
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ خطبہ جمعہ 20 نومبر 2015 بیت الفتوح یوکے(مرتب کردہ یاسر احمد ناصر مربی سلسلہ ) تشہد و سورة الحمدللہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں جن کو زمین میں تمکنیت عطا کی جائے تو زمین میں نماز قائم کرتے ہیں ۔الحمد للہ آ ج جماعت احمدیہ جاپان کو پہلی مسجد بنانے کی توفیق ملی ہے اللہ تعالیٰ اس کی تعمیر کو با برکت فرمائے اور اس مقصد کو پورا کرنے والے ہوں جو اس کو بنانے کا مقصد ہے ۔مساجد تو غیر بھی لاکھوں کڑوروں ڈالر لگا کر بناتے ہیں ۔یہ جماعت کی پہلی مسجد ہے ملک کی پہلی مسجد نہیں ۔یہاں سو سے زیادہ مساجد ہیں ۔یہ مسجد جو ہم نے بنائی یہ گنجائش کے اعتبار سے سب سے بڑی مسجد ہے ۔یہ بھی کوئی ہماری انتہا ء نہیں ہے ۔ہمارا مقصد تب پورا ہوگا جب ہم بیعت کے مقصد کو حاصل کریں وہ مقصد ہے اللہ سے تعلق قائم ہو اور عبادت کا حق ادا کرنے والے ہوں اور اس کی مخلوق کا حق ادا کرنے والے ہوں ۔ہم اپنی عملی حالتوں کے اونچے معیار قائم کرنے والے ہوں ۔ہم اسلام کی خوبصورت تعلیم کو اس قوم کے ہر فرد تک پہنچانے والے ہوں ۔جب جاپان کو مذہبی آزادی ملی تو اس کو بھی اسلام کی طرف توجہ پیدا ہوئی ۔جب یہ بات حضرت مسیح موعود ؑ کے علم میں لائی گئی تو آپ ؑ نے جاپانیوں تک حقیقی اسلام پہچانے کا بڑی شدت سے اظہار فرمایا ۔آپ ؑ نے فرمایا جن کے اندر خود اسلام کی رو ح نہیں ہے وہ دوسروں کو کیا فائدہ پہنچائیں گے ۔دوسر ے تو وحی کا دروازہ بند کر کے مذہب کو مردہ کر چکے ہیں ۔وحی کا دروازہ بند کر کے وہ دوسرے لوگوں کے بھی حق مارتے ہیں ۔آپ ؑ نے فرمایا چاہیے کہ چند لوگ لیاقت اور جرات والے ہوں وہ آدمی تیار کئے جائیں اور پھر آپ ؑ نے جاپانیوں کے لئے ایک کتاب لکھنے کا بھی اظہار کیا ۔آپ ؑ جو اسلام پھیلانے آئے تھے جاپان اس سے باہر نہیں تھا اور جزائر اس سے باہر نہیں ۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے کہ آپ لوگوں کو اس ملک میں آنے کا موقع میسر آیا ۔بعض ایسے بھی ہیں جن کے کاروبار بہتر ہوئے تقریبا ایسے ہیں جن کے معاشی حالات بہتر ہوئے ۔آپ کے آباؤ اجداد نے جب یہ باتیں سنی ہونگی تو ان کی خواہش ہوگی کہ کاش ہم کو بھی یہ موقع ملے کہ ہم جاپان میں یہ خوبصورت تعلیم جاپان میں پہنچائیں ۔ان کی حسرت ان کے دل میں رہی لیکن اب آپ کو یہ موقع ملا ہے ۔کیا آپ صرف معاشی آسودگی حاصل کرنے کے لئے جاپان آئے تھے ۔دوسرے لوگوں نے اسلام کو مردہ مذہب بنا دیا ہے تو اب کیا کسی کو مردہ مذہب کی ضرورت ہے ۔آپ ؑ فرماتے ہیں: یہ تو تم لوگ ہو جو اسلام کے زندہ ہونے کا ثبوت دے سکتے ہو اور اس کی خوبیاں دنیا کو بتا سکتے ہو ۔ حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا:جب اللہ تعالیٰ سے تعلق کے راستے بند کر دئے گئے ہوں پھر کیا برتری ثابت کی جائے گی ۔دنیا کو بتا کر یہ برتری ثابت کی جا سکتی ہے کہ اسلام کا خدا اب بھی اس سے بولتا ہے جس سے وہ کرتا ہے پیار ۔اسلام کو پھیلنے کے لئے کسی تلوار کی ضرورت نہیں ہے ۔