
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ خطبہ جمعہ 21 اگست 2015 بیت الفتوح لندن(طالب دعاو مرتب کردہ : یاسر احمد ناصر مربی سلسلہ ) تشہد و سورة الحمدللہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : آج انشاء اللہ جمعہ کے بعد جلسہ سالانہ کا آغاز ہوگا ۔لیکن جمعہ کی بھی اہمیت ہے اس لئے جمعہ کا بھی حق ادا کرنا چاہیے ۔آج اس حق کی ادائیگی میں جو دعا کریں وہ جلسہ کے با برکت ہونے کے لئے دعا بھی کریں ۔جمعہ کی اہمیت کے بارہ میں رسول کریم ﷺ نے فرمایا دنوں میں سے بہترین دن جمعہ کا ہے اس دن مجھ پر بہت زیادہ درود بھیجا کرو یہ میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے ۔پھر فرمایا اس دن ایک گھڑی آتی ہے اس وقت جو دعا مانگے وہ قبول کی جاتی ہے ۔درودپڑھیں اور غور کر کے درود پڑھا جائے ۔ اللھم صل علی محمد کہہ رہے ہوں تو اس فکر سے کہہ رہے ہوں کہ آپ ﷺ کی تعلیم کو حقیقی رنگ میں قائم فرما اور اس کی عظمت دنیا پر ثابت کر اور ہم کو اس کے پھیلانے میں مددگار بنا ۔اور جب ہم اللھم بارک علی محمد کہہ رہے ہوں تو اس سوچ کے ساتھ کہ اے اللہ تو نے جو بھی محمد ﷺ کی عزت و عظمت اور بزرگی مقدم فرمائی ہوئی ہے اس کو قائم فرما کر دشمن کو خاب و خاسر کر اور ہم کو بھی اس کی عظمت دکھا اور اس کا حصہ بنا ۔آمین ۔آنحضرت ﷺ کے خلاف کیا جانے والا ہر مکر ان پر پڑھے ۔جب یہ دعا کی جائے گی تو یہ ایسی دعا ہے جو اللہ کے حضور پیار کی نظر پاتی ہے ۔اور اس کے جاری فیض سے ہم حصہ دار بھی بنتے ہیں ۔آپ ﷺ کو جب آپ کا درود پیش کیا جاتا ہے تو آپ ﷺ کی دعا ؤں کا فیض ہی ہم کو ملتا ہے ۔یہ برکات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے ۔ حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : نے فرمایا ان جلسوں کا مقصد یہی ہے کہ رسول کریم ﷺ کی محبت دل پر غالب آجائے ۔یہ اس وقت غالب آ سکتی ہے جب ہم دل کی گہرائی سے آپ ﷺ پر درود بھیجیں ۔پھر اپنی حالتوں کو بھی اس کے مطابق ڈھالیں ۔آپ ﷺ کی محبت کی وجہ سے آپ پر درود اور آپ ؐ کی اطاعت پھر اللہ کی محبت کو بھی حاصل کرنے والا بنائے گی ۔جمعہ کے دوران اور جمعہ کے بعد بھی اور باقی دو دنوں میں ایک توجہ کے ساتھ درود اور ذکر الہی کے ساتھ ان دنوں کو گزارنے کی کوشش کریں تا کہ ہمارے مخالفین کے تمام منصوبے ان پر الٹائے ۔پھر اسوہ نبی ﷺ مین ہم کو بہت سے نمونے نظر آتے ہیں وہ بھی سامنے رکھیں ۔پھر آپس میں محبت و پیار کے جذبات سے زندگی گزارنے والے ہوں ۔آپ ﷺ کی محبت تھی کہ آپ کو برداشت نہ تھا کہ مومنوں کو ذرا سی بھی تکلیف ہو ۔آپ ﷺ کو وہ تکلیف بے چین کر دیتی تھی ۔ایک دوسرے کی تکلیف بے چین کرنے والی ہو ۔یہ تب ہی ہو سکتا ہے جب ایک دوسرے کے لئے رحم اور محبت کے جذبات ہوں ۔جلسہ کے مقاصد میں سے ایک مقصد اخوت کو مضبوط کرنا بھی ہے۔یہ تب مضبوط ہوتے ہیں جب ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھتا ہے ۔شروع میں وہ قربانی کا جذبہ نہ تھا مگر عقیدہ پختہ تھا ۔