Friday, 30 October 2015

Love for All Hatred for None


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ خطبہ جمعہ 30 اکتوبرر 2015 بیت الفتوح یوکے تشہد و سورة الحمدللہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : حضرت مسیح موعود ؑ کے واقعات اور آپ کی حکایات کو حضرت مصلح موعود ؓ نے اپنی تقاریر میں بیان کیا ہوا ہے ان کو آج میں بیان کرونگا۔ ہر واقعہ اپنے اندر نصیحت کا ایک پہلو رکھتا ہے ۔اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ افراد جماعت کو اپنے علم میں اضافہ کرنا چاہیے دینی علم رکھنے والے بھی حالات حاضرہ سے بھی واقفیت رکھیں اور تاریخ سے بھی ۔خاص طور پر مربیان کو چاہیے کہ خاص طور پر توجہ دیں ۔آج کل کی دنیا میں یہ معلومات فوری طور پر بڑی آسانی سے مہیا ہو جاتی ہیں۔ایک حکایت جو علم کو بڑھانے اور موقع محل کے مطابق اپنی علمی صلاحیت کے اندر رہنے کی طرف توجہ دلاتی ہے ۔ آپ ؓ نے فرمایا : کہ حضور ؑ سے واقعہ سنا ہے آپ فرمایا کرتے تھے کوئی شخص تھا جو بزرگ ظاہر کرتا تھا۔کسی بادشاہ کا وزیر اس کا معتقد ہو گیا اور ہر طرف اس کی تعریف کرنی شروع کر دی ۔اور بادشاہ کو بھی کہا کہ آپ اس کی زیارت کریں ۔بادشاہ نے کہا فلاں دن میں اس بزرگ کے پاس جاؤنگا۔وزیر نے یہ بات اس بزرگ کو پہنچا دی اور آپ اس سے باتیں کریں کہ وہ اثر لے کر معتقد ہو جائے ۔آپ لکھتے ہیں کہ معلوم نہیں وہ بزرگ تھا کہ نہیں ۔مگر واقعات بتاتے ہیں کہ وہ بیوقوف ضرور تھا ۔جب اس کو اطلاع ملی تو اس نے کچھ باتیں سوچ لیں اور بادشاہ کی ملاقات کے وقت کہنے لگا بادشاہ جی آپ کو انصاف کرنا چاہیے ۔دیکھئے مسلمانوں کا سکندر نامی بادشاہ گزرا ہے ۔جب کہ وہ مسلمانوں سے پہلے کا تھا ۔جس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ رسول کریم ﷺ کے سینکڑوں سال بعد ہواتھا۔یہ غلط تھا نتیجہ یہ ہوا ہے بادشاہ اس سے بد ظن ہوگیا او ر فورا اٹھ کر چلا آیا۔فرمایا تاریخ دانی بزرگی کی شرط نہیں ۔مگر یہ مصیبت خود ساختہ بزرگ نے اپنے اوپر سہیڑی ۔اس لئے علم صحیح ہونا چاہیے جو بھی بات کرے اس کے بارہ میں تسلی ہونی چاہیے ۔اس شخص کو اس کے نفس کی خواہش نے ہلاک کر دیا۔پھر ایک جگہ حضرت مولوی عبد الکریم ؓ کے حوالہ سے حضرت مسیح موعود ؑ کے دل کی نرمی کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :لوگوں کو بڑی جلدی ہوتی ہے بددعا کرنے پر بلکہ ہم کو اپنے مخالفین کے لئے دعا کرنی چاہیے ۔آخر انہوں نے بھی ایمان لانا ہے ۔مولوی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میں چوبارے پر رہتا تھا حضرت مسیح موعود ؑ مکان کے نچلے حصہ میں تھے ۔