Friday, 6 November 2015

Love for All Hatred for None


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ خطبہ جمعہ 06 نومبر 2015 بیت الفتوح یوکے(مرتب کردہ : یاسر احمد ناصر مربی سلسلہ ) تشہد و سورة الحمدللہ اور آیت کریمہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : تم ہرگز نیکی کو پا نہیں سکو گے یہانتک کہ تم ان میں سے خرچ کرو جن سے تم محبت کرتے ہو اور تم جو بھی خرچ کرتے ہو یقینا اللہ اس کو خوب جانتا ہے ۔ہر مومن کی خواہش ہوتی ہے کہ نیکی کرے اور خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرے ۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں توجہ دلائی اگر تم نیکی اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کی خواہش ہے تو یاد رکھو نیکی قربانی کو چاہتی ہے ۔اللہ کی رضا کے حصول کے لئے قربانی کرو اور وہ قربانی جو تم کو بہت عزیز ہے ۔جس سے تم فائدہ اٹھا رہے ہو نفع اٹھا رہے ہو جوتم کو آرام وسہولت دے رہی ہے اس چیز کی قربانی کرو جو تمہاری نسلوں کو سنوارنے کا بھی بظاہر تمہارے نزدیک ذریعہ ہے ۔مال تو ہمیشہ انسان کو پیارا رہا ہے ۔سونا چاندی جانور جائیدار یہ سب انسان کو بہت پیارے ہیں ۔اور ان پر انسان فخر کرتا ہے ۔آج کل نئے دور میں جب انسانوں کو ٹکنالوجی نے انسان کو بہت قریب کر دیا ہے تو اس نے خواہشات کو بھی بہت بڑھا دیا ہے قطع نظر اس کے وہ پوری کر سکتے ہیں خواہشات کی بھڑک اور ان کے حصول کی کوشش انتہا تک پہنچی ہوئی ہے ۔تا کہ ان تمام عیاشی کی چیزوں تک پہنچ ہو جو دنیا میں کسی بھی جگہ میسر ہوں۔اگر خدانخواستہ اگر جنگ ہوئی تو ان لوگوں کی جو حالت ہوگی ان کا تصور کرنا بہت ہی برا ہوگا۔دولت اور نئی سے نئی چیز کی خواہش اور تجارت کی وسعت کی وجہ سے میڈیا کی وجہ سے غریب یا کم ترقی یافتہ یا ترقی پذیر ممالک میں رہنے والوں کو بھی ان سہولتوں کا علم ہے ۔ان ممالک میں بھی خواہشات اور ترجیحات نئی سے نئی چیزوں کےحصول کی طرف ہو گئی ہیں ۔بہرحال مادیت اپنے عروج پر ہے ۔ایسے حالات میں یہ کہنا کہ نیکی کے لئے ان چیز وں کو خرچ کرو جن سے تم کو محبت اپنی خواہشات کو سہولتوں کو قربان کرو ۔ عام دنیا دار کے لئے یہ عجیب سی بات ہے ۔دنیا دار یہی کہے گا یہ پرانے زمانے کی فرسودہ باتیں ہیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:کوئی کہے گا چلو تم کچھ دے دو ۔مگریہ کہنا کہ اپنی خواہشات کو کچل دو یہ عجیب بات ہے ۔لیکن دنیا کو پتہ نہیں اس زمانہ میں بھی ایسے لوگ ہیں جو قرآن کریم کی اس تعلیم کو جانتے ہیں اور اس کے حصول کی کوشش کرتے ہیں جو البر یعنی ایسی نیکی کی کوشش کرتے ہیں جو دوسروں کے لئے قربانی کی انتہاء ہے ۔اس نیکی کی کوشش کرتے ہیں جو دوسروں کو فائدہ پہچانے کے لئے ہر وقت بے چین رکھتی ہے ۔اس نیکی کی کوشش کرتے ہیں جو اطاعت میں بڑھاتی ہے ۔یہ نہیں دیکھتے کیا چیز پیاری ہے ۔اس وقت سب سے پیاری چیز اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت ہے ۔