Friday, 27 November 2015

Love for All Hatred for None


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ خطبہ جمعہ 27 نومبر 2015 بیت الفتوح یوکے(مرتب کردہ یاسر احمد ناصر مربی سلسلہ ) تشہد و سورة الحمدللہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : جیسا کہ لوگ جانتے ہیں کہ جاپان میں پہلی مسجد کے افتتاح پر گیا تھا ۔اگر ظاہری حالات میں دیکھا جائے تو مشکل تھا وکیل جو تھے وہ بھی کہتے ہیں کہ مسجد مبارک ہو مگر میں اب بھی سوچتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں یقین نہیں آتا ۔میں آپ کے لئے کیس تو لڑ رہا تھا مگر توقع نہ تھی کہ کامیابی ہو ایک موقع پر کہہ دیا اس معاملہ کو چھوڑیں لیکن جماعت کے افراد کا توکل بھی عجیب ہے ۔انہوں نے کہا تم کوشش کرتے رہو یہ مسجد بھی بنے گی ۔کہنے لگے یہ مسجد میرے لئے حیران کن بات ہے اور ایک نشان ہے ۔بہرحال یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جو ہر موقع پر جماعت پر فرماتا رہتا ہے اور ہمارے ایمانوں کو بڑھاتا ہے ۔ہر کام کے لئے اللہ تعالیٰ نے وقت رکھا ہوا ہے ۔جب وقت آتا ہے تو وہ کام ہو جاتے ہیں ۔ جب اللہ تعالیٰ نے چاہا تو یہ تمام روکوں کے باوجود مسجد بنانے کی توفیق مل گئی ۔اور اسلام کا پیغام اس ملک میں پہنچانے کا پہلا مرکز قائم ہوگیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ صرف ایک مرکز یا مسجد تما م ملک میں اسلام کی تعلیم کے مقصد کو پورا نہیں کر سکتے ۔لیکن یہ بات یقینی ہے کہ اس کے ساتھ جاپان میں اسلام کا حقیقی پیغام پہچانے کی بنیاد رکھ دی گئی ہے ۔اب چند لوگوں کے تاثرات بیان کرونگا ۔کہ جاپان نے جماعت کے ذریعہ صحیح اسلامی تعلیم کو کس طرح دیکھا ہے ۔اور یہ ہونا تھا ۔کیونکہ آنحضرت ﷺ کے غلام صادق کے ذریعہ یہ مقدر تھا ۔جیسا ہر ملک کے لئے تبلیغ کے لئے بھی اپنے درد کا اظہار فرمایا ۔ کہ ایک کتاب لکھ کر اس کا ترجمہ کروا کر ایک ہزار چھپوا کر تقسیم کر دیا جائے ۔الحمد للہ قرآن کریم اور لٹریچر ہزاروں کی تعداد میں لٹریچر تیار ہو رہا ہے ۔اب اس مسجد کے ساتھ حضور علیہ السلام کی خواہش کی تکمیل کے لئے دروازے کھولے ہیں ۔کڑوروں تک اسلام کا پیغام پہنچ رہا ہے ۔جس میں لوگوں کی اسلام کے بارہ میں رائے بدل گئی ہے ۔حضور ؑ نے فرمایا تھا کہ ’’اسلام کا تعارف کروانا ہو تو ایک مسجد بنا دو ‘‘ یہ بات جاپان میں نظر آتی ہے ۔جمعہ کے دن جمعہ کے وقت جاپانی مہمان مسجد میں آئے ہوئے تھے ۔نقاب کشائی میں کچھ باہر کھڑے تھے اور خطبہ بھی سنا اور نماز پڑھتے بھی دیکھا ۔تقریبا 49 کے قریب جاپانی مہمان تھے ۔جن میں شنٹو ازم کے ماننے والے اور بد ھ ازم کے علاوہ اور بھی لوگ شامل تھے ۔