونگے ۔یہ الفاظ یقینا خدائی الفاظ ہیں ۔اپنے ایمانوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ۔کیا ہمارے دل روشن ہیں کیا ہماری دین کی طرف رغبت ہے کیا ہم اسلامی احکامات پر عمل کر رہے ہیں ۔کیا ہم عملی اور روحانی حالت کو بڑھا رہے ہیں ۔نئے شامل ہونے والے اپنی دینی حالت کے بارہ میں سوچتے ہیں یہی حالت ہم سب میں پیدا ہونی چاہیے ۔حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں کہ قرآن شریف کو پڑھو کہ کبھی خدا تعالیٰ سے نا مید نہ ہو ۔مومن کبھی خدا تعالیٰ سے مایوس نہ ہو ۔ہمارا خدا زندہ خدا ہے ۔نمازوں کو سنوار سنوار کر پڑھو ۔اپنی زبان میں بھی دعائیں کر لو ۔قرآن شریف کو معمولی کتاب سمجھ کر نہ پڑھو اس کو خدا کا کلام سمجھ کر پڑھو ۔فرمایا : آج کل لوگوں نے نماز کو خراب کر رکھا ہے ۔نماز کیا پڑھتے ہیں جلد جلد ٹکڑے مار کر پڑھ لیتے ہیں اور بعد میں دعا کے لئے بیٹھ جاتے ہیں ۔فرمایا: نماز کا اصل مغز قبولیت دعا ہی ہے ۔دعا سے قبل خدا تعالیٰ کی حمد و ثنا بھی ضروری ہے ۔انسان کا حق انسان کو اور خدا تعالیٰ کا حق خدا تعالیٰ کو دو اور پھر اسی کی عبادت کر کے اس سے مدد مانگو ۔اور اس سے سیدھی راہ مانگو۔نماز کو سمجھ کر پڑھو ۔سچی توحید آ ہی نہیں سکتی جب تک وہ نماز کو طوطے کی طرح پڑھتا ہے ۔عقیدہ بھی یہی رکھو کہ خدا کا کوئی ثانی نہیں ہے اور عمل سے بھی یہی دکھاؤ ۔پس ہم کو اپنے جائزے لینے چاہیے کہ کیا ہمارے عمل سچے ہیں اگر نہیں تو فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ بعد میں آنے والی ہم سے بہت دور نہ چلی جائیں ۔نسلوں کو سنوارنے میں وقت لگ جائے ۔یہ دیکھیں کہ کہیں اس دنیا میں ڈوب کر ہماری نسلیں بہت پیچھے نہ چلی جائیں ۔اللہ تعالیٰ کے حقوق بہرحال ادا کرنا فرض ہے ۔نمازیں سمجھ کر ادا کرنا ضروری ہے ۔دل کو روشن کر کے اللہ کا قرب حاصل کرنے والے بنیں ۔یہ نہ ہو کہ پیچھے رہنے سے ان انعاموں سے محروم ہو جائیں ۔جو تعلق مسیح موعود ؑ سے قائم ہوا ہے کوشش کریں وہ کبھی نہ ٹوٹے اللہ تعالیٰ ہم کو اس کی توفیق دے ہم مسیح موعود ؑ کے مقصد کو سمجھنے والے ہوں اور ان کی تعلیمات کو پھیلانے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کے انعامات کے ہمیشہ وارث بناتے چلے جائیں۔آمین
No comments:
Post a Comment