اس نیکی کی کوشش کرتے ہیں جو تقوی میں بڑھانے والی ہو ۔دنیا کا اکثر حصہ نہیں جانتا یہ کون لوگ ہیں ؟؟ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے زمانہ کے امام اور رسول کریم ﷺ کے عاشق صادق سے جڑ کر حقیقی نیکی کا ادراک حاصل کیا ۔جو آنحضرت ﷺ سے فیض پانے والے تھے جن کی قربانیوں کے معیار بھی عجیب تھے ۔ایک حدیث میں آتا ہے جب یہ آیت اتری لن تنالو البر ۔۔۔ تو حضرت ابو طلحہ انصاری ؓ جو مدینہ کے مالدار تھے ان کے کھجور کے باغ تھے ۔سب سے عمدہ باغ جو تھا انہوں نے یہ باغ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یہ سب سے پیاری جائیداد ہے میں اس کو اللہ کی راہ میں دیتا ہوں ۔ یہ لوگ روشن ستارے تھے ۔پس ان صحابہ کی مثالیں دیتے ہوئے ہمیں اس زمانہ کے امام نے بار بار توجہ دلائی ۔آپ ؑ نے اپنے ارشادات میں قران کریم کی تعلیمات اور ارشادات کو کھول کر بیان کیا ۔نیکیوں کے حصول کا فہم دیا قربانی کے معیاروں کے بارہ میں بتایا ۔ان نمونوں پر قائم ہونے کی تلقین فرمائی جو صحابہ رسول ﷺ نے قائم کئے تھے ۔آپ ؑ نے فرمایا کہ مسیح موعود ؑ کو ماننے والوں کو ان نمونوں کو اپنانا ضروری ہے ۔فرمایا : بے کار اور نکمی چیز کے خرچ سے کوئی آدمی نیکی کرنے کا دعوی نہیں کر سکتا ۔نیکی کا دروازہ تنگ ہے ۔بے کار چیز کے خرچ سے کوئی اس میں داخل نہیں ہو سکتا ۔جب تک عزیز سے عزیز اور پیاری سے پیاری چیز کو خرچ نہ کرو گے تب تک نیکی نہیں مل سکتی ۔کیا صحابہ کرام ؓ مفت وہ درجہ پا گئے ۔دنیاوی خطاب کے حصول کے لئے کس قدر محنت ہوتی ہے تب ایک معمولی خطاب جس سے سکینت نہیں ملتی تب ملتا ہے ۔پھر دیکھو کہ رضی اللہ عنھم کا خطاب جو دل کا اطمینان ہے یونہی آسانی سے مل گیا۔خدا کی رضا مندی حاصل نہیں ہو سکتی جب تک تکالیف نہ اٹھائے ۔ پھر فرمایا : دنیا میں انسان مال سے بہت محبت کرتا ہے اسی واسطے علم تعبیر الرویا میں لکھا ہے کہ اس نے جگر نکال کر کسی کو دیا تو اس سے مراد مال ہے ۔جب تک انسان ایثار نہ کرے دوسرے کو نفع کیونکر پہنچا سکتا ہے ۔پس مال کا خرچ کرنا بھی انسان کی سعادت اور تقوی ہے ۔فرمایا : میں دیکھتا ہوں صد ہا لوگ میری جماعت میں ہیں جن کے جسم پر مشکل سے لباس ہوتا ہے ان کی جائیداد کوئی نہیں مگر ان کی لا انتہاء اخلاص سے طبیعت پر اثر ہوتا ہے ۔ لیکن کیا یہ اخلاص وفا وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہوگیا ؟؟ یقینا نہیں ۔آج بھی ایسے لوگ مردوں عورتوں میں سے بچوں میں سے بھی ہیں جو اخلاص و وفا میں بڑھے ہوئے ہیں یہ ساری دنیا میں ہزاروں ایسی مثالیں ہیں ۔جو لن تنالو البر۔۔ کا صحیح ادراک رکھتے ہیں جو قربانیوں میں بڑھتے چلے جا رہے ہیں جن میں پرانے بھی اور نئے شامل ہونے والے بھی ہیں ۔احمدیت کی قبولیت کے بعد دین کے لئے اپنا محبوب مال قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے ہیں یہ انقلاب ہے جو حضرت مسیح موعود ؑ نے اس زمانہ میں پیدا فرمایا ہے ۔’’