اس کو پھیلنے کے لئے ان لوگوں کی ضرورت ہے جو اپنے نفسوں کے خلاف جہاد کر کے اپنی عملی حالتوں کو درست کرنے والے ہوں ۔یہ بڑا سخت المیہ ہے کہ ایک طرف تو خدا تعالیٰ کی زندہ وحی کا انکار کر بیٹھے ہیں اور دوسری طرف تلوار سے پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں سختی سے اسلام کو پھیلاتے ہیں معصوموں کو قتل کر کے اسلام کو پھیلانے کا دعوی کرتے ہیں۔اب گزشتہ دنوں جو پیرس میں ظلم ہوا ۔اب جہاں اپنی عبادتوں کے معیار بڑھائیں وہاں اسلام کی خوبصورتی کی دوسروں کو تبلیغ کریں ۔یہ مسجد جو بنائی ہے اس کا حق ادا کریں ۔اس کی حاضری کو بڑھائیں ۔اس کا حق ادا کرنے کے لئے اپنی عملی حالت درست کریں ،تبلیغ کے میدان میں وسعت کریں ۔حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمایا: جہاں اسلام کا تعارف کروانا ہو ایک مسجد بنا دو ۔تبلیغ کے راستے کھلتے چلے جائیں گے ۔پس یہ مسجد آپ پر ذمہ داری ڈال رہی ہے کہ اب تبلیغ کے لئے بھی اپنے آپ کو تیار کریں۔افتتاح سے قبل میڈیا نے کافی مشہوری کی ہے ۔امن پسند اسلام کا تعارف اہل ملک کے سامنے پیش کیا ہے ۔اب تعارف سے فائدہ اٹھانا یہاں رہنے والے احمدیوں کا کام ہے ۔ہماری مسجد کی اہمیت کیوں ؟ کیونکہ ہم عام مسلمانوں سے ہٹ کر اسلام کی تصویر دکھاتے ہیں جس کو دکھانے کے لئے آنحضرت ﷺ کے غلام صادق کو بھیجا گیا اس تصویر کو دیکھانے کے لئے آپ کو بھی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی ۔یہ ذمہ داری ادا نہیں ہو سکتی جب تک آپ اپنی عملی حالتوں کے اعلی معیاروں کو حاصل کرنے والے ہوں ۔آپسی محبت و پیار اور بھائی چارہ میں بڑھنے والے ہوں ۔جہاں ہمارے آقا کی اور اس کے غلام صادق کی نظر ہے ۔ آپ ؑ نے کیا دکھایا ؟ آپ نے ہم کو پیار و محبت کی عملی تصویر دکھائی ہے ۔ حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا: پس صرف یہ کہہ دینا الحمد للہ ہم نے زمانہ کے امام کو مان لیا اور ہم احمدی ہیں ۔یہ کافی نہیں ہیں ۔جو آیت پڑھی ہے اس کے مخاطب احمدی مسلمان ہیں ۔ہم ہی ہیں جن میں نظام خلافت دین کی تمکنت کے لئے جاری ہے ۔ایک احمدی کے لئے بعض اصولی باتیں بیان فرما دیں ۔ایک نمازوں کے قیام کی طرف توجہ رکھو ۔اگر نماز کی ادائیگی نہیں تو پھر یہ دعوی بھی غلط ہیں کہ ہم حقیقی مسلمان ہیں ،ہم دنیا میں انقلاب پیدا کر دیں گے ، ہم نےزمانہ کے امام کو مان لیا ہے ۔پھر فرمایا دوسرا مقصد ایک دوسرے کے حق ادا کرنا ہے ۔خداکے بندے اس سے ڈرنے والے ہیں ۔اپنے مال میں سے بھی خرچ کرنے والے ہیں ۔پس ہم اس زمانہ میں خدا کے فرستادہ کے ماننے والے ہیں کہ ہم پر جو اللہ تعالیٰ کا احسان ہوا ہے ۔دوسرے مسلمان بکھرے پڑے ہیں ۔ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود ؑ کو مان کر پھر آپ ؑ کے بعد جاری خلافت کے ذریعہ یہ تمکنت عطا فرمائی ہے ۔ایک آواز کو سن کر اٹھتے ہیں اور بیٹھتے ہیں ۔انشاء اللہ وہ وقت بھی آئے گا جب حکومتیں بھی اسلام کو سمجھیں گی۔ اب بھی دنیا ادھر دیکھ رہی ہے کہ ہم کو حقیقی اسلام بتاؤ ۔نیکیوں پر قائم رہو گے تو ترقیاں کرتے چلے جاؤ گے ۔