Monday, 4 January 2016

Love for All Hatred for None


Sunday, 3 January 2016

Love for All Hatred for None


Friday, 1 January 2016

Love for All Hatred for None


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ خطبہ جمعہ 01 جنوری 2016 بیت الفتوح یوکے(مرتب کردہ و طالب دعا : یاسر احمد ناصر مربی سلسلہ ) تشہد و سورة الحمدللہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا :آج نئے سال کا پہلا دن ہے اور جو جمعة المبارک کے برکت دن سے شروع ہو رہا ہے ۔حسب روایت نئے سال کے شروع پر ہم ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہیں ۔مجھے بھی نئے سال کے پیغام موصول ہو رہے ہیں ۔مغرب یا ترقی یافتہ ممالک میں نئے سال کی ساری رات شراب نوشی ہٹر بازی میں گزاری جاتی ہے ۔بلکہ مسلمان ممالک میں بھی اسی طرح سال نیا منایا جاتا ہے ۔دوبئی میں بھی اسی طرح تماشہ دکھایا گیا ۔63 منزلہ عمارت کو آگ لگی جس سے آگ ڈھیر ہو گئی ۔تباہی ہوتی ہے تو ہوتی رہے ۔ہم تو اس کے قریب اپنے پروگرام کے مطابق تماشے کریں گے ۔ویسے تو اس وقت مسلمان ملکوں کی حالت اکثر کی بری ہے ۔لیکن بہرحال یہ دنیا داری کے اظہار ہیں ۔اگر آگ وہاں نہ بھی لگی ہوتی تو اس حالت کا یہ تقاضہ تھا ۔مسلمان امیر ملک یہ اعلان کرتے ہیں ۔کہ ہم ان چیزوں میں پیشہ برباد کرنے کی بجائے متاثرین کی مدد کریں گے ۔لیکن یہاں تو اپنی تعلیم بھول کر یہ حال ہے کہ کچھ دن پہلے دوبئی سے خبر آرہی تھی کہ ان کا سب سے بڑا ہوٹل جو ہے اس میں دنیا کا مہنگا ترین کرسمس ٹریٹ لگایا گیا جس کی مالیت 11 ملین ڈالر کی تھی ۔یہ مسلمان ممالک کی ترجیحات ہو چکی ہیں َلیکن ۔احمدیوں نے بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے اپنی رات عبادت میں گزار دی ۔یا صبح جلدی جاگ کر نفل پڑھ کر نئے سال کے پہلے دن کا آغاز کیا ۔بہت جگہ پر تہجد بھی پڑھی گئی ۔اس کے باوجود ہم غیر مسلم ہیں ۔اور یہ ہلڑ بازی کرنے والے مسلمان ہیں َبہرحال ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسلمان ہیں ۔ہم کو کسی سند کی خواہش ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی نظر میں حقیقی مسلمان کی سند لینی ہے ۔اس کے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ سال کے پہلے دن انفرادی یا اجتماعی تہجد پڑھ لی ۔یا صدقہ دے دیا ۔اور اس سے خدا کی رضا مل گئی ۔بیشک یہ نیکی اللہ کے فضلوں کو جذب کرنے والی ہو سکتی ہے ۔لیکن تب جب استقلال پیدا ہوگا۔اللہ تعالیٰ کو مستقل نیکیاں اپنے بندوں سے چاہتا ہے ۔ حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا : تہجد کے ساتھ ایک پاک انقلاب پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔تب خدا تعالیٰ راضی ہوتا ہے ۔کسی قسم کی ایسی نیکی جو ایک دن یا دو دن کے لئے ہو وہ نیکی نہیں ہوتی ہے ۔کس قسم کے رویہ ہم کو اپنانے چاہیں جو خدا تعالیٰ کی رضا ملے ۔اس کے لئے میں نے آج زمانہ کی اصلاح کے لئے بھیجے ہوئے کی بعض نصائح کو لیا ہے ۔