ان کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے ۔‘‘ ان کے چند نمونے پیش کرتا ہوں ۔یہ مثال ایک عورت کی ہے عورت بھی وہ جو نابینا ہے ۔سیرالیون سے ایک جماعت میں ایک عورت رہتی ہے جنہوں نے تحریک جدید چندہ کا وعدہ دو ہزار یونگ لگوایا ۔کہنے لگی چندہ کی ادائیگی کی فکر ہو رہی تھی ۔بہرحال میں وعدہ کیا ہے ادا کرونگی ۔چندہ کے لئے ادھار رقم لینے کا ارادہ رکھا ۔مگر اس نے انکار کر دیا۔اس پر وہ نابینا عورت بڑی فکر مند ہوئی ۔کہنے لگی کچھ دیر ٹھہر کر واپس آئیں ۔وہ دعا میں مشغول ہو گئی اور ایک اجنبی شخص پاس سے آیا اور کہنے لگی میرے پاس اس وقت سر پر لینے والا کپڑا ہے ۔تم دو ہزار لیون میں لے لو ۔اس پر اس نے بتایا میں نے چندہ تحریک جدید ادا کرنا ہے میرے پاس اس وقت رقم نہیں ہے ۔بعد میں وہ کپڑا بھی واپس کر دیا اور کہا یہ میری طرف سے آپ رکھ لیں ۔ راجستان انڈیا کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک جماعت ہے بولا بولی وہاں ایک دوست 65 سالہ نے جن کی کوئی مزدوری نہیں تھی ۔مالی قربانی کی طرف توجہ دلائی گئی تو ایک ہزار 50 روپے چندہ کے ادا کر دئے ۔حیران ہو کر پوچھا آپ اتنی رقم کیسے دے رہےہ ہیں آپ اس رقم سے کچھ رکھنا چاہتے ہیں تو رکھ لیں ۔وہ موصوف رونے لگے ۔ یہ رقم میں نے اللہ تعالیٰ کی خاطر جمع کی تھی اور دعا کریں مجھے اللہ کے حضور اس سے زیادہ پیش کروں ۔بینن کے امیر صاحب نے لکھا کہ یہاں ایک جماعت میں صدر صاحب کو تحریک جدید کے وعدوں کی فہرست بھجوائی ۔پرانے احمدی دوست کا چندہ دہنگان میں لکھا ہوا تھا۔کیا آپ نے دیکھا ہے کہ کسی نے ایک ہفتہ کھانا نہ کھایا ہو ۔ساری رات روتا رہا ہوں چندہ ادا کرنا ہے اور میرے پاس پیسے نہیں ۔رقم دی مدد کے طور پر ۔اس نے اسی رقم میں سے چندہ عام کی رقم واپس کر دی ۔پھر قادیان سے نائب وکیل المال تحریر کرتے ہیں جماعت ہے خطبہ جمعہ میں تحریک جدید کی اہمیت بیان کی گئی اور والہانہ لبیک کہنے والوں کا ذکر کیا گیا اور صدر لجنہ اماء اللہ ٹھہر گئی اور سونے کا مضبوط کنگن اتار کر تحریک جدید میں پیش کر دیا ۔عورتوں میں بھی یہ روح زندہ ہے ۔یہ احمدی خواتین کا ہی خاصہ ہے ۔جرمنی میں ایک جماعت میں تحریک جدید کے حوالہ سے سیمینار کیا خاتمہ پر ایک دوست عورت کا زیور لیکر ادھر آ گئے ۔اپنی بیوی سے کہا میں نے وعدہ لکھوا دیا ۔میں نے قربانی پیش کی ہے اور اپنے شادی کا زیور تحریک جدید میں دے دیا ۔لاہور سے ایک خاتون کا تحریک جدید کا وعدہ معیاری تھا پھر بھی جب ان کو مزید دینے کی درخواست کی اور زیورات کا ڈبہ لے آئی اور انہوں نے اس میں سے وزنی کڑھے نکال کر پیش کئے ۔اب دیکھیں ۔ایک ہندوستان کے جنوب میں ایک پنجاب پاکستان میں تیسری جرمنی میں رہتی ہے لیکن قربانی کرنے کی رو اور سوچ ایک ہے ۔یہ معیار ہی جو حضرت مسیح موعود ؑ نے جماعت میں پیدا فرمائے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے فضل ہیں جو احمدیوں پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔افریقہ کے ایک مخلص کا واقعہ ہے کہ مالی میں ایک دن جمعہ کی ادائیگی کے بعد ملوایا ۔