ہر احمدی کو ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اپنے اعمال میں ترقی کرنے کے لئے نیکیوں کو بڑھاتا چلا جائے ۔ حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا:ان مسلمانوں کو ترقی کا وعدہ ہے جو دوسروں کے حقوق دیں خود غرض نہ ہوں خلافت سے عہد وفا پورا کرنے والے ہوں نیکیون کو پھیلانے اور برائیوں کو روکنے کے لئے اپنے نفس کے جائزہ لینے والے ہوں ۔نظام جماعت کی حفاظت کے لئے اپنی انا کو قربان کرنے والے ہوتے ہیں ۔ان چیزوں سے خدا تعالیٰ کا قرب ملے گا ۔اور اس کی مخلوق کا حق ادا ہوگا۔اور ان سے ہی حقیقی احمدی بنا جائے گا۔جو حضرت مسیح موعود ؑ اپنے ماننے والوں سے توقع رکھتے ہیں۔حقیقی مومن بننا ہے تو فساد کو ختم کر کے امن قائم کرنے والے بنیں ۔جب مسجد کی طرف منسوب ہو رہے ہیں ۔آپ ایک اینٹ مٹی پتھر کی عمارت کی طرف منسوب نہیں ہو رہے بلکہ اس شخص کی طرف منسوب ہو رہے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے بندے اور خدا کا تعلق جوڑنے کے لئے بھیجا گیا ہے ۔امر بالمعروف دوسروں کو کہنے سے پہلے اپنے نفس کے جائزہ لینے کے لئے کہتا ہے اسی طرح نہی عن المنکر کوبھی ۔آپ میں سے اکثر پاکستان سے آئے ہوئے ہیں جن کو عبادت کرنے پر سختی اور تنگی برداشت کرنا پڑتی ہے ۔جہاں آپ کو اپنی مسجد کو مسجد کہنے پر سزا ملتی ہے ۔سلامتی کا پیغام دینے کے لئے تین سال کے لئے جیل جانا پڑتا ہے ۔بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے تنگیوں کی وجہ سے اسائلم بھی کیا ہے ۔بعض کاروباری لوگ بھی ہیں ۔پس اللہ تعالیٰ کے فضل کو سوچیں ۔کس قدر آپ پر فضل کیا ہے ۔عبادت کرنے پر کوئی سختی نہیں ۔مسجد کہنے پر کوئی سزا نہیں َسلامتی کے پیغام کو پسند کیا جاتا ہے بجائے جیل بھجوانے کے ۔کیا یہ باتیں اس بات کا تقاضہ نہیں کرتی کہ اپنے آپ میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کریں ۔خدا کی رضا حاصل کریں ۔آپس میں بھی پیار و محبت سے رہیں ۔اپنے اندر وہ خصوصیات پیدا کریں جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے ۔توبہ کرنے والے ۔عبادت کرنے والے حمد ،خدا کی راہ میں سفر ،اللہ کے لئے رکوع و سجدہ کرنے والے اور نیک باتوں کا حکم دینے والے اور بری باتوں سے روکنے والے اور اللہ کی حدود کا احترام کرنے والے سب سچے مومن ہیں ۔پس اپنے گناہوں کا اقرار رکے کرے ۔بعض چھوٹی چھوٹی غلطیاں جب نظام میں خرابی پیدا کریں وہ بھی گناہ بن جاتی ہیں ۔اللہ تعالیٰ کی مرضی کیا ہے ۔؟ وہ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے ۔نہ امیر کے لئے نہ عام انسان کے لئے غریبوں کے لئے گنجائش ہے کہ عبادت میں سستی کریں ۔مسجد بنانے میں بعض نے بہت بڑی بڑی قربانیاں کیں ہیں ۔بعض نے اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کر مالی قربانی کی ہے ۔بچوں نے بھی بڑے اعلی نمونے قائم کئے ہیں۔یہ سب کچھ آپ کو اس بات سے بری نہیں کرتا کہ عبادتوں میں سستی دکھائیں ۔یہ قربانیاں بھی تبھی قبول ہونگی جب مسجد کا حق ادا کریں گے اللہ کی عبادت کا حق ادا کریں گے ۔ حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حمد ادا کرنے والے بنو ۔اللہ تعالیٰ کی حمد کا حق اس کی عبادت سے ادا ہوتا ہے ۔اس نے مسجد بنوا کر تبلیغ کے راستے کھلے ،اس نے تمہارے معاشی حالات بہتر کئے ۔معاشی حالات کا بہتر ہونا کسی کی عقل ہوشیاری یا علم کی وجہ سے نہیں ہے ۔یہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی وجہ سے ہے ۔اللہ تعالیٰ کی حمد یہ بھی ہے کہ کبھی نامواقف حالات آجائیں تو بھی صبر کریں ۔پھر فرمایا : مومن اپنے سفروں کو بھی رضا حاصل کرنے والابناتا ہے ۔اس ملک میں آنا تبلیغ کا حق ادا کرنے والے ہوں ۔مومن رکوع کرنے والے ایک نماز کا رکوع ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اپنے وقت کو جان و مال کو دین کے لئے قربان کرنے والے ہیں ۔پھر فرمایا: مومن ساجد ہونا بھی ضروری ہے ۔یعنی خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے کوشش کریں ۔دعاؤں کی طرف توجہ دیں ۔مومن سجدہ کی حالت میں خدا تعالیٰ کے قریب ترین ہوتا ہے ۔قربت کے سجدے تلاش کرنے کی کوشش کریں ۔بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصو ل کے لئے نہایت عاجزی سے اس کے آگے جھک کر اس کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔اس کے حضور اپنا سب کچھ قربان کرتے ہوئے اپنی اناؤں کو پیچھے رکھتے ہوئے اس کے حکموں پر چلتے ہوئے نظام کی پابندی کے ساتھ اس طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔اور نظام کی اطاعت اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کا قرب دلاتا ہے ۔پس ان عاجزانہ سوچوں کی توفیق مل جائے اور خدا تعالیٰ کا قرب پانے کی طرف کوشش ہو تو پھر اپنی تمام تر کوششوں کے ساتھ دوسروں کو بھی نیک باتوں کی تلقین کرکے تبلیغ کی طرف کوشش کریں اور دوسروں کو بھی آگ میں گرنے سے بچائیں ۔یہ ذمہ داری ہے ہماری ہے ۔حقیقی مومن اللہ تعالیٰ کی حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔ان پر عمل کی پوری پابندی کے ساتھ کوشش کریں ۔جو اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول نے بتائی ہیں ان باتوں کی طرف بھی توجہ دیں جو حضرت مسیح موعود ؑ نے بتائی ہیں اور جماعت سے امید رکھی ہے ۔پھر خلیفہ وقت کی باتوں کو سنین جو کہی جاتی ہیں اپنے ایمان کی حفاظت کریں ۔اس زمانہ میں خلافت کا انعام ملا ہے اس کی قدر کریں ۔تمکنت دین کے لئے خلافت لازمی جز ہے ۔پس اپنے جائزے لیں اور ان لوگوں میں شامل ہوں جن کو سچا مومن ہونے کی بشارت دی ہے ۔اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے اس زمانہ کی ایجادات کو ہمارے تابع کر دیا ہے ۔جماعت ہر سال لاکھوں ڈالر ایم ٹی اے پر خرچ کرتی ہے ۔یہ تبلیغ کا ذریعہ ہے ۔خلیفہ وقت کا ذریعہ ہے ۔یہاں کسی نے کہا بچوں کی تربیت کا انتظام ہونا چاہیے جب بچے گھر میں ہوں تو خلیفہ وقت کے پروگرام سننے کی طرف توجہ دلائیں جماعت کی وحدت کا پتہ چلے گا ۔اگر ماں باپ نے اپنی نسل کو سنبھالنا ہے تو خود بھی خلیفہ وقت کے پروگرام سے اپنے بچوں کو جوڑیں ۔