ایک رات اس طرح رونے کی آواز آئی کہ جیسا عورت درد زہ سے چلاتی ہو جب سنا تو معلوم ہوا کہ حضور ؑ دعا کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں اے خدا طاعون پڑی ہوئی اور لوگ مر رہے ہیں اگر یہ سب مر گئے تو تجھ پر ایمان کون لائے گا۔طاعون وہ نشان تھا جس کی پیشگوئی رسول کریم ﷺ نے کی تھی جب طاعون آئی تو وہی شخص خدا کے سامنے گڑگڑاتا ۔پس مومن کو عام لوگوں کے لئے بد دعا نہیں کرنی چاہے ۔ احمدیت قائم ہی اسلام کو بچانے کے لئے ہوئی ہے ۔احمدیت قائم ہی مسلمانوں کو بچانے کے لئے ہوئی ہے ۔اور کھوئی ہوئی عظمت مسلمانوں کو واپس دلانے کے لئے ہوئی ۔آپ ؑ فرماتے ہیں کہ اے میرے دل ان کے جذبات کا خیال رکھا کر تا کہ تو تنگ آ کر بد دعا نہ کرے کیونکہ ان کو رسول کریم ﷺ سے محبت ہے اور اسی محبت کی وجہ سے تم کو گالی دیتے ہیں ۔پس عوام الناس لا علم ہے ۔مولوی کے پڑھنے پر اپنا اظہار کر دیتا ہے ۔آج بھی واقعات لکھتے ہیں کہ جب حقیقت بتائی گئی تو کایا پلٹ گئی ۔پس ہماری دعا یہ ہونی چاہیے کہ اللہ امت کو علماء سوء سے بچائے اور ان کو اچھے لیڈر عطا فرمائے ۔پھر حقیقی لیڈر کے لئے حالات مشکلات میں اس کے لئے بہتری کے سامان پیدا کر دیتا ہے ۔اگر کوئی قوم واقعہ میں مسلمان بن جائے تو اس کی تمام مشکلات موجب نجات اور ترقی ہو جاتی ہے ۔ہر مصیبت اور مشکل جو آتی ہے اس کے پیچھے سکھ اور آسانیاں ہوتی ہیں ۔ہماری مشکلات مستقبل کی خوشخبریاں دینے کے لئے ہیں ۔ہر ابتلاء کے بعد ہمارے لئے اللہ کے فضل سے ترقیات لے کر آیا ہے ۔کہ بد خیالات کا اثر بغیر ظاہری اسباب کے صرف صحبت سے بھی ہو جاتا ہے ۔کوئی کسی کو برائی میں پڑنے کی ترغیب دے یا نہ دے ۔اگر صحبت میں ہو تو وہ برائی لا شعوری طور پر پیدا ہو جاتی ہے ۔اس بات کو بیان فرماتے ہوئے آپ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ سکھ طالبعلم نے جو حضور ؑ سے اخلاص کا تعلق رکھتا تھا ۔پیغام بھیجا کہ پہلے مجھے خدا پر یقین تھا مگر اب میرے دل میں اس کے متعلق شکوک پڑنے لگ گئے ہیں ۔آپ ؑ نے اس کو فرمایا اپنی جگہ بدل لو ۔پھر اس سکھ نے بتایا کہ اب خدا تعالیٰ کے بارہ میں کوئی شک پیدا نہیں ہوتا ۔صحبت کی وجہ سے دہریہ کا بد اثر اس پر پڑ رہا تھا۔صحبت اپنا اثر رکھتی ہے ۔پس دنیا میں خیالات ایک دوسرے پر اثر کر رہے ہوتے ہیں مگر ان کا پتہ نہیں لگتا ۔پس خاص طور پر نوجوانوں کو بھی توجہ دینی چاہیے کہ ان کی دوستیاں ایسی ہوں کہ ان پر بد اثر نہ ڈالیں۔ٹی وی پروگرام کے بارہ میں بڑوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے ۔اگر وہ خود دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔کبھی نہ کبھی ان کو بچے دیکھ لیتے ہیں دوسرے لا شعوری طور پر اثر ہو رہا ہوتا ہے ۔