انہوں نے کہا میں چندہ دینے آیا ہوں اور آج ریڈیو میں چندہ کے متعلق خطبہ سنا ہے ۔خاکسار نے ان کو انفاق فی سبیل اللہ کی برکت کے لئے آیت لن تنالو البر۔۔ کی آیت سنائی ۔تو سوچا تھا پانچ ہزار چندہ دوں مگر بعد میں شیطان نے وسوسہ ڈال دیا ۔دو ہزار کافی ہے ۔اب میں پانچ ہزار ہی چندہ دونگا۔اللہ تعالیٰ قربانی کرنے والوں کو کیسے نوازتا ہے اور پھر ایمان میں ترقی ہوتی ہے ۔اس کی ایک مثال ۔کنگو سے ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک زمیندار تھے جب سے چندہ ادا کرنا شروع کیا ہے میری فصل میں بہت اضافہ ہو گیا ۔پھر ایک عورت نے کہا میں بھی کھیتی باڑی کرتی ہوں چندہ کے ساتھ میری آمدنی دگنی ہو گئی ہے ۔ایک اور آدمی نے جو بے روز گار تھے 20000 فرانک لکھوایا ۔پھر جاب مل گئی اور چندہ ادا کر رہے ہیں ۔یہ سب چندہ کی برکت ہے ۔انڈیا سے ایک صاحب نے وکیل المال صاحب کو فون کیا کہ حضور نے کہا میرا وعدہ دو لاکھ سے بہت کم ہے پانچ لاکھ کر دیں ۔پھر رونا شروع کر دیا اور وعدہ پورا کرنے کے لئے میں نے دعائیہ لکھا ۔کچھ عرصہ کے بعد صوبہ کرالہ کا دورہ کرتے ہوئے موصوف نے پورا وعدہ کر دیا اور کہا میرے کام میں بہت برکت ڈالی ۔ایک آدمی نے ایک ماہ کی رقم لکھوائی مگر ادائیگی ایک لاکھ تک کر دی ۔پھر ایک جگہ سے بہت بڑی رقم ان کی کسی طرف تھی وہ ادا کر گیا ۔ازبکستان ایک نو مبائع دوست ہیں ۔کہتے ہیں میں اتنے عرصہ سے ماسکو میں مقیم ہوں ۔کتنی آمد ہوگی مجھے پتہ ہوگا لیکن جن سے بیعت کی اور چندہ دیا ہے اتنی آمد کبھی نہیں ہوئی جتنی اس سال ہوئی ۔برکینا فاسو سے ایک مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک جماعت کے فرد آئے اور کہا حج کرنے کی خواہش رکھتے ہیں کہ وسائل نہیں ہیں معلم صاحب نے کہا چندہ میں باقاعدہ ہو جائیں ۔اس کے بعد چندہ دیا اور کچھ عرصہ کے بعد آ کر بتایا اللہ تعالیٰ نے خواہش پوری کر دی ہے اور حج پر جانے کا انتظام ہو گیا ۔یہ سب چندہ کی برکت سے ہوا ہے ۔ برکینا فاسو کی ایک جماعت کے صدر صاحب نے بتایا کہ ایک آدمی کو بہت مالی تنگی تھی ۔ایک پروجیکٹ شروع کرنا چاہا مگر نہ ہو سکا ۔جلسہ پر مالی قربانی کے بارہ میں سنا ۔تو وہاں ارادہ کیا کہ سب ادا رکرونگا۔کہتے ایک ماہ نہ گزرا کہ تمام کام ٹھیک ہو گئے ۔کینڈا کے ایک دوست کا کافی نقصان ہوا اس کو توجہ دلائی گئی کہ لازمی چندہ جات میں باقاعدہ ہوں ۔میں نے پڑھا کہ تحریک جدید کا چندہ شروع میں ادا کر دیا جائے ۔تو دیتا ہوں ۔اب سارا قرض اتر گیا اور اب مالی کشائش ہے ۔ایک دوست نے کام شروع کیا ایک ہزار ڈالر لکھوایا ان کو تحریک کی گئی کہ آپ نے پانچ ہزار لکھوانا ہے ۔اس سال کے اختتام پر جب وصولی کے لئے گئے تو اللہ تعالیٰ نے میرے کام میں بہت برکت ڈالی ہے اسی سال پانچ ہزار ڈالر ادا کرونگا۔