احمدی کا اپنی اصلاح کے لئے خلیفہ وقت کا سننا بہت ضروری ہے ۔اگر وقت کا پرابلم ہو تو مختلف اوقات میں پروگرام سنے جا سکتے ہیں ۔ایک بیماری لوگوں کی ہے کہ لوگوں کی برائی تلاش کرتے رہتے ہیں وہ وقت بھی بھلائی میں لگے ۔سب کے سب محبت و پیار و فروغ دیں ۔رنجشیں بڑھانے کی بجائے محبتیں بڑھائیں ۔دوسروں کو پیغام دے رہے ہیں اور خود بغض و کینہ ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔جو بھی ایسی حالت میں ہیں خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر اس حالت کو بدلیں ۔اور ان لوگوں میں شامل ہوں جن کو سچا مومن کہا گیا ہے ۔بعض دفعہ گھروں میں نظام جماعت کے خلاف باتیں کرنے کو معمولی چیز سمجھا جاتا مگر غیر معمولی طور پر اپنی اگلی نسل کو خراب کر رہے ہوتے ہیں ۔دعوی نیکی کو پھیلانے اور برائی سے روکنے کے ہیں پہلے خود اور اپنے بچوں کو اس کا مخاطب بنائیں۔اس مسجدکا حق ادا کرنے والے بنیں ۔جاپانی احمدی بھی دین سکھیں اپنے ایمان و ایکان میں ترقی کریں ۔اگر کوئی پیدائشی احمدی کمزور ہے دین کے معاملہ میں تو آپ اس کے لئے ہدایت کا سامان بن جائیں ۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ ہر احمدی اس کو سامنے رکھ کر اپنی زندگی گزارے اور یہ مسجد ہر احمدی کی عملی حالت میں انقلابی تبدیلی پیدا کرنے والی ہو ۔اس کا حق حقیقت میں ادا کرنے والے ہون ۔ آمین مسجد کے کوائف : مسجد کی زمین ایک ہزار مربع میٹر ہے ۔دو منزلہ عمارت ہے ۔ یہ علاقہ کی مین سڑک کے اوپر ہے ۔یہ سڑک تمام سڑکوں کو ملاتی ہے ۔ہائی وے کے قریب ہے ریلوے اسٹیشن کے قریب ہے اور ائیر پورٹ تک سیدھی ٹرین جاتی ہے ۔مسجد کا نام بیت الاحد رکھا تھا۔ تبرک کے لئے دارالمسیح اور مسجد مبار ک کی اینٹیں ہیں ۔پہلی منزل میں مسجد کاہال ہے 500 افراد کی گنجائش ہے ۔اوپر لجنہ ہال ہے ۔دوسری منزل پر دفتر ہے لائبریری ہے ۔لجنہ ہال ہے ۔گسیٹ ہاؤس ہے ۔یہ عمارت خریدی گئی ۔اس کے چاروں کونوں پر مینارے تعمیر کئے گئے گمنبد بھی بنایا گیا ۔یہ توجہ کا مرکز بنا ہوا ۔یہ شمال مشرقی میں جماعت کی پہلی مسجد ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کو باقی جگہوں پر راستے کھولنے کا ذریعہ بنائے ۔ آمین ۔ 2013 میں عمارت خریدی گئی تھی جون میں ۔اس کی خرید اور تعمیر پر کل 13 کڑور 70 لاکھ ینگ کی رقم جو 12 لاکھ ڈالر کے قریب بنتی ہے ۔اس میں سے تقریبا نصف سے کچھ کم گرنٹ تھی باقی لوگوں نے بڑی قربانی کر کے اس مسجد کی تعمیر میں حصہ ڈالا ہے اللہ تعالیٰ ان سب کو جزا دے ۔ آمین مسجد کی جب یہ جگہ خریدی گئی تو آسانی سے اجازت ملنے کا امکان تھا ۔لیکن ایک وقت میں بہت مشکل نظر آرہا تھا ۔جماعت کے نام سے رجسٹریشن اور مسجد کے نام سے کرنا بہت مشکل ہے ۔لیکن اللہ تعالیٰ نے راستے کی روکیں مٹا دین ۔لوکل لوگوں کی طرف سے مسائل کا خطرہ تھا ۔لیکن لوکل لوگوں کے ساتھ جب میٹنگ کی گئی تو فورا انہوں نے رضا مندی ظاہر کر دی۔ یہ تمام باتیں یہاں کے احمدیوں کے لئے ایمان اور یقین میں اضافہ کا باعث ہونی چاہیں ۔