
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ افتتاحی خطاب بر موقع جلسہ سالانہ یوکے 2015(مرتب کردہ : یاسر احمد ناصر مربی سلسلہ ) تشہد و سورة الحمدللہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : حضرت مسیح موعود ؑ کو دنیا میں اس لئے بھیجا کہ دنیا میں خدا کی حکومت قائم کریں اور تقوی کو قائم کریں ۔صرف اعتقادی لحاظ کا ایمان ہی نہ ہو بلکہ عملی حالت بہتر ہو ۔آپ ؑ نے فرمایا : خدا نے اس زمانہ کو تاریک پا کر اور ایمان اور صدق و تقوی سے زائل ہوتے ہوئے مشاہدہ کر کے مجھے بھیجا ہے ۔تا کہ دوبارہ دنیا میں سچائی قائم کرے ۔اور اسلام کو ان لوگوں کے حملہ سے بچائے جو فلسفہ اور دہریت کے لباس میں اس سچائی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ۔ پس آج کل ہم یہ دیکھتے ہیں کہ غیر مسلموں میں دہریت کا زور ہے تو مسلمانوں نے نئی نئی بدعات پیدا کر دیں ہیں اور دین کی تعلیم میں بگاڑ پیدا کر دیا ہے کہ دنیا خوف زدہ ہے اور جب اسلام کی تعلیم دنیا کو بتائی جاتی ہے تو دنیا حیران ہو جاتی ہے ۔لوگوں نے کہا اگر یہی حقیقی اسلام ہے تو پھر دنیا غلبہ کی طرف لوٹے گی اور اس کو قبول کرے گی ۔حضور ؑ عملی اور اخلاقی تبدیلی پیدا کرنے بھی ائے ہیں ہم کو اس بات کو سامنے رکھ کر سمجھنا ہوگا کہ تقوی پر قائم ہو کر اپنے معیار کہاں تک لے جانے ہیں ۔اگر اس طرف توجہ نہ دی تو پھر ہم اس دوڑ میں اور گراوٹ میں بہہ جائیں گے جس میں آج دنیا ہے ۔ہم آج اس لئے جمع ہیں کہ مختلف پروگرام سے اپنی حالتوں کو درست کریں ۔اور تقوی کے معیار کو بڑھائیں ۔میں کچھ باتوں کا ذکر کرونگا جس کا قرآن کریم میں حکم ہے ۔حضور ؑ فرماتے ہیں : قرآن کریم میں تمام احکام کی نسبت تقوی اور پرہیز گاری کی بڑی تاکید ہے ۔وجہ یہ ہے کہ تقوی ہر بدی سے بچنے کے لئے قوت بخشتی ہے اور نیکی کی طرف دوڑنے کے لئے طاقت دیتی ہے ۔تقوی ہر فتنہ سے محفوظ رہنے کے لئے حصن حصین ہے ۔متقی انسان بہت سے جھگڑوں سے بچ سکتا ہے جس میں دوسرے پڑھ کر ہلاکت تک جا پہنچتے ہیں ۔تقوی بدی سے بچاتا ہے اور نیکی کی طرف دوڑاتا ہے ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :ایک بہت بڑی برائی بد ظنی ہے ۔ایک بات کو غلط رنگ میں سمجھنے یا واضح نہ ہونے کی وجہ پیدا ہوتی ہے ۔اور پھر یہ دل میں راسخ ہو جاتی ہے خاص فضل ہو تو نکلتی ہے ۔دعا کرنی پڑتی ہے اگر خود کوشش نہ کرے تقوی سامنے نہ رکھے تو نا ممکن ہے کہ بد ظنی دلوں سے نکلے ۔اگر ہم ان باتوں میں مضبوط نہیں ہیں تو پھر بے سکونی پیدا ہو جاتی ہے ۔عموما ہم نے دیکھا ہے کہ ایک بھائی کی ٹو میں رہ کر دوسرے کی برائی تلاش کرتا ہے اور پھر ان کا ذکر پر اسرار رنگ میں دوسروں سے کرتا ہے ۔پھر اس سے بڑھ کر غیبت میں آجاتا ہے ۔یہ مکروہ فعل ہے ۔اللہ تعالیٰ نے بد ظنی تجسس غیبت کو بڑے گناہ قرار دیا ہے ۔ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو بعض باتیں ایسی کر جاتے ہیں جن کو وہ معمولی خیال کرتے ہیں ۔پھر ان عادت سے برائی کا احساس مٹ جاتا ہے ۔فرمایا : خوب یاد رکھو ساری برائیاں بد ظنی سے پیدا ہوتی ہیں اس لئے اس سے بہت منع فرمایا آپ ؑ نے فرمایا میں سچ سچ کہتا ہوں بد ظنی بہت بری بھلا ہے جو انسان کے ایمان کو تباہ کر دیتی ہے اور دوستو کو دشمن بنا دیتی ہے ۔اگر کسی کی نسبت سوء ظن پیدا ہو تو کثرت سے استغفار کرے تا کہ اس کے برے نتائج سے بچ جائے ۔ہم ایک بد ظنی سے بچے ہوئے ہیں کہ نعوذباللہ احمدی حضرت مسیح موعود ؑ کو حضرت محمد ﷺ سے اوپر یا بالا مقام دیتے ہیں ۔