ان شامل ہونے والوں کے تاثرات جو ہیں وہ بتاتا ہوں ۔ ایک صاحب ہیں اسامو صاحب وہ کہتے ہیں کہ امید ہے کہ مسجد جاپانیوں اور اسلام کے درمیان ایک پل کا کرادر ادا کرے گی ۔پھر ایک پریسٹ جو تائیجون ساتو ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک بدھسٹ کے طور پر مسجد میں داخل ہو کر بہت اچھا لگا ۔ہمارا خیال تھا کہ بدھ اسٹ کے طور پر داخلہ منع ہے ۔ہم کو دلی خوشی ہوئی کہ اسلام کے بارہ میں علم میں اضافہ ہو ۔پھر پالیمنت کے ممبر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اپنے علاقہ مین مسجد کی تعمیر کو خوش آمدید کہتے ہیں ۔امید ہے کہ یہ انسانیت سے محبت کرنے والے اور خدمت خلق پر یقین رکھنے والوں کا مرکز بنے گی ۔پھر ایک اور ممبر نے ایک ہزار کلو میٹر کا سفر طے کیا اور آئے اور کہتے ہیں کہ خوبصورت مسجد دیکھتے ہی سفر کی تھکاوٹ دور ہو گئی ۔جماعت نے جو زلزلوں کی خدمت میں نیک نامی کمائی ہے وہ اس کو بڑھائے گی ۔پھر ایک پروفیسر صاحب نے وساکی صاحب کہتے ہیں کہ جاپان میں جماعت احمدیہ کی مسجد کی بہت ضرورت تھی ۔امید کرتے ہیں کہ اس سے جماعت کا تعارف بہت بڑھے گا۔12 ممالک سے لوگ شامل تھے ۔اس لئے حاضری اچھی ہو گئی تھی ۔جماعت نے ان سب کی مہمان نوازی کا بھی حق ادا کیا ۔ہفتہ کی شام کو ایک رسپشن بھی تھی ۔مسجد کے صحن میں اس میں بھی 109 جاپانی اور 8 غیر ملکی مہمان شامل تھے ۔ایک بدھ پریسٹ کہتے ہیں کہ وہ اس میں شامل تھے ۔کہ امام جماعت احمدیہ کی آمد بہت اچھے وقت میں ہوئی ۔پیرس میں ایک حملہ کے بعد جس خوبصورتی میں بات کی اور اسلام کی تعریف کی اس سے پیرس کے حملہ میں جو اسلام کی کیفیت تھی وہ اب ختم ہو گئی ۔ہماری گھبراہٹ اور پریشانی کو یکسر ختم کر دیا ۔ پھر ایک وکیل ہیں یہ کہتے ہیں کہ میری زندگی کا سب سے بہترین دن یہ ہے امام جماعت احمدیہ کی تمام باتیں حق اور سچ تھی عدل اور انصاف کی بات کی ہے جو اس وقت ضروری ہے ۔ایک یونیورسٹی کے طالبعلم تھے انہوں نے کہا میرا گھر ٹیپل ہے مجھے اسلام میں کافی دلچسپی تھی ۔تا ہم مسلمان سے بات کرنے کا موقع نہیں ملا ۔آج اس تقریب میں شرکت سے اسلام کی الگ شکل نظر آئی اور ایک نیا باب کھلا ہے ۔ایک خاتون نے کہا پر وقار تقریب پر دعوت کا دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں اور اس شہر میں اتنی شاندار مسجد کا بننا بھی بہت خوشی کی بات ہے ۔میں مختلف مذاہب پر تحقیق کر رہی ہوں اور علم ہوا ہے کہ ہمارا اسلام کے بارہ میں علم بہت تھوڑا ہے ۔جس وجہ سے غلط فہمی کا شکار ہیں ۔امام جماعت احمدیہ کا خطاب اس کے لئے بہت ممد ثابت ہوا ہے ۔ہم اسلام سے خوفزادہ تھے مگر آج کے خطاب سے اسلام کا پتہ چلا کہ اسلام ہے کیا ؟ اسلام کے بارہ میں اس کی کتب پڑھنے سے اس کا اصل چہرہ نہیں دیکھ سکیں گے ۔اس کے لئے اس طرح کی اور تقاریب منعقد کرنے کی ضرورت ہے ۔ایک اور جاپانی دوست تھویا سا کہتے ہیں کہ آج اس تقریب میں شامل ہونے اور امام کی باتیں سننے سے دنیا کے امن کے بارہ میں سوچنے کا موقع ملا ۔اس موقع کی فراہمی پر تہہ دل سے شکر گزار ہوں ۔اور امام نے دنیا کے امن کے بارہ میں بات کی اور خطرات سے آگاہ کیا ۔اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اسلام کے بارہ میں پڑھیں ۔ایک اور نے کہا جماعت نے مشکل اوقات میں ہمیشہ ہماری مدد کی ہے ۔قریب کے سکول میں ٹیچر ہوں ۔آج کے بعد میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ لوگ خطرناک نہیں ہیں ۔پھر ایک دوست جو شامل تھے وہ کہتے ہیں کہ اس میں شامل ہو کر اور امام جماعت کا خطاب سننے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ ہم کو اسلام کے بارہ میں جاننے کی بہت ضرورت ہے ۔جاپان ایک جزیرہ ہے اور اس لئے اسلام کے بارہ میں دہشت گردی سے آگے نہیں بڑھتے مجھے امید ہے کہ امام جماعت کی آمد اس تصور کو بدلنے کی وجہ بنے گی ۔ایک مسجد کے بارہ میں قریبی رہنے والے نے کہا کہ میں اب اسلام کی معلومات کے لئے اس مسجد میں آتا رہوں ۔اور ایک دوست نے جاپان سے کہا میں نے پہلے اس طرح کی تقریب میں شرکت نہیں کی آج اس میں شامل ہو کر مجھے پہلی بار علم ہوا مسجد کے مقاصد کیا ہیں ۔ایک ڈاکٹر نے کہا کہ جاپان سے ان کا کافی تعلق ہے گزشتہ تین سال سے ہیومینٹی فرسٹ کے کام کر رہے ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ جو اسلام جماعت امام احمدیہ نے پیش کیا اس کے بارہ میں کسی بھی مذہب کو کوئی آر نہیں ہونا چاہیے ۔پھر ایک اور جاپانی دوست نے کہا : اسلام کا مطلب امن اور باہمی سلامتی ہے ۔امام جماعت احمدیہ کے یہ الفاظ میرے دل میں اتر گئے ۔ایک طالبعلم جاپان آئے ہوئے تھے برازیل سے وہ کہتے ہیں کہ بہت ہی دلچسپ تقریب تھی ۔میں نے کبھی براذیل میں ایسی تقریب نہیں دیکھی ۔امام جماعت کا خطاب سن کر جذباتی ہو گیا تھا کوئی شک نہیں ان کے الفاظ دلوں کو بدلنے والے ہیں ۔اسلام کی اصل تعلیمات بہت اچھی ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ میڈیا جو اسلام کے بارہ میں بتایا اسلام اس سے بہت مختلف ہے ۔ایک خاتون کہتی ہے کہ آج کا دن میری زندگی میں کایا پلٹنے والا دن تھا ۔میرا اسلام کے بارہ میں نظریہ بدل دیا ہے ۔تلوار سے جہاد کا زمانہ نہیں پیار سے جہاد کرنے کا زمانہ ہے ۔میں تو کہوں گی کہ سب مسجد دیکھیں اور احمدیوں سے اسلام سیکھیں ۔ایک خاتون نے کہا پہلے بھی ایک تقریب کا انعقاد ہوا تھا اس میں شامل تھی اس وقت ذہن میں کچھ سوالات باقی تھے آج ان تمام سوالوں کے جواب دے دئے ہیں ۔