ان کو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی طرف توجہ دینی چاہیے ۔اس کے لئے بعض بڑی قربانی کے واقعات ہوئے ۔جب تحریک کی گئی تو ایک احمدی کہتے ہیں کہ یہ احمدی اپنے ساتھ لے گئے اور جو کچھ ہے میں پیش کر دیتا ہوں ۔ان کی اہلیہ جاپانی ہیں ۔انہوں نے مختلف ڈبے لا کر سامنے رکھ دئے ۔ان کی رقم اور چیزیں دس ہزار مالیت کی تھیں ۔اسی طرح صدر صاحب جاپان نے لکھا کہ بعض احباب کے حالات سے آگاہی تھی کہ آسودہ حالات نہیں ہیں لیکن انہوں نے اپنے اخراجات کو محدود کر کے اللہ تعالیٰ کے گھر کی تعمیر کے لئے رقم دی ۔احباب نے بڑی قربانی کر کے تکلیف اٹھا کر یہ رقم ادا کی ۔اس طرح سات لاکھ ڈالر جمع ہو گئے ۔ایک نوجوان نے 80000 ینگ میں سے 50000 ینگ دیتے رہے ۔احمدی بچے ہیں انہوں نے بڑی قربانی دی جیب خرچ مسجد کے لئے چندہ دیتے رہے ۔بچوں میں سے ایک بچی نے قربانی کی جس نے تحفہ تحائف اپنے مسجد کے لئے دے دئے ۔اور وہ رقم 9 ہزار ڈالر کے قریب وہ رقم بنی ۔احمدی خواتین نے اپنے زیور پیش کر دئے ۔ایک خاتون نے اپنی 24 چوڑیاں پیش کر دیں ۔ ایک خاتون پاکستان سے حال میں ہی آئی ہیں انہوں نے اپنے زیورات جو والدہ کی طرف سے وہ دے دئے ۔اپنے زیور کا نیا سیٹ مسجد کے لئے پیش کر دیا ۔جو جنوری میں بیٹی کی شادی کے لئے خریدا تھا ۔اللہ تعالیٰ ان تمام قربانی کرنے والوں کو اپنی جناب سے بے انتہاء نوازے اور ایمان و ایکان میں بڑھائے ۔سب کو مسجد کا حق ادا کرنے والا بنائے ۔یہ مسجد جہاں عبادت کا حق ادا کرے یہ محبت و پیار میں بڑھنے والے ہوں ۔ غیر از جماعت نے محبت کا اظہار کیا ۔ایک غیر نے اپنا تین منزلہ گھر جماعت کے مہمانوں کے لئے پیش کر دیا ۔اس طرح ہمسایوں نے کار پارکنگ کی جگہ دی ۔جب دو جاپانی دوستوں کو پتہ چلا کہ افتتاح ہو رہا ہے انہوں نے کہا کہ وہ مسجد کے افتتاح کے موقع پر پھولوں سے سجا دیا۔مسجد کی رجسٹریشن میں غیر مسلم وکیل نے بڑا کام کیا ہے ۔بے لوث مدد فرمائی ۔ان کے کام کی فیس 20 ہزار کے قریب بنتی ہے ۔انہوں نے یہ کام بغیر فیس کے کیا ۔اخبار اور میڈیا میں اس کا کافی ذکر ہے تمام بڑے اخبارات میں اس کا ذکر ہو چکا ہے ۔11 نومبر کو مسجد کی تعمیر کا اعلان کرتے ہوئے اخبار نے لکھا کہ مسلمان جن کے ایمان کا امن و محبت کا ذکر ہے وہ جماعت احمدیہ کی مسجد تعمیر ہو گئی ہے ۔پانچ چھوٹے بڑے منیاروں پر مشتمل ہے 500 کے قریب نمازی نماز ادا کر سکتے ہیں ۔رضا کارانہ کام کرنے والے اور زلزلوں میں اور سیلاب میں متاثرین کو کھانا دے کر خدمت میں حصہ لیتے رہے ۔ پس یہ اثر ہے جو جماعت احمدیہ کا دوسروں پر قائم ہے کہ امن اور سلامتی پھیلانے والے اسلام کے نمائندے ہیں خدمت خلق کرتے ہیں اس کو قائم رکھنا اور بڑھنا یہاں رہنے والے ہر احمدی کا کام ہے ۔اللہ تعالیٰ کرے کہ اس حقیقت کو ہر احمدی پھیلانے والا بھی ہو اور ہماری مساجد اس کا نشان ہیں۔اور یہ قوم بھی ان خوش قسمتوں میں شامل ہو جائے جو پیدا کرنے والے ہو پہچاننے والی اور محسن انسانیت کے مقام کو سمجھنے والی ہو ۔ آمین
No comments:
Post a Comment