ہم تو یہ ایمان رکھتے ہیں کہ کوئی بھی محمد ﷺ کے برابر نہیں پہنچ سکتا ۔ہاں آپ کی غلامی میں اللہ تعالیٰ کسی بھی عاجز بندہ کو قرب عطا فرما سکتا ہے ۔اور آپ ؑ کا درجہ امتی نبی کا ہی ہے ۔حضور ؑ فرماتے ہیں کہ بعض نے بڑی بے باکی سے یہ لکھ دیا ہے کہ دہریوں کا گروہ ہے ۔علماء نے مسلمانوں کے دلوں میں بد ظنی کی ہوئی ہے ۔جب لوگ ہماری مجلس میں آکر سنتے ہیں تو پھر برا بھلا ملاں کو کہتے ہیں ۔لیکن جو ذاتی بد ظنیاں رکھی جاتی ہیں ان سے بھی بچنا چاہیے ۔آپسی پیار و محبت کو بڑھانے کے لئے حسن ظن رکھیں ۔اور اس کو بڑھاتے چلے جائیں ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :عموما رنجش کے بڑھنے میں سب سے زیادہ کردار بد ظنی کا ہوتا ہے ۔پھر اللہ تعالیٰ عیب جوئی سے بچنے کا کہتا ہے ۔اور یہی کچھ مومنین سے چاہتا ہے کہ وہ بھائی بھائی بن کر رہیں صلح جوئی اور امن سے رہیں یہی تقوی ہے ۔جس میں صلح صفائی پر زور دیا گیا ہے ۔اسلام میں بلا وجہ کی رنجش کا پیدا ہونا ۔ایک دوسرے کے خلاف الزامات قابل نفرت چیزیں ہیں ۔اگر خاندانوں میں برادریوں میں یہ چیز پیدا ہو جائے تو فرض ہے کہ اس کو ختم کر کے صلح صفائی کروائی جائے ۔اگر عاقبت سنوارنی ہے تو پھر آپس میں محبت سے رہنا ضروری ہے ۔جب دنیا کی طرف دیکھتے ہیں تو ان کی ذلت اور الزام تراشی کی یہی وجہ ہے ۔کہ کسی کو کوئی خیال نہیں ہے کہ بجائے پھوٹ دلوانے کے محبت اور صلح صفائی کی کوشش کریں ۔ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں کہ ذاتی طور پر اور برادری کی سطح پر بھی یہ رنجشیں ہیں ۔اس سے مومنین کو توجہ دلائی گئی ہے کہ معاشرہ کو بھی خوبصورت بناؤ گے تو تبلیغ بھی ہوگی ۔حدیث شریف ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے ہر مسلمان محفوظ رہے۔آج اس جلسہ کی برکت سے وہ لوگ جن کے درمیان رنجشیں ہیں وہ ختم کریں ۔قطع کلامی کو ختم کریں ۔صلح صفائی کو قائم کریں ۔تقوی پر چلنے والوں اور بخشش کی امید رکھنے والوں کو اللہ تعالیٰ ہمیشہ سچائی پر قائم رہنے کی تلقین فرماتا ہے ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :جھوٹ بہت سی برائیوں کی جڑھ ہے ۔ایسی پیچ دار بات بھی نہ کرو جو غلط رائے قائم کرنے والا بنائے ۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تقوی یہ ہے کہ پیچ دار باتوں سے بچو ۔پھر نکاح کے خطبہ میں یہ آیت رکھ کر لڑکے اور لڑکی کے خاندانوں کو بھی توجہ دلائی ہے کہ دو فریقین کا شادی کا بندھن قائم ہونے جا رہا ہے سچائی کو پیش نظر رکھو ۔اسی میں فائدہ ہیں ۔تقوی پر چلنے کی صحیح راہنمائی تب کھلتی ہے جب قرآن کریم کو راہنما بنائے ۔اس کے لئے قرآن کریم پر غور کرنا بھی بہت ضروری ہے ۔جب تک یہ نہ ہوگا اس وقت تک اللہ تعالیٰ کا فعل اور قانون جو فلاح کے بارہ میں جاری ہونا ہے وہ نہیں ہوگا۔کامیابی تب ملتی ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اطاعت تب ہو سکتی ہے جب علم ہوگا۔اگر رشتوں اور گھریلو معاملا ت میں انسان اس بات کو سمجھ کر اس کا اظہار شروع کر دے تو جہاں اعمال کو درست کر رہا ہوگا وہاں ہر موقع پر راہنمائی بھی مل رہی ہوگی ۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ دعا کرو تم کو اللہ تعالیٰ امام بنائے یعنی اپنے دوستوں کے لئے اولاد کے لئے ایک نمونہ بننے کی دعا ہے ۔بہت وسیع دعا ہے ۔ان سب سے آنکھون کا نور اور سکون عطا ہو ۔