Friday, 13 November 2015

Love for All Hatred for None


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ خطبہ جمعہ 13 نومبر 2015 بیت الفتوح یوکے تشہد و سورة الحمدللہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : حضرت خلیفہ المسیح الاول ؓ کا جو عشق و محبت کا تعلق حضور علیہ السلام سے تھا ۔جس کو ہر وہ احمدی جس نے کچھ نہ کچھ پڑھا ہو وہ جانتا ہے ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عشق محض للہ کی کوئی مثال دی جا سکتی ہے تو وہ حضرت حکیم مولوی نور الدین ؓ ہی ہیں اقرار اطاعت کے بعد کے معیاری نمونے کی کوئی مثال ہے تو وہ مولانا نور الدین ؓ کی ہے ۔تمام دنیاوی رشتوں سے بڑھ کر بیعت کا حق ادا کر کے رشتہ جوڑا اس کی اعلی مثال بھی حضور خلیفہ اول کی ہے ۔خادمانہ حالت کا بے مثال نمونہ قائم کیا تو حکیم مولوی نور الدین ؓ نے قائم کیا ۔اطاعت کا اعلی معیار جس نے پایا وہ بھی حضرت خلیفہ المسیح الاول ؓ نے قائم کیا ۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وہ اعزاز پایا جس کسی اور کو نہ مل سکا ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت خلیفہ المسیح الاول ؓ کے بارہ میں فرمایا کہ کیا ہی خوب ہو کہ ہر کوئی حکیم مولوی نور الدین بن جائے ۔چہ خوش بودی اگر ہر یک زامت نور الدین بودے۔ ہر کوئی نور الدین بن جائے تو ایک انقلاب پیدا ہو سکتا ہے ۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی ؓ نے ان کے چند واقعات بیان فرمائے ہیں ۔اور ساتھ اخلاص و وفا کے نمونے بھی نظر آتے ہیں ۔قربانیوں کے معیار اور اطاعت کا اعلی نمونے کا ذکر کرتے ہوئے آپ ؓ نے بیان فرمایا : کہ جب ایک دفعہ حضرت حکیم مولوی صاحب ؓ وطن سے آئے تو آپ ؑ نے فرمایا کہ اگر آپ واپس وطن گئے تو اپنی عزت کو کھو دیں گے ۔اس پر آپ ؓ نے وطن جانے کا خیال دل سے نکال دیا ۔اور اس حالت میں کہ مکان بنوا رہے تھے اور اس زمانہ میں جو یہ قربانی کی تھی اس وقت جماعت کے پاس مال نہیں تھا ۔اس وقت اس جیسا مکان بنانا بھی ہر شخص کا کام نہیں تھا ۔لیکن ارشاد مسیح ؑ کے بعد آپ ؓ نے اس مکان کو دیکھا بھی نہیں ۔بعض نے کہا آپ مکان کو تو دیکھ لیں مگر آپ ؓ نے فرمایا خدا تعالیٰ کے لئے چھوڑ دیا ہے تو اس کو دیکھنے کی کیا ضرورت ہے ۔ پھر ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جب انجمن کے معاہدین اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے لگ گئے اور دنیاداری غالب آرہی تھی ۔بہت سے معاملات جب انجمن میں پیش ہوتے تو عموما حضرت خلیفة المسیح الاول ؓ اور حضرت مصلح موعود ؓ ان کے سامنے بھی پیش ہوتے تھے ۔ایک موقع پر تعلیم الاسلام سکول کو بند کرنے کا سوال پیش ہوا دونوں ان کے خلاف تھے ۔