اسلام دنیا کے لئے خطرہ نہیں بلکہ یہ دنیا کو یکجا کر سکتا ہے ۔ایک ٹیچر اپنے کچھ طالبعلموں کے ساتھ آئی اور ملی کہتی ہیں کہ امام جماعت نے میرے تمام سوالوں کے جوابات دے دئے ۔یہ طالبعلم پہلے جماعت سے خوفزدہ تھے ۔اب ان کا نظریہ تبدیل ہو گیا ۔میں چاہتی ہوں جاپانیوں اور احمدیوں کے بیچ یہ تعلق قائم ہوتا چلا جائے ۔ ایک اور نے کہا مجھے لگتا ہے کہ اس مسجد سے جاپان اور اسلام کے درمیان خلیج دور ہو جائے گی اور اسلام جاپان میں پھیلتا چلا جائے گا ۔حضور انور کے چار انٹریو ہوئے ۔ ایک وسطی جاپان کا مشہور ٹی وی ہے اس نے بھی انٹریو لیا اور خبر بھی نشر کی ۔پھر ایک اور نے انٹریو لیا ۔پھر ایک اخبار کے نمائندہ نے انٹرویو لیا اور عیسائی پریسٹ کے ساتھ مل کر جو واحد مذہبی اخبار ہے اس کے پڑھنے والوں کی تعداد 3 لاکھ ہے ۔اسی طرح ٹوکیو میں جرنلسٹ نے انٹرویو لیا ۔شائع کرنے کا کہا تھا ۔80 لاکھ پڑھنے والے ہیں ۔ اس طرح مسجد کے موقع پر پانچ ٹی وی چینل اور اخبارات کے نمائندہ آئے تھے ۔ایک ٹی وی نے خبر نشر کی کہ جاپان میں سب سے بڑی مسجد کا افتتاح آج ہوا چھ سات منٹ کی خبر دی ۔خبر میں کہا کہ لندن سے آئے ہوئے جماعت احمدیہ کے امام نے دہشت گرد تنظیموں کا اسلام سے لا تعلق ہونے کے لئے کہا اور پیرس کے حملوں کی بھر پور مذمت کی ۔اور انٹریو لیا اور بعض حصے دکھائے ۔اسی طرح تکائی ٹی وی کے ناظرین کے 1 کڑور سے زیادہ دیکھنے والے ہیں ۔پانچ دفعہ یہ خبر نشر کی افتتاح پیرس کے حملوں کے بعد ہوا ۔امام جماعت لندن سے اس تقریب کے لئے آئے پھر خطبہ کو بھی دکھایا اور افتتاح کے مناظر بھی دکھائے ۔اسی طرح ٹی وی ایس ٹی وی چینل نے جو کڑورو سے زیادہ سننے والے ہیں ۔اس نے خبر نشر کی کہ پیرس حملوں کو ابھی ایک ہفتہ ہوا ہے اور جاپان سے سب سے بڑی مسجد کا افتتاح ہوا ہے یہ مسجد جماعت نے بنائی ہے اور پیرس میں ہونے والے حملوں کو غیر اسلامی اور غیر انسانی کہا ہے اور تصویر حضرت مسیح موعودؑ بھی دکھائی گئی ۔تین بار یہ خبر نشر ہوئی ۔ٹی وی ایچ ای نے بھی اس کی خبر دی جب کہ پیرس حملوں کے بعد اسلام کے بارہ میں تاثر پھر پیدا ہوگیا ہے ۔امام جماعت احمدیہ نے پیرس کے حملوں کی مذمت کی ہے ۔خبر کے دوران دیگر احباب کے تاثرات دکھائے گی ۔یہ دوپہر اور شام کی خبروں میں نشر کی گئی ۔پھر نگویا ٹی وی کی تعداد سواکڑور سے اوپر ہے ۔یہ بھی مسجد کی خبر نشر کی حاضرین کا کہنا تھا جہاں ان کے دل خوش ہیں کہ مسجد بنی ہے وہاں رنجیدہ بھی ہیں بھی پیرس میں نا حق خون بہایا گیا ۔یہ خبر بھی دو بار دکھائی گئی ۔ انٹر نیٹ پر بھی مسجد کے بارہ میں خبریں ڈالی گئیں۔