وہ آنکھوں کا نور ہوں جو دل کے سرور کا نشان ہے ۔ہم نے جو حضرت مسیح موعود ؑ کو مانا ہے اور دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا عہد کیا ہے اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ کس حد تک ہم نے دین کو دنیا پر مقدم کیا ہے ۔اولاد کی تربیت کی ہے ۔خدا تعالیٰ سے تعلق میں نمونے پیدا نہیں کر رہے تو پھر یہ دعا کو پورا نہیں کررہے ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ مقبول ہے جو عہد کو پورا کرتا ہے اور یہی تقوی ہے ۔عہد کو پورا کرنا تقوی کے معیار میں سے ہے اور محبت الہی کو جذب کرنے کا ذریعہ ہے ۔ایک احمدی کو خاص طور پر یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہم نے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد کیا ہوا ہے ۔اس لئے ہر عہد جو کسی بھی واضح قرآنی حکم کے خلاف نہیں اس کو پورا کرنے والے بنیں ۔جہاں ہم نے دینی عہد نبھانے ہیں وہاں دنیاوی عہد بھی نبھانے ہیں ۔بد عہدی کرنا مومن کا شیوہ نہیں ہے ۔جیسا کہ آج کل بعض حکومتیں کرتی ہیں ۔قول سدید سے کام نہیں لیتی ہیں ۔عہد کر کے بد عہدی کرنا نفاق کی خصلت ہے ۔پس ہم کو ہر عہد کو نبھانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔قرآن کریم نے ہم کو اوامر و نواہی دئے ہیں ان کو تلاش کر کے عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔شرائط بیعت میں قرآن کی حکومت کو اپنے سر پر لینے کا بھی عہد کیا ہوا ہے ۔پس کچھ باتوں کا ذکر کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم خدا تعالیٰ کے حقوق ادا کرتے ہوئے عبادت کے بھی حق ادا کریں اور اپنے عہدوں کو پورا کرنے والے ہوں ۔اگر یہ سن کر صرف نعرے لگا کر چلے گئے تو یہ جلسہ نا انتظام فضول ہے ۔پس ہم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ ہم اپنے عہدوں کو پورا کریں اور تقوی کے معیار کو بلند کریں ۔سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود ؑ ہم سے کیا چاہتے ہیں آپ ؑ فرماتے ہیں : اس کی توحید دنیا پر پھیلانے سے پوری طاقت سے کوشش کرو اس کی مخلوق پر ظلم نہ کرو کسی پر تکبر نہ کرو ۔گو اپنا ماتحت ہو ۔کسی کو گالی نہ دو گو وہ گالی دیتا ہو غریب کے ہمددرد بن جاؤ ۔بہت ہیں جو حلم ظاہر کرتے ہیں مگر وہ اندر سے بھیڑئے ہیں ۔بہت ہیں جو صاف ہیں مگر اندر سے سانپ ہیں ۔۔۔۔ امیر ہو کر غریب کی خدمت کرو نہ خود پسندی سے ان کی تذلیل۔ اپنے مولی کی طرف منقطع ہو جا ؤ دنیا سے دل برداشتہ ہو جاؤ ۔خدا کے ہو جاؤ اس کے لئے ہر گناہ سے بچو ۔چاہیے کہ ہر ایک صبح تمہارے لئے گواہی دے کہ تم نے ڈرتے ڈرتے رات بسر کی اور رات گواہی دے کہ تم نے ڈرتے ڈرتے دل بسر کیا ۔تم ریا کاری سے اپنے تائیں بچا نہیں سکتے ۔خدا پاتال تک دیکھتا ہے ۔تم سیدھے ہو جاؤ اور صاف و پاک کھرے ہو جاؤ ایک ذرہ تیرگی بھی ساری روشنی کو دور کر دے گی ۔تکبر ریا ،کسل ہے تو تم ایسی چیز نہیں ہو جو قبول کے لائق ہو ۔ایسا نہ ہو تم چند باتوں کو لے کر اپنے تائیں دھوکہ دو ۔جو کچھ کرنا تھا کر لیا ۔کیونکہ خدا چاہتا ہے تمہاری ہستی پر پورا انقلاب آئے وہ تم سے ایک موت مانگتا ہے پھر زندہ کرے گا۔ ۔۔ اللہ تعالیٰ ہم کو حقیقی تقوی عطا فرمائے اور ہم اس جماعت کا نمونہ پیش کرنے والے ہوں جو حضرت مسیح موعود ؑ چاہتے تھے ۔ہم ان دنوں میں حقیقی فضل کو جذب کرنے والے ہون ۔اور یہ جلسہ کی برکات کو دیکھنے والے ہوں ۔ آمین
No comments:
Post a Comment