بعض دیر تک دیکھتے ہیں اور فجر پر نہیں جاگتے۔پس والدین کا فرض ہے کہ اپنے گھر کے ماحول کو پاک صاف رکھیں ۔حضور ؑ بعض لوگوں کو کہہ دیا کرتے تھے کہ دعا کے لئے تعلق کی ضرورت ہوتی ہے ۔کہ تم ایک نذر مقرر کرو میں دعا کرونگا۔یہ طریق اس لئے تھا کہ تعلق بڑھے ۔ایک بزرگ سے بھی کوئی دعا کروانے گیا اس کے کہا میں دعا کروں گا پہلے میرے لئے حلوہ لا ؤ۔جب حلوہ لینے گیا تو جس کاغذ پر ڈالنے لگا تھا اس نے کہا یہ کاغذات میرے ہیں ۔اس بزرگ نے کہا میری غرض حلوہ سے یہ تھی کہ ایک تعلق پیدا ہو۔بہت سے ایسے واقعات حضور ؑ کے حوالہ سے ملتے ہیں ۔جب کسی مخلص کے کاروبار کی بہتری یا اس کی صحت کے لئے خاص درد کے ساتھ دعا کی کہ وہ آپ ؑ کے مشن اور اشاعت اسلام کے لئے مالی مدد بہت کرتے تھے ۔پس ان قربانیوں کی وجہ سے خاص تعلق پیدا ہوگیا تھا۔نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی تلقین کرتے ہوئے ایک دفعہ آپ ؓ نے حضرت مسیح موعود ؑ کے حوالہ سے بیان کیا ۔کہ دو صحابیوں کے بارہ میں سنایا کرتے تھے ایک بازار میں گھوڑا بیچنے لایا گیا ۔قیمت بتائی گئی خریدنے والے نے کہا یہ نہیں اس کی زیادہ قیمت ہے ۔بیچنے والا وہی لینے پر تھا خریدنے والا اس سے زیادہ دینے پر قائم تھے ۔یہ دیانت کا معمولی واقعہ ہے ۔ہر ایک کی یہ سوچ ہو جائے کہ نیکی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنا ہے۔شچائی پر قائم رہنا ہے ۔جہاں اپن تربیت کے لئے فائدہ مند ہوگی ہماری نسلوں کی تربیت بھی کرے گی ۔اور جماعت کی ترقی کا بھی باعث بنے گی ۔پس یہ معیار ہیں جو دیانت داری کے قائم رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔پھر ایک اور اہم بات جس کی طرف ہر احمدی کو توجہ دینی چاہیے کہ ہمیشہ یاد رکھیں کہ تمام خوبیوں کی مالک صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ۔کسی کو ہدایت دینا بھی اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔پیغام پہنچانا ہمارا کام ہے ۔یہ کبھی خیال نہیں کرنا چاہیے کہ فلاں شخص احمدی ہو جائے تو جماعت ترقی کرے گی ۔یہ بھی نہیں کہناچاہیے ۔حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں بعض لوگ حضور ؑ کے پاس آتے کہ فلاں شخص ہمارے گاؤں کا احمدی ہو جائے تو ہم ایمان لے آئیں گے ۔یہ خیال غلط ہے ۔ایک گاؤں میں تین مولوی تھے لوگ کہتے یہ مان لیں تو ہم بھی مان لیں گے اس طرح دو نے بیعت کر لی پھر بھی لوگ نہ مانے ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہماری توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہونی چاہیے اور انحصار بھی ۔