جب آپ ؑ نے شکایات سنی تو آپ ؑ بہت ناراض ہوئے کہ اپنے آرام پر دوسرے کا آرام مقدم نہ ٹھہرایا گیا۔پس جلسہ پر آنے والوں کو جلسہ کا مقصد پورا کرنے کے لئے اللہ اور رسول کی محبت پیدا کرنی ہے وہاں آپس کی محبت کو بھی بڑھانا ہے ۔دینی علم میں بھی اضافہ کرنا ہے ۔جلسہ میں حقائق اور معارف کے سنانے کا شغل رہے گا جو ایمان کو ترقی دینے کے لئے ضروری ہے ۔نیز ان دوستوں کے لئے خاص دعا اور توجہ ہوگی اور اللہ کے حضور کوشش کی جائے گی کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی طرف کھینچے اور پاک تبدیلی پیدا کرے اور ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ نئے آنے والے اپنے پہلے بھائیوں کا منہ دیکھ لیں گے اور آپس میں رشتہ تعارف ترقی کرے گا۔اس روحانی جلسہ میں اور بھی روحانی فوائد ہونگے جو وقتا فوقتا ظاہر ہوتے رہیں گے ۔ہم میں سے ہر ایک کو ان باتوں کو سامنے رکھنا چاہیے ۔ حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : حضورؑ نے فرمایا یہ دنیاوی میلوں کی طرح کا ایک میلہ نہ ہو ۔آپسی مجلس میں وقت نہیں صرف کرنا چاہیے ۔زیادہ عرصہ بازار میں نہ گزاریں ۔چائے پی کر آئیں اور زیادہ وقت جلسہ کے پروگراموں کے علاوہ بھی بعد میں بھی بعض پروگرام ہوتے ہیں ۔ان کو بھی سنیں ۔اور جو وقت بچے اس کو دینی باتوں میں گزاریں ۔بعض جماعتی طور پر بعض انتظامات کئے گئے ہیں مسند تصاویر ہے ۔ان کو دیکھیں ۔نمائش لگائی ہے جماعت کی تاریخ ہے ۔اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو یاد کریں کہ حضرت مسیح موعود ؑ کی باتوں کو پورا فرما رہا ہے ۔پھر شہدائے احمدیت کی تصاویر کو دیکھ کر ان کے درجات کی بلندی اور ان کے خاندانوں کے لئے دعا کریں ۔اللہ تعالیٰ ہر جگہ جماعت کو دشمنوں کے شر سے بچائے ۔پھر اشاعت کی طرف سے سٹال ہوتا ہے اس کو بھی دیکھیں ۔اس سال چھپنے والی کتب دیکھیں خرید سکتے ہیں خردیں ۔ریو آف ریلیجن نے بھی اس سال اپنے سٹال کو وسعت دی ہے ۔اور کفن عیسی کے بارہ میں معلومات ہیں اس کو بھی دیکھیں ۔جلسہ کے پروگرام کے بعد آپس میں تعارف لیں اور ایک دوسرے کو ملیں ۔زبان کے علاوہ بھی اشاروں سے جو پیار کے جذبات پیدا ہوتے ہیں وہ الفاظ سے بیان نہیں کئے جا سکتے ۔پس اس پر بھی توجہ دیں ۔وہ تمام روحانی فوائد کا ذکر کیا ہے جن پر ہماری سوچ جا سکتی ہے یا نہیں جو بھی حضور ؑ کے دل میں تھے ۔کہ ان کو یہ روحانی فوائد ہوں ان سے بھی حصہ لینے والے ہوں یہ بھی دعا کریں ۔ان دنوں میں اس کے لئے دعا بھی کریں اور کوشش بھی کریں ۔جلسہ کے پروگرام کو سننے اور اس غرض سے سننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ ہم نے اس پر عمل بھی کرنا ہے ۔سب کو متوجہ ہو کر سننا چاہیے۔ حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : بولنے والے کے بیانوں کو غور سے سنو ۔اگر غور سے نہیں سنو گے تو پھر کوئی فائدہ نہ ہوگا۔میں اس بات کو سخت نا پسند کرتا ہوں کہ مقرر کی خطابی کو ہی دکھا جائے ۔مغز کو نہیں دیکھتے ۔