کہ بند نہ کیا جائے ۔حضرت مصلح موعود ؓ نے فرمایا کہ ایام مسیح موعود ؓ کے دنوں میں کوشش کی کہ اس سکول کو ایک عربی کا مدرسہ رکھا جائے کہ اس کا بوجھ جماعت برداشت نہیں کر سکتی ۔اور صرف ڈیڑھ آدمی سکول کی تائید میں رہ گیا تھا ۔ایک خلیفہ اول اور آدھا میں ۔یعنی بچہ تھا ۔جو جوش مجھے اس وقت سکول کے بارہ میں تھا ۔خلیفہ اول ادب کے وجہ سے آپ ؑ کے سامنے بات نہ کر تے تھے اس لئے مجھے بتاتے اور میں بات آگے پہنچا دیتا ۔بعض لوگوں نے کفر کا فتوی لگا دیا اور کہا یہ دنیا دار لوگ ہیں ۔یعنی سکول کی تائید کرتے ہیں اور انگریزی تعلیم کی تائید کرتے ہیں ۔پھر بھی فیصلہ ہمارے حق میں ہوا ۔اس سے سکول کے جاری رکھنے یا نہ رکھنے کے بارہ میں جو باتیں ہیں وہ تو ہیں مگر حضرت خلیفہ المسیح الاول ؓ کے حضور علیہ السلام کے سامنے ادب کی وجہ سے بات نہ کرنے کا بھی پتہ چلتا ہے ۔ حضرت خلیفہ المسیح الاول ؓ کی فراست اور ایمان کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفہ ثانی ؓ فرماتے ہیں :حضرت مسیح موعود ؑ نے جب جماعت قائم کی تو آپ ؑ پر ایمان لانے والے ذاتی جوہر کے حوالہ سے بہترین تھے ان میں سے ایک حضرت حکیم مولوی نور الدین ؓ بھی تھے اور واقعہ میں وہ بہترین مددگار اور معاون ثابت ہوئے ۔دعوی سے قبل ہی خلیفہ اول ؓ کی توجہ حضور ؑ کی طرف تھی ۔اور آپ نے حضور ؑ کی کتب کا مطالعہ کیا جب دعوی مسیحیت کیا تو نبوت کے متعلق بعض مضامین فتح اسلام اور توضیع مرام میں بیان فرمائے ۔ ایک جو بد ظنی رکھتا تھا ۔ان کتابوں کے پروف دیکھے تو وہ چونک گیا اور اس نے کہا آج میں نے مولوی نور الدین ؓ کو مرزا صاحب سے ہٹا دینا ہے ۔اس وقت آپ حضور ؑ کی بیعت کر چکے تھے ۔جب اس نے آپ ؑ کی کتب میں نبوت کے جاری ہونے کے بارہ میں پڑھا تو اس نے سوچا اب یقینا مولوی صاحب مرزا صاحب کو چھوڑ دیں گے ۔کیونکہ مولوی صاحب رسول کریم ﷺ سے شدید محبت رکھتے ہیں ۔جب وہ یہ سنیں گے مرزا صاحب کے بعد بھی نبی آ سکتا تو ان کی بیعت میں نہیں رہیں گے ۔جب اس نے کچھ لوگ لئے اور آپ کے پاس جا کر کہا کہ مولوی صاحب سے کہا ایک بات پوچھنی ہے ۔آپ نے کہا کیا پوچھنا ہے ۔اس نے کہا اگر کوئی شخص کہے میں اس زمانہ کے لئے نبی ہوں ۔اور نبوت امت محمدیہ میں جاری ہے ۔آپ ؓ نے فرمایا :اس سوال کا جواب دعوی کرنے والے کی حالت پر منحصر ہے ۔اگر دعوی کرنے والا راست باز نہ ہوا تو وہ جھوٹا ہوگا ۔اگر وہ راست باز ہے تو میں یہ سمجھوں گا کہ حقیقت میں نبی آ سکتا ہے جب اس نے یہ جواب سنا تو اس نے کہا چلو جی یہ بالکل خراب ہوگیا ہے ۔ اس پر یہ پوچھا کہ بات کیا تھی ۔اس پر اس نے وہ ساری بات بتا دی ۔اس پر فرمایا بیشک مرزا صاحب نے جو کچھ لکھا ہے وہ درست ہے اور مجھے اس پر ایمان ہے ۔ ایک اور واقعہ حضور خلیفہ الاول ؓ کی بہن کا واقعہ ہے ۔ان کی بہن نے ان کی بات کو مانا وہ کسی پیر کی مرید تھی ۔آج کل بھی پیر موجود ہیں ۔حضور ؓ کی ایک بہن پیر صاحب کی مرید تھی انہوں نے بیعت کر لی ۔جب واپس گئی تو پیر صاحب نے کہا تو نے مرزا صاحب کی بات کیوں کر لی ۔معلوم ہوتا ہے کہ نور الدین نے تم پر جادو کر دیا ۔وہ واپس آئی تو یہ بات بتائی ۔پھر جب ملنے کا اتفاق ہو تو کہنا آپ کے عمل میرے ساتھ ہیں اور میرے عمل میرے ساتھ ہیں ۔جب وہ پوچھے تو کہا میں نے نہ مانا تو مجھے جوتیاں پڑھی گی اور آپ کیا کریں گے ۔تب پھر اس نے کہا یہ نور الدین کی شرارت معلوم ہوتی ہے ۔جب تم پل صراط پر گزروں گی تو میں تمہارے گناہ اًٹھا لونگا اور جب فرشتے میری طرف آئیں گے اور لال لال آنکھیں نکال کر کہونگا کیا ہمارے نانا کی امام حسین ؓ کی شہادت کافی نہیں تب وہ چلے جائیں گے اور میں بھی جنت میں چلا جاؤنگا۔ سادگی کے بارہ میں فرمایا آپ حضور ؑ کی مجلس میں بہت سادگی سے بیٹھتے تھے ۔جماعت کے بڑھنے کا ذریعہ کثرت اولاد بھی ہے ۔میرا خیال ہے جماعت کے دوست ایک سے زیادہ شادیاں کریں تو جماعت بڑھ سکتی ہے ۔میں تو حکم ماننے کے لئے تیار ہوں ۔مگر اس عمر میں کوئی لڑکی نہ دے گا۔فرمایا : دیکھو یہ حضور ؑ کا ادب تھا ۔آج کل یہ وجہ اگر ہو تو پھر بعض لوگ اپنے گھروں کو برباد کر کے شادیاں کرتے ہیں ان کو اس چیز سے بچنا چاہیے ۔اس سے سختی سے منع فرمایا ہے ۔ یہ بات بیان کرنے کی یہ ذکر کیا کہ آپ کے بچوں میں سے بعض نے خلافت اور جماعت کے بارہ میں غلط رویہ اختیار کیا ۔لیکن اب بھی جماعت آپ کا ادب کرنے پر مجبور ہے اور دعائیں کرتی ہے ۔ہمارے دلوں میں بھی وہ عظمت ڈالی ہے ۔باوجود بعض ان کے عزیزوں نے غلط رویہ اختیار کیا پھر بھی ہم ان کے باپ کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھتے ہیں ۔پس حضرت خلیفہ المسیح الاول ؓ کا ایک مقام ہے وہ ہمیشہ قائم رہے گا۔آپ ؓ فرماتے ہیں کہ جب ہماری شادیوں کی تجویز فرمائی کہ فلاں صاحب کے ہاں کتنے بھائی ہیں اور کتنی اولاد ہے ۔یعنی اس خاندان کی کس قدر اولاد ہے ۔فرمایا میری اور میاں بشیر احمد صاحب کی شادی کی تجویز اکٹھی ہی ہوئی تھی ۔رشتوں کی جگہ اولاد کو بھی سامنے رکھا ۔ولود کو مقدم رکھا ۔اب بھی لوگ مشورہ لیتے ہیں جہاں رشتے تجویز ہوئے ہوں ان کے ہاں کتنی اولاد ہے ۔آج کل کی دنیا میں فیملی پلاننگ پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے ۔لیکن ایسے ممالک جن پر بہت زور دیا گیا ان میں بھی احساس پیدا ہوا تو یہ غلط ہے ۔ایک لمبےعرصہ تک چین نے پابندی لگا دی تھی ایک سے زیادہ بچہ نہ ہو ۔لیکن اب ان کو احساس پیدا ہو گیا اور اب انہوں نے پابندی کو اٹھایا ہے ۔جن لوگوں نے اس کو قائم رکھا ہے وہ انفرادی قوت سے محروم ہو جائیں گے ۔یہی نتیجہ ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کے قانون سے لڑے اور اپنے آپ کو عقل کل سمجھے ۔ حضرت مصلح موعود ؓ حضرت خلیفہ المسیح الاول ؓ کی سادگی کا ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں کہ خدمت کے لئے کھانا پکانے کی ضرورت ہوتی تھی ۔سودا وغیرہ لانے کی ضرورت ہوتی تھی ۔یہ سب مل ملا کر کام کیا کرتے تھے ۔لنگر خانہ باقاعدہ تو نہ تھا۔ایندھن آ جاتا تو سٹور میں رکھا دیا جاتا ۔دو تین دفعہ ایسا ہوا کہ کام کے لئے خادمہ نے آواز دی تو کوئی نہ آیا ۔اوکلوں کا گڈھا آیا مگر کوئی نہ آیا۔حضرت مصلح موعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت خلیفہ اول ؓ قرآن کریم کا درس دے کر واپس تشریف لا رہے تھے ۔آپ اس وقت خلیفہ نہ تھے مگر خاص مقام تھا۔خادمہ نے آواز دی کہ بارش ہونے والی ہے اوکلے اٹھا کر اندر ڈال دے ۔جب آپ نے دیکھا تو آپ نے فرمایا آج ہم ہی آدمی بن جاتے ہیں ۔یہ کہہ کر آپ نے اوکلے اٹھائے تو اندر رکھنے شروع رک دیے ۔چنانچہ آپ کے ساتھ اور لوگ بھی شامل ہوگ گئے ۔اور کام کر دئے ۔کہتے ہیں میں نے دو تین مقامات پر ایسا کرتے دیکھا ۔ پھر حضرت خلیفة المسیح الاول ؓ کا عشق تھا اس کی مثال دیتے ہوئے فرمایا : جب آپ بہت خوش ہوتے اور حضور ؑ کا ذکر کرتے تھے آپ ؓ مرزا کہہ کر کہا کرتے تھے کہ ہمارے مرزا کی یہ بات ہے ۔کئی نادان اس وقت یہ اعتراض کیا کرتے تھے کہ آپ کے دل میں حضور ؑ کا ادب نہیں ہے ۔اس کا جواب دیتے ہوئے بھی سنا ۔آپ نے درس کے دوران کہا بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ ادب نہیں کرتا حالانکہ میں محبت اور ادب کی وجہ سے یہ لفظ بولا کرتا ہوں ۔پھر دو طرفہ اخلاص و محبت کی ایک اور مثال ۔آپ میں جس قدر اخلاص تھا وہ کوئی چھپا ہوا نہیں ۔ان کو تیز چلنے کی عادت نہ تھی ۔سیر کے لئے جاتے تو خلیفہ اول ؓ بھی ساتھ ہوتے ۔جب تیز قدم کرنے تو بڑ کے درخت کے نیچے بیٹھ جانا اور آپ کے ساتھ واپس ہو لینا ۔کسی نے کہا سیر کے لئے نہیں جاتے ۔آپ نے فرمایا وہ تو روز جاتے ہیں جب بتایا گیا کہ وہ جاتے ہیں مگر بڑ کے درخت کے نیچے بیٹھ جاتے ہیں ۔اس کے بعد پھر آپ خلیفہ اول ؓ کو اپنے ساتھ رکھتے ۔جب حضور ؑ آگے نکل جاتے تو ٹھہر کر فرماتے کہ فلاں بات اس اس طرح ہے ۔پھر مولوی صاحب یعنی خلیفہ اول ؓ آپ کے ساتھ مل جاتے ۔غرض یہ تھی کہ تیز چلنے کی عادت ہو جائے ۔طب کا پیشہ ایسا ہے تو عموما انسان کو بیٹھنا پڑتا ہے اس لئے حضور ؓ کو تیز چلنے کی مشق نہ تھی ۔ورنہ اخلاص جس قدر تھا آپ کا اس بارہ میں حضور کا فرمان موجود ہے ۔ پھر ایک اور مثال : بیان کی ہے ۔