امریکہ کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ 1984 میں پاکستان میں ہمارے کاروبار جلا دئے گئے ۔اللہ تعالیٰ نے بہت برکت دی ۔اس سال ایک لاکھ کا وعدہ لکھوایا ۔بہت وسیع ہو گیا ۔ایک چیک آیا کہ 38415 لکھا ہوا تھا ۔میرے اکاؤنٹ میں ساری کی ساری رقم تھی وہ پیش کرتا ہوں ۔نئے آنے والے بھی اخلاص و وفا میں بڑھ رہے ہیں عرب ملک کے ایک دوست ہیں ۔ان سے جب پوچھا گیا کہ دونوں میاں بیوی آپس میں گفتگو کیا کرتے تھے جماعت احمدیہ ہی ہے جو اچھے طریق سے خرچ کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی اہلیہ بھی جماعت میں آ گئی ہیں اس سال دنوں نے 14000 پونڈ کی قربانی کی ہے ۔لندن جماعت کے امیر کہتے ہیں کہ ایک جماعت کو جب چندہ کی تحریک کی گئی تو فیملی اپنے جمع شدہ پیسے اس چندہ میں دے دئے ۔مالی قربانی کے بے شمار واقعات سامنے آتے ہیں ۔دنیا کی ترجیحات سہولت کی طرف ہیں لیکن احمدی خدا کی رضا کے لئے قربانی کرتے ہیں ۔ایک آدمی نے ایک مرغا کے برابر رقم چندہ میں ادا کر دیا ۔گیارہ سال کا بچہ ویڈیو گیم کے لئے کچھ جمع کر رہا تھا لیکن جب چندہ کی تحریک کی گئی تھی اس نے ایک سو ڈالر چندہ میں ادا کر دئے ۔دین کو دنیا پر ترجیح کرنے کا وعدہ ایفا کیا ۔اب امریکہ جیسے ملک میں رہتے ہوئے یہ سوچ قابل تعریف ہے ۔یوگنیڈا سے لکھتے ہیں کہ ہمارے ریجن کے طفل نے نماز سیکھی اور نماز پڑھاتا ہے امیر صاحب نے اس کو انعام دیا تو اس نے پیسے تحریک جدید میں ادا کر دئے ۔ایک جنازہ پر گیا تو وہاں پر انعام ملا تو اس نے وہ بھی تحریک جدید نے چندہ میں دے دئے ۔اس کو دیکھ کر چندہ دینے کا شوق پیدا ہوا ہے ۔اس سال جماعت کے چھ اطفال نے وعدہ جات سے زائد ادائیگی کی توفیق حاصل کی ۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ یہ روح ہمیشہ ترقی کرتی رہے ۔اس نیئے سال کا اعلان کرتے ہوئے گزشتہ سال کی رپورٹ پیش کرتا ہوں ۔ یہ 81 واں سال ختم ہوا ہے 82 واں سال شروع ہوا ہے ۔گزشتہ سال کی کل وصولی 92 لاکھ 17ہزار 800 پونڈ ہے ۔ جو گزشتہ سال کی نسبت تقریبا 7 لاکھ پونڈ زیادہ ہے ۔ملکوں می پاکستان کا نمبر باوجود نا مساعد حالات کے پہلا ہی ہے ۔باہر کے ممالک سے پھر جرمنی ،پھر برطانیہ ہے پھر امریکہ پھر کینڈا پھر آسٹریلیا ۔پھر بھارت ، پھر میڈل ایسٹ کی ایک جماعت ہے ۔۔۔گھانا دسویں نمبر پر ہے گھانا نے اس سال مقامی کرنسی کے لحاظ سے سب سے زیادہ ادائیگی کی ہے ۔ مجموعی طور پر اس سال اللہ تعالیٰ میں شاملین کی تعداد 13 لاکھ ہو گئی ایک لاکھ نئے شامل ہوئے ہیں ۔ ۔مالی نے کافی کام کیا برکینا فاسو ۔۔۔۔۔دفتر اول کے شامل افراد کے 5927 کھاتے ہیں جن میں سے 85 حیات ہیں جو خود دے رہے ہیں باقی 5842 جاری ہیں ۔ پاکستان میں پہلے نمبر پر لاہور ،ربوہ پھر کراچی ہیں ۔اضلاع میں سیالکوٹ ،فیصل آباد ،سرگودھا ۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ تمام شاملین کے مال و نفوس میں بے انتہا برکت ڈالے اور اخلاص و فا میں بڑھاتا رہے ۔ آمین

No comments:

Post a Comment