ایک اخبار کی اشاعت 80 لاکھ ہے اس نے خبر شائع کی کہ ہمارا عقیدہ ہم آہنگی ہے ۔جماعت احمدیہ جاپان کی مسجد مکمل ہوئی ہے یہ جاپان کی سب سے بڑی مسجد ہے 500 نمازی نماز ادا کر سکتے ہیں ۔یہ مسجد ہر کسی کے لئے اپنےدروازہ کھولے رکھے گی ۔یہ مذہبی جماعت ہے جس کی تعلیم کامل ہے ۔یہ رضا کارانہ خدمات میں یہ پیش پیش ہے ۔اس جماعت نے زلزلوں اور سیلاب میں سب سے پہلےاپنی خدمات پیش کی ہیں ۔اسی طرح پریس نے جو مختلف اخبارات کو خبریں مہیا کرتی ہے ۔اس طرح ایک خبر 65 لاکھ لوگوں تک پہنچتی ہے ۔جاپان کی سب سے بڑی مسجد کی افتتاح کی خبر دی ۔امام جماعت کی آمد اور پیرس کے حوالہ سے غیر انسانی فعل کہا گیا اسلام کی ترقی کے لئے تلوار کی نہیں اپنے اندر کی برائی کو ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔اسی طرح ایک اور اخبار لکھتا ہے کہ جاپان کی سب سے بڑی مسجد کا افتتاح ہوا مسلمانوں کی ایک تنظیم کے سربراہ مرزا مسرور احمد نے 20 نومبر کو مسجد کا افتتاح کیا اور انہوں نے دہشت گردی کی مذمت کی ہے اور طاقت کے زور پر اسلام کا نظریہ غلطی خوردہ ہے انسانی جانوں کا ضیاع اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بن رہی ہیں ۔ مجموعی طور پر افتتاح پر جو خبریں نشر ہوئی 5 کڑور 20 لاکھ افراد تک اسلام کا پیغام پہنچا ہے ۔یہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے نظارے ہیں جو مسجد کے ذریعہ اسلام کا حقیقی پیغام پہنچانے میں لگے ہیں ۔دوسری طرف ملاں بھی غیض و غضب کا اظہار کر رہے ہیں آپ ؑ نے جاپان کے بارہ میں فرمایا کہ میں تو یہاں تک یقین رکھتا ہوں کہ میری طرف سے کوئی اخبار اسلام کے لئے شائع ہو تو یہ میری مخالفت میں جاپان تک جائیں گے لیکن ہوتا یہی ہے کہ جو خدا چاہتا ہے ۔ 2013 پہلے بھی جب دورہ کیا تھا تب بھی ایک مولوی گیا اور اس نے کہا میرے باپ کا مشن تھا جہاں بھی قادیانی جائیں ہم ان کی تبلیگ کو روکیں گے ۔اس نے کہا تھا کہ یہ لوگ اپنے مشن کے ساتھ اس قدر مخلص ہیں کہ وہ جان مال وقت قربان کرتے ہیں۔ اب میں اس خلیفہ کی وجہ سے ہر سال جاپان جاؤںگا ۔اللہ تعالیٰ ان کے شر ان پر الٹائے ۔آج کل جو خبر چل رہی ہے وہ 2013 کے دورہ پر تھی ۔اسی طرح ٹوکیو میں بھی ایک فنگشن تھا اس میں 63 جاپانی مہمان شامل ہوئے ۔ایک پروفیسر کہتا ہے کہ میں سوچتا رہا کہ آپ کیا بتائیں گے لیکن 20 منٹ میں آپ نے آئندہ حالات کا بھی اور آئندہ جنگوں سے بچنے سے خبردار کیا اور اسلامی تعلیم بھی بتا دی ۔کہتے ہیں کہ یہ خطاب جاپان میں پھیلانا چاہیے ۔پھر ایک اور نے کہا اگر جماعت احمدیہ جاپان رضا کارانہ خدمات کی وجہ سے ہمارے سامنے نہ آتی تو ہم اسلام کا یہ خوبصورت چہرہ دیکھنے سے محروم رہ جاتے ۔ایک اور نے کہا جماعت احمدیہ کے خطاب نے ہماری آنکھیں کھول دی ہیں ہم ان خطرات کا تصور بھی نہیں کر سکتے ۔دوسری جنگ عظیم پر جماعت کی طرف سے مذمتی خطاب بھی بتاتا ہے کہ امن کے لئے بہتر ہے ۔یہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی ؓ نے خطاب دیا تھا ۔آپ ؓ نے فرمایا تھا ’’ہمارا مذہبی اور اخلاقی فرض ہے کہ ہم اس قسم کی خونریزی کو جائز نہیں سمجھتے خواہ حکومتوں کو ہمارا اعلان برا لگے یا اچھا ۔‘‘ ایک بد ھ است نے کہا ہماری آنکھوں میں آنسو آگئے اور ملاقات کے بعد نماز بھی پڑھی اور وہاں پر رہے اور آبدیدہ رہے ۔2013 میں جب یہ ملے تھے اس وقت ایک دوست نے کہا تھا مجھے خداتعالیٰ اپنا وجود دکھائے کہتے تھے خدا کا قائل ہی نہین تو کیا دعا کروں ۔لیکن اب نماز بھی پڑھی اور وہاں پر رہے ۔ایک نے کہا جو اسلام کو داعش کے ساتھ جوڑتے ہیں وہ غلط ہے ۔ پھر ایک جاپانی خاتون نے کہا میرا اسلام کے بارہ مین تاثر تھا کہ اسلام نہایت خطرناک مذہب ہے لیکن آج پتہ چلا اسلام سب سے زیادہ امن پسند مذہب ہے ۔جب جاپان پر ہونے والی سترویں انیورسی کا ذکر کیا اس سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا کے حالات سے آگاہی ہے ۔خلیفہ کا کہنا کہ آج سے ستر برس پہلے جو غلطیاں ہوئی تھیں ان کو دھرانا نہیں چاہیے ۔ایک نے کہا داعش اور اصل اسلام میں کس قدر فرق ہے میری پریشانیاں دور ہو گئی ۔ہم تیسری عالمی جنگ کی طرف جا رہے ہیں ہم کو اس کو روکنے کے لئے کوشش کرنی چاہیے ۔پھر ایک جاپانی دوست کہتے ہیں کہ آج جماعت کے خلیفہ کے خطاب میں سب کے لئے اہم پیغام تھا اور وہ یہ تھا کہ اس دور میں اسلحہ بارود بہت خطرناک ہیں یہ وقت ایک دوسرے کے لئے محبت کے اظہار کا ہے ۔خلیفہ نے ہم جاپانیوں کو ہماری ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی ہے ۔خلیفہ نے کہا جاپان کو چاہیے کہ اپنی تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے ہر قسم کے فساد کی روک تھام کے لئے سب سے آگے کھڑا ہو۔ایک نے کہا مجھے آج فخر ہے کہ مسلمانوں کے ایک لیڈر سے ملا ہوں ۔کہتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ جنگ کب ہوگی میں سمجھتا تھا کہ جنگ کو روک سکتے ہیں اس کے لئے خلیفہ کی بات پر عمل کرنا ہوگا۔ایک جرنسلٹ نے کہا یہ پیغام دراصل امن کا پیغام ہے ۔ایک جاپانی مسلمان دوست ہیں کہ میں مسلمان ہون لیکن کسی عالم سے ایسی بات نہیں سنی ۔آپ نے سب کچھ بیان کر دیا ۔میں قرآن پڑھتا ہوں لیکن اس کے باوجود میں وہ باتیں نہیں جانتا جو آپ نے بیان کیں ۔خلیفہ جماعت احمدیہ نے جو بھی بیان کیا قرآن کریم سے بیان کیا اور اصل اسلام کا بتایا ۔