نہ کہ لوگوں کی طرف نظر رکھی جائے ۔فرمایا: مجھے بعض دفعہ لکھتے ہیں کہ فلاں شخص نے کہا یہ شرط ہے اس کی اگر پوری ہو جائے تو احمدی ہو جائے گا اور اگر وہ احمدی ہو جائے گا تو ہمارے علاقہ میں انقلاب آجائے گا بلکہ اس سے یہ دعا کرنی چاہیے کہ اخلاص والے لوگ اس سلسلہ میں داخل ہوں ۔انسانیت کو درد سے بچانے کا درد کتنا تھا ۔آپ ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ؑ کے زمانہ میں ادنی عورت ان پڑھ آئی ۔اور کہنے لگی حضور میرا بیٹا عیسائی ہو گیا آپ دعا کریں کہ وہ مسلمان ہو جائے ۔آپ ؑ نے فرمایا اس کو میرے پاس بھیجا کرو ۔وہ بیمار تھا اور علاج کے لئے آیا تھا ۔آپ فرماتے ہیں کہ اس کو سل کی بیماری تھی ۔چنانچہ حضور ؑ جب آپ کے پاس وہ آتا اس کو نصیحت کرتے رہے جب اثر ہونے لگا اس نے خیال کیا کہیں میں مسلمان ہی نہ ہو جاؤں ۔وہ بٹالہ بھاگ گیا۔جب ماں کو پتہ چلا تو وہ رات و رات پیدل گئی اور واپس لے آئی ۔وہ عورت پیروں پر گر جاتی تھی اور کہتی تھی مجھے اپنا بیٹا پیارا نہیں اسلام پیارا ہے ۔میری خواہش ہے یہ مسلمان ہو جائے پھر بیشک مر جائے ۔وہ اسلام لے آیا اور چند دن کے بعد فوت ہوگیا۔اس عورت کو بھی پتہ تھا دین میں واپس لانے کے لئے کوئی حیلہ ہو سکتا ہے تو وہ حضرت مسیح موعود ؑ ہی ہیں ۔ پھر افراد جماعت کو ہنر سیکھنے اور محنت کرنے کی طرف بہت توجہ دلائی ہے ۔ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ حضور ؑ کے زمانہ کا ۔کہ معمولی سمجھ بوجھ رکھنے والا نوجوان تھا ۔حضور ؑ کے پاس رہتا تھا حضرت مسیح موعود ؑ کے پاس ایک لڑکا تھا ۔مخلص اور دیندار تھا ۔معمولی عقل کا یہ حال تھا ایک دفعہ باہر مہمان آئے حضور ؑ کے گھر سے ہی کھانا جاتا تھا شیخ رحمت اللہ صاحب وغیرہ قادیان آئے حضور ؑ نے ان کے لئے چائے تیار کروائی اورفجے کو کہا کہ ان کو چائے پلا آئیں ۔اور اس خیال سے کہ کسی کو بھول نہ جائے پانچوں کو چائے دینی ہے ۔ایک ملازم تھے ان کو بھی ساتھ کر دیا اور جب دونوں یہ چائے لیکر گئے پتہ لگا کہ وہ سارے حضرت خلیفہ المسیح الاول ؓ کے پاس تھے یہ چائے لیکر وہاں پہنچ گئے ۔چراغ نے پہلی پیالی خلیفہ اول کے سامنے رکھی اور فجے نے ہاتھ پکڑ لیا چراغ نے اس کو سمجھایا ۔مگر وہ یہ بات کہے جاتا تھا کہ حضرت صاحب نے پانچ کا نام لیا تھا۔لیکن وہ جلد معمار کے ساتھ لگایا گیا تو وہ معمار بن گئے ۔اگر ذرا بھی توجہ کریں تو کوئی نہ کوئی ہنر اور کام سیکھ سکتے ہیں اور روپیہ کما سکتے ہیں اور خدمت خلق کے کاموں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ ایک شخص احمدی ہونے سے قبل بیس سال تک ناراض رہے ۔