کہ ایک دفعہ مولوی صاحب مطب میں بیٹھے تھے حضور ؑ دہلی میں تھے ۔میر صاحب سخت بیمار ہو گئے تو حضور ؑ نے حضرت خلیفہ اول ؓ کو تار دیا جس حالت میں آجائیں ۔آپ کے پاس پیسے بھی نہ تھے ۔آپ وہاں سے ہی اٹھ کر چل پڑے ۔اور پیسے نہ لیے ۔پیدل بٹالہ گئے اور اسٹیشن پر جا کر بیٹھ گئے یہ اخلاص و اطاعت ہے ۔وہاں کہا گیا کرایہ کا انتظام کیا ہوگا ۔فرمایا یہاں بیٹھو اللہ خود ہی انتظام کر دےگا۔ ایک شخص نے کہا گاڑھی آنے میں وقت ہے میری بیوی بیمار ہے گاڑی کا انتظار بھی کروایا جائے گا اور وہ ساتھ بھی واپس آیا اور سیکنڈ کلاس کا ٹکٹ اور ساتھ پچاس روپیہ نقد دیئے ۔آپ دہلی پہنچے اور میر ناصر نواب صاحب ؓ کا علاج کیا ۔یہ صحیح توکل کا مقام ہے ۔ممکن ہے اس آزمائش کے لئے فاقے بھی ہوتے ہیں ۔موت کے قریب کر دے تا بندوں کو بتائے کہ اس نے توکل کیا ہے ۔بعض کو ننگا کر کے حکم دیتا ہے مگر جو توکل کے صحیح مقام پر ہوتے ہیں وہ کسی سے مانگتے نہیں ہیں ۔ایک جگہ حضرت مصلح موعود ؓ اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ جو خلیفہ اول ؓ کا مقام بہت بلند تھا ۔فرماتے ہیں:اتنا بھی نہ بڑھا دو کہ مبالغہ ہو جائے ۔سچائی کے اظہار سے بھی نہیں رکنا چاہیے ۔چنانچہ آپ ؓ فرماتے ہیں کہ بیشک محمد رسول اللہ ﷺ نے ابو بکر ؓ کی بڑی تعریف فرمائی ہے جسطرح حضرت مسیح موعود ؑ نے حضرت حکیم مولوی نور الدین ؓ نے بڑی تعریف فرمائی ہے ۔ قرآن اس لئے نہیں اترا تھا کہ نور الدین کی عزت قائم کی جائے ۔ہاں سچائی کا اظہار کر دیا ۔جس نے قربانی کی ہو اس کا اظہار نہ کرنا نا شکری ہوگی۔ حضرت خلیفہ المسیح الاول ؓ کی عاجزی کی انتہاء کا ذکر ایک صحابی ؓ کے حوالہ سے کیا ہے ۔کہ ایک دفعہ وہ حضور ؑ کو ملنے کے لئے آئے اور دروازہ کے پاس جوتیاں پڑی تھیں اور وہ جوتیوں پر آگیا اور میں سمجھا کوئی جوتی چور ہے ۔کہنے لگے اس کے کچھ عرصہ کے بعد حضرت مسیح موعود ؑ فوت ہو گئے اور میں نے سنا کوئی اور شخص خلیفہ بن گیا ۔جب بیعت کے لئے آیا تو میں نے بیوقوفی سے جوتی چور سمجھا تھا میں شخص شرمندہ ہوا ۔آپ کی عادت تھی آپ جوتیوں کے پاس بیٹھ جاتے ۔بار بار بلانے پر آگے آتے تھے ۔اس طرح کی عاجزی سے حاصل کیا تھا۔یہ اس شخص کی عاجزی تھی جس کو بہت بڑا اعزا ملا ہوا تھا ۔ اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند فرماتا چلا جائے اور ہمیں بھی اس نمونہ سے سبق حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اج موریشش میں جلسہ ہو رہا ہے اور ایک سو سال قائم کئے ہوئے ہو گئے ہیں اللہ تعالیٰ ان کا بھی یہ جلسہ کامیاب کرے ہر قسم کے فسادی لوگوں سے جماعت کو محفوط رکھے اور ہر لحاظ سے جلسہ کو اور ان کے پروگراموں کو با برکت فرمائے ۔ آمین

No comments:

Post a Comment