پہلے کبھی تیسری عالمی جنگ کا نہیں سوچا تھا لیکن اب احساس ہوا ہے کہ یہ دنیا کے لئے خطرہ ہے ۔ایک گاڑی بنانے والے کے صدر نے کہا آپ کی ساری باتیں ساری دنیا کے لئے لائحہ عمل ہیں ۔ایک شاعر تھے انہوں نے امن کے بارہ میں کتاب لکھی وہ کہتے ہیں جو کچھ بھی لکھا تھا آپ نے مہر لگا دی ۔ ایک طرف یہ ہمارا پیغام سننے کی طرف اظہار لگاتے ہیں ۔دوسری طرف ہمارے مغربی راہنما اظہار کرتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم میں شدت پسندی ہے ۔یہ نہیں سوچتے کہ کتنے لوگ ہیں جو یہ کر رہے ہیں ۔یہ لوگ ایسی باتیں کر کے امن پسند مسلمانوں کو بھی اپنے خلاف کر لیں گے اور پھر سخت فساد ہوگا ۔اس لئے مغربی ممالک کے سیاست دانوں کو بھی بلا سوچے سمجھے بیانات جاری نہیں کرنے چاہیے اور وہ احمدی جو ان سے تعلقات رکھتے ہیں ان کو سمجھانا چاہیے کہ ایسی باتیں نہ کریں جس سے فساد ہو ۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ جاپان کو بھی جلد سے جلد وہ پیغام پہنچانے کی توفیق ملے ۔جماعت کی ترقی دیکھ کر ان کی حسد کی آگ یعنی مولویوں کی آگ ہوتی ہے ۔ایک ظالمانہ اور بہیمانہ اظہار پاکستان جہلم میں بھی ہوا جہلم کی چپ بورڈ فیکٹری کو آگ لگا دی گئی اور کوشش یہ تھی کہ احمدی مالکان اور ورکر کو بھی زندہ جلایا جائے ۔لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اس میں کامیاب نہ ہو سکے لیکن مالی نقصان ہوا۔ان لوگوں کا خیال ہے کہ اس طرح یہ احمدیت کو ختم کر سکتے ہیں ۔ان کو احمدیت سے دور کر سکتے ہیں ۔ان آگیں لگانے والوں کے بارہ میں تو قرآن شریف میں بتا دیا ہے کہ اگر یہ لوگ توبہ نہیںٰ کریں گے تو ان کے لئے جہنم کا اور آگ کا عذاب مقدر ہے ۔جہاں تک احمدیوں کا سوال ہے ان کھڑے حالات میں ان کا ایمان کم ہونے یا ختم ہونے کی بجائے بڑھتا ہے ۔1974 میں آگیں لگائی اور احمدیوں کو ابتلاء میں ڈالنے کی کوشش کی لیکن ان کی کوئی بھی خواہشات پوری نہ ہو سکیں ان کے دلوں میں حسرتیں ہی رہ گئی ۔احمدیوں کو کشکول پکڑانے والوں کو خود رسو ہوتے دیکھا ۔یہ ابتلاء ہمارے ایمان کو نقصان نہیں پہنچا سکتے ۔مالی نقصان اللہ تعالیٰ پورا کر دیتا ہے اور بہت سے لوگ ہیں جو ابتلاء سے گزرے ان کو بہت بڑھ کر دیا ۔یہ فیکٹری خاندان کی تھی ۔مجھے اس بات پر خوشی ہے کہ ایسے نقصانات پر جو ایک مومن کا اظہار ہے وہ ان لوگوں نے کیا ۔اللہ تعالیٰ نے ان کے احمدی جان و مال کو محفوظ رکھا ۔مرزا نصیر احمد طارق جو مرزا منیر احمدکے بڑے بیٹے ہیں ۔ان کا بیٹا بھی جو ساتھ ہی تھا ۔بیٹا تو ایک گھنٹہ پہلے بیوی کے علاج کے سلسلہ میں لاہور کے لئے نکل گیا تھا ۔مرزا نصیر احمد صاحب اور ان کی بیوی گھر پر تھے ۔گھروں کے دروازہ کھڑکیاں توڑ کر اندر آگئے لیکن اللہ تعالیٰ نے بچانا تھا ان کو بچا لیا گیا ۔جس نے روکنا تھا انہوں نے نہ روکا ۔ان کو پچھلے دروازوں سے نکال دیا اور پھر جنگل میں چلتے رہے پھر ایک سواری ملی اور محفوظ جگہ پہنچے ۔اسی طرح احمدی ورکر بھی چھپتے رہے اور ان کو محفوط مقامات تک پہنچایا ۔ایک گیٹ کے سیکورٹی انچار ج کو گرفتار لگا دیا گیا قمر احمد ان پر دفع بہت سخت لگا ئی گئی ہے اور منصفوں کو بھی توفیق دے کہ انصاف کرنے والے ہوں ۔مرزا نصیر کو بھی ہاؤس میں روکا ہوا تھا ۔گویا حملہ آوروں کو کھلی چھٹی دی گئی ۔مرزا نصیر احمد صاحب امیر صاحب جہلم بھی ہیں۔جسطرح حملہ ہوا اس سے لگتا ہے کہ پہلے پلان تھا۔بہرحال یہ پلان پہلے تھا ۔فیکٹری کے اندر تو کسی کو پتہ نہیں چلا کہ کیا ہو رہا ہے ۔جان بچا کر بھاگنا مشکل ہوگیا ۔لیکن حملہ آوروں نے سب ساز و سامان جمع کر لیا اور پولیس جب آئی تب تک آگ لگ چکی تھی ۔یہ بھی ان کی مہربانی ہے کہ انہوں نے ایک دو کو پولیس نے نکلوایا اور بچا کر لے گئے ۔مرزا نصیر احمد صاحب کی بہو نے لکھا ہے کہ قمر صاحب کی اہلیہ پر مقدمہ چلایا گیا میں ان کو ملنے گئی تو حیران رہ گئی کہ قمر صاحب کی اہلیہ اس طرح مسکرا کر مل رہی تھیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔اللہ تعالیٰ کرے کہ ان کے حوصلہ تک بڑھائے اور دشمنوں کو بھی کیفر کردار تک پہنچائے ۔مرزا نصیر صاحب نے جو صبر اور شکر کا اظہار کیا ہے ۔مجھے فکر تھی کہ ان سے کوئی نا شکری کا کلمہ نہ نکل جائے ۔لیکن ان کے خطوط سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور کامل رضا کا اظہار کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کو جزا دے اور حضرت مسیح موعود ؑ کے ساتھ خونی رشتہ ہونے کے لئے اس صبر و شکر سے نمونہ دکھایا ہے ۔مال تو آنی جانی چیز ہے جس طرح پہلے دیا تھا اب بھی دے گا اور بڑھ کر دیگا۔اللہ تعالیٰ ان کو جھوٹے مقدمات سے بری کرے ۔خاص طور پر قمر صاحب پر سخت دفع لگائی گئی ہے حالانکہ سب سے زیادہ تکریم احمدی کو ہے ۔بعض غیر از جماعت نے اس پر بھی بات کا اظہار کی ہے کہ وہ انصاف کریں گے ۔پروگرام کرنے والوں کے خلاف کھل کر بات کی ہے ۔اسی طرح فیکٹری کے بعد دو جماعتوں کالا گوجراں اور محمودہ پر حملہ کیا اور ایک مسجد سیل کر دی گئی ہے ۔حملہ کیا اور صفحوں سامان کو آگ لگائی ۔بہرحال بعد میں فوج نے ان کو باہر نکال دیا اور تالہ لگا دیا اور قبضہ میں ان کے نہیں ہے ۔دو جماعتیں کافی خطرہ میں ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کو محفوظ رکھے ۔اللہ تعالیٰ کرے کہ پاکستان میں انصاف قائم کرے ۔اور وہ لوگ جو مزدور تھے ان کے لئے بھی روز گار بہتر سامان مہیا کرے ۔ آمین

No comments:

Post a Comment