ایک لڑکا ان کا مرا تھا حضرت صاحب ان کے ہاں گئے انہوں نے بغل گیر ہو کر روتے ہوئے کہا خدا تعالیٰ نے مجھ پر بڑا ظلم کیا ۔یہ سن کر بہت نفرت ہو گئی بعد میں وہ ان جہالتوں سے نکل آئے اور احمدیت میں آ گئے ۔ ہستی باری تعالیٰ کے متعلق ایک واقعہ سنایا کرتے تھے ۔حضرت میر اسماعیل ؓ کے ساتھ ایک دہریہ پڑھا کرتا تھا ۔ایک دفعہ زلزلہ جو آیا تو اس کے منہ سے رام رام نکل گیا ۔میر صاحب نے جب پوچھا تم خدا کے منکر ہو رام رام کیوں کہا ۔کہنے لگا غلطی ہو گئی ۔اس لئے مرتے وقت خوف کے وقت دہریہ کہتا ہے ممکن ہے میں ہی غلطی پر ہوں ۔یہ خدا تعالیٰ کی ہستی کی ایک زبردست دلیل ہے ۔حضرت مسیح موعود ؑ کے ساتھ خدا کی تائید اور نصرت پر دلی کیفیت کا ذکر کرتے ہوئے آپ ؓ فرماتے ہیں ۔نوٹ بک میں لکھا وہ تحریر دنیا کے لئے نہ تھی ۔کوئی تکلف یا بناوٹ خیال کیا جا سکے ۔جس کو میں نے شائع کر دیا۔ آپ ؑنے لکھا :اے خدا میں تجھے کس طرح چھوڑ دوں جب کہ تو مجھے تسلی دیتا ہے ۔ہر احمدی کا اخلاق کا معیار بلند ہونا چاہیے ۔اس بارہ میں آپ ؑ کا اپنا نمونہ کیا تھا۔اور مخالفین سے کیا حسن سلوک کیا کرتے ۔ایک دفعہ ہندوؤں میں سے ایک کی بیوی بیمار ہو گئی تو وہ شرمندہ اور نادم سا مشک لینے آیا ۔اگر آپ کے پاس مشک ہو ایک رتی یا دو کی ضرورت تھی مگر اس نے کہا حضور ؑ نے مشک کی شیشی بھر کر لے آئے اور کہا آپ کی بیوی کو بہت تکلیف ہے یہ سب لے جائیں ۔اشتیال انگیزی سے بچنے کے لئے فرمایا کرتے تھے ۔طاعون طعن سے نکلا ہے طعن کے معنی نیز ہ مارنا ہے ۔وہ خدا اب بھی موجود ہے اور طاقت کا جلوہ دکھائے گا ہم خاموش رہیں گے اور جماعت کو نصیحت کریں کے اپنے نفسوں کو قابو میں رکھیں اور جماعت کو بتا دیں ۔اشتیال انگیزیوں کے سامنے امن پسند رہیں ۔دعا میں خاص حالت پیدا کرنے کے لئے ایک راہنمائی فرمائی ۔آپ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص یہ سمجھے دعا کے وقت حقیقی تضرع نہیں پیدا ہوتا تو وہ مصنوعی رونے کی کوشش کرے پھر حقیقی رقت پیدا ہو جائےگا۔ہمارے ایک حصہ کی دعا میں سستی کی وجہ سے ہم کو مشکلات آتی ہیں ۔بہت ایسے ہیں جو دعا کرنا بھی نہیں جانتے اور دعا کیا ہے ۔آج بھی یہ ہے ۔فرمایا: دعا موت قبول کرنے کا نام ہے ۔دعا کا مطلب ہے کہ اپنے اوپر موت طاری کرتا ہے ۔خدا کے سامنے خود کو مرا ہوا سمجھے ۔جب تک اس کے راستے میں مر نہ جائے تو دعا دعا نہ ہوگی ۔دعا اسی کی دعا ہوگی جو اپنے اوپر موت وارد کرے ۔جو یہ کرے گا اسی کی دعائیں قابل قبول ہو سکتی ہین ۔اللہ تعالیٰ ہم کو توفیق دے ہم اخلاق کے اور عبادتوں کے اعلی معیار قائم کرنے والے ہوں اور ہم کو مقبول دعا کرنے والا بنائے ۔ آمین

No comments:

Post a Comment