نفس مضمون کو نہیں دیکھا جاتا ۔باتوں پر غور نہیں کیا جاتا ۔ان پر عمل کے لئے کوشش نہیں کی جاتی ۔فلاں مجمع پر چھا گیا ۔وغیرہ ۔ہم میں سے ہر ایک کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ توجہ و اخلاص کے ساتھ ان پروگرام کو سنیں ورنہ اتنا خرچ کر کے آنا اور پھر جماعت کا بھی خرچ کرنا بے فائدہ جائے گا۔پس آنے والے مہمان اور شاملین جلسہ اپنے جلسہ میں شامل ہونے والے مقصد کو سامنے رکھیں۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین انتظامی لحاظ سے بھی چند باتیں ہیں ۔انتظامیہ سے مکمل تعاون کریں ۔چاہے وہ جلسہ گاہ میں ہدایات ہیں مردوں کے لئے عورتوں کے لئے یا بچوں کی ماؤں کے لئے ۔یا کھانا کھانے کی ہدایات ہیں ۔ان پر عمل کریں ۔کھانا کھلانے کی انتظامیہ جو ہے ان کو بھی خیال رکھنا چاہیے کہ بعض کو مجبوری کی وجہ سے یا بعض بچہ والی عورتوں کو کھانے کے اوقات کے علاوہ بھی ضرورت پڑھ جاتی ہے تو ہر وقت کچھ نہ کچھ انتظام ہونا چاہیے ۔مگر عام طور پر ہر ایک کو کوشش کرنی چاہیے کہ اس نے جلسہ سے فائدہ اٹھانا ہے ۔عموما کوشش کریں کہ بچوں والی مائیں اپنے بچوں کے لئے کچھ نہ کچھ ساتھ لیکر آئیں ۔کھلانا ہو تو کچھ نہ کچھ کھلا دیں ۔ٹریفک کی انتظامیہ سے مکمل تعاون کریں ۔سکینگ والوں سے تعاون کریں ۔اسی طرح سیکوڑتی کے عمومی انتظام سے تعاون کریں ۔دائیں بائیں نظر رکھیں ۔دنیا کے حالات بھی ایسے ہیں اور جماعت کی ترقی کی وجہ سے حاسدین کی شرارتوں میں تیزی ائی ہے اس کی طرف بھی توجہ دیں۔ اور سب سے بڑھ کر حاسدین کے شر سے بچنے کے لئے بہت دعائیں کریں ۔اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شر سے بچائے ۔جلسہ کی ہدایات کو غور سے پڑھیں اور عمل کریں ۔ حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : حضور ؑ نے فرمایا تھا ۔دو جنازہ غائب ہیں ایک نوجوان کا جنازہ ہے اور ایک بہت پرانے دیرانہ خادم کا جنازہ ہے ۔پہلا جنازہ شہیدمکرم اکرام اللہ صاحب آف تونسہ شریف کے ڈی جی خان کے تھے ۔ان کو مخالفین نے مورخہ 19 اگست کو مغرب کے بعد میڈیکل سٹور پر آ کر فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔حملہ آور جاتے ہوئے اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے یہ کہتے جاتے کہ ہم نے کافر کو مار دیا ۔گیارہ گولیاں لگیں۔ بہت ایماندار مخلص نوجوان تھے سیلاب کی وجہ سے ان کو بہت خدمت کا موقع ملا شہید مرحوم غریبوں کو مفت ادیہ دیتے تھے ۔والدین کی خدمت کرنے والے تھے ۔موصی تھے اور سیکٹری امور عامہ تھے ۔ان کو دھمکیاں مل رہی تھیں ۔اس کے باوجود جرات سے سامنا کر رہے تھے ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ کچھ عرصہ قبل خواب میں دیکھا کہ آپ ؑ نے فرمایا بلا توقف آجائیں ۔اپ کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا ۔اللہ تعالیٰ شہید بھائ کے درجات بلند فرمائے۔ آمین دوسرا جنازہ چوہدری محمد علی صاحب وکیل التصنیف صاحب کا ہے ۔چھوٹی عمر میں احمدیت سے تعارف ہوا ۔لاہور کالج میں استاد کی وجہ سے 1941 میں آپ کو احمدیت کی آغوش میں آئے آپ اکیلے احمدی تھے ۔آپ نے ایم اے کیا پھر 1944 کو وقف زندگی کی درخواست کی اور جو قبول ہو گئی ۔پھر تعلیم الاسلام کالج میں آ پ نے خدمت کی ۔پھر تقسیم ہند کے بعد کالج سے وابستہ رہے ۔کالج میں آپ فلسفہ نفسیات وغیرہ پڑھاتے تھے ۔پرائیوٹ سیکٹری بھی رہے ۔1984 میں جامعہ احمدیہ میں شعبہ انگریزی کے سربراہ کے طور پر خدمت کی ۔پھر حضرت مسیح موعود ؑ کی کتب کے تراجم بھی کئے ۔وکالت وقف نو بنائی گئی تو پہلے وکیل وقف نو آپ تھے ۔1998 میں آپ کو وکیل التصنیف بنایا گیا ۔آپ نے تقریبا 71 سال سلسلہ کی خدمت کی ۔آپ اردو کا اعلی شوق تھا ۔اردو کے بلند پایہ شاعر تھے ۔بہت محنتی بزرگ تھے ۔ہمدرد انسان تھے ۔خلافت کے سچے مطیع تھے ۔نظام جماعت سے سچا پیار رکھنے والے ۔ریا کاری سے پاک انسانیت کے ہمدرد ۔نیک انسان تھے ۔یہ ساری باتیں ایسی ہیں کہ کوئی مبالغہ نہیں ۔13 اگست کو اپ دفتر آئے اور 13 اور 14 اگست کی درمیانی شب خالق حقیقی سے جا ملے ۔چوہدری حمید اللہ صاحب کہتے ہیں میں چھوٹا تھا اس وقت فضل عمر ہسپتال کی بنیاد رکھی جانی تھی ۔خلیفہ المسیح الثانی ؓ نے تقریر فرمائی اور حضور ؓ نے فرمایا کہ مولوی محمد علی صاحب بھی جالندھر سے تعلق رکھتے تھے اور اب جو محمد علی کو تعلق رکھا رہا ہوں یہ بھی جالندھر سے اور دونوں کی قومیں آرئیں ہی ہیں ۔یہ آپ کو حضرت مصلح موعود ؓ کی دعائیں تھیں کہ آپ کو اس محمد علی سے بڑھ کر آپ کو ترجمہ کرنے کی توفیق ملی ۔1939 کے جلسہ میں چھپ کر شامل ہوئے 1941 مین جلسہ سالانہ پر بیعت کی ۔روز اول سے خلاف کے عاشق تھے ۔ان کی مست رو محبت ہر خلافت کے ساتھ بہت تھی ۔ان سے جب بھی ملاقات ہوتی ۔ہر کوئی بیٹھنے والا خلافت سے محبت میں بڑھ کر اٹھتا تھا ۔دو باتیں یاد رکھنا ۔یہ ہر مبلغ کے لئے ضروری ہیں ۔تم فیلڈ میں جا رہے ہو ریاض ڈوگر کو کوئی نہیں جانتا تم حضرت مسیح موعود ؑ کا نمائندہ سمجھ کر آئیں گے تم لوگوں سے تنگ نہ آنا ۔ایسا ہوا تم تھکے ہوئے ہوگے تم سونا چاہ رہے ہوگے ایک آدمی کو نیند نہ آئے گی وہ تمہارے پاس آجائے گا اس کے سامنے تھکاوٹ کا اظہار نہ کرنا ۔پھر کہا دوسری بات تم جماعتوں میں جائیں گے بعض لوگ تمہاری کمزریوں کی نشاندہی کریں گے ان کو دور کرنا ۔بعض لوگ عہدوں پر تنقید کریں گے سن لینا برداشت کر لینا ۔لیکن اگر کوئی خلافت یا خلیفہ پر اعتراض کرے تو تمہاری برداشت کی تمام حدیں ختم ہو جانی چاہیں ۔پھر کوئی برداشت نہیں ۔آپ کئی بار بیمار ہوئے اور پھر خدمت میں لگ جاتے ۔دعا کیا کرتے تھے کہ گناہ بخش دے ۔کمزوریاں دور کر دے ۔مظفر درانی صاحب مربی سلسلہ لکھتے ہیں جب میں آنے لگا تو کہا میرا سلام پہنچانا۔ذاتی تعلقات کا اور خلیفہ کا ذکر شروع ہو جاتا تو لگتا آپ اسی کے عاشق ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کےدرجات بلند فرمائے او ر رحمت کا سلوک فرمائے اور ان جیسے خلافت کے شیدائی خلافت کوہمیشہ عطا کرتا چلا جائے ۔ آمین
No comments:
Post a Comment