جو آپ نے اپنی جماعت کو کیں تا کہ مستقل مزاجی اور ایک تسلسل کے ساتھ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کوشش کرتے رہیں۔یہی باتیں جو سال کے پہلے دن ہی نہیں سال کے بارہ مہینے اور 365 دنوں کو با برکت کریں گی ۔اور ہم اللہ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے بن سکیں گے ۔ حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں : اب دنیا کی حالت کو دیکھو ہمارے نبی کریم ﷺ نے عمل سے دکھایا میرا مرنا اور جینا اللہ کے لئے ہے اور یا اب دنیا میں مسلمان موجود ہیں پوچھنے پر الحمد للہ مسلمان ہونے کا کہتا ہے ۔مگر یہ دنیا کے لئے جیتے ہیں ۔اور دنیا کے لئے مرتا ہے اس وقت تک کہ غرغرہ نہ شروع ہو جائے دنیا ہی مقصود و مطلوب رہتی ہے ۔پھر کیونکر کہہ سکتا ہے نبی کریم ﷺ کی پیروی کرتا ہوں ۔بڑی غور طلب بات ہے ۔مسلمان بننا آسان نہیں ہے ۔رسول کریم ﷺ کی اطاعت اور اسلام کا نمونہ اپنے اندر پیدا نہ کرو تو مطمئن نہ ہو ۔اگر صرف نام کے مسلمان ہو تو رسول کریمﷺ کا اسوہ نہیں اپنانے تو صرف نام اور چھلکا ہی ہے ۔کسی یہودی سے کہا مسلمان ہو جا اس نے کہا تو صرف نام پر ہی خود نہ ہوجا ۔میں نے اپنا نام خالد رکھا تھا ۔اور شام سے پہلے ہی دفن کر دیا ۔اس نام سے اس کو زندگی نہ ملی ۔پس حقیقت کو طلب کرو نرے نام پر راضی نہ ہو ۔کس قدر شرم کی بات ہے انسان عظیم الشان نبی کا امتی ہو کر کافر سی زندگی گزارے ۔تم اپنی زندگی میں محمد ﷺ کا نمونہ دکھاؤ ۔وہی حالت پیدا کرو اور اگر وہ نہیں تو پھر تم شیطان کے ساتھ ہو ۔غرض یہ بات سمجھ آ سکتی ہے اللہ تعالیٰ کا محبوب ہونا زندگی کا مقصد ہونا چاہیے ۔جب تک خدا کی محبت نہ ملے کامیابی کی زندگی بسر نہیں کر سکتے ۔یہ عمل پیدان ہیں ہوتا جب تک سچی اطاعت رسول کریم ﷺ کی نہ کرو ۔آپ ﷺ نے عمل سے اسلام دکھایا وہی اسلام تم بھی اپنے اندر پیدا کرو ۔ اسلام دنیا کی نعمتوں سے منع نہیں کرتا ۔ حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں :اسلام نے رہبانیت کو منع کیا ہے مومن کے تعلقات دنیا سے جس قدر وسیع ہوں اتنا بہتر ہے ۔اور دنیا کا ما ل و جا دین کا خادم ہوتا ہے ۔حصول دنیا میں بھی اصل غرض دین ہو ۔ایسے طور پر دنیا کو حاصل کیا جائے کہ وہ دین کی خادم ہو ۔انسان جب کسی جگہ پر جانے کے لئے زاد راہ ساتھ لیتا تو اصل غرض منزل ہوتی ہے ۔اسی طرح دنیا کو حاصل کرے مگر دین کا خادم سمجھ کر ۔فرمایا : اے ہمارے رب اس دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی ۔اس میں بھی دنیا کو اول رکھا ایسی دنیا جو آخرت میں بھی حسنات کا موجب بن جائے ۔مومن کو دنیا کے حصول میں آخرت کے حسنات کا خیال رکھنا چاہیے ۔دنیا کو ہر ایسے طریق سے حاصل کرو جس کو حاصل کرنے سے بھلائی اور خوبی ہو نا وہ طریق جس سے دوسرے کو تکلیف ہو ۔نہ شرم کا باعث ہو ۔ایسی دنیا ہمیشہ حسنات کی موجب ہوتی ہے ۔ایسی دنیا کو اللہ تعالیٰ نے پسند فرمایا ہے ۔پھر فرمایا : سمجھنا چاہیے کہ جہنم کیا ہے ۔ایک مرنے کے بعد کا جہنم ہے ۔دوسری یہ زندگی اگر خدا کے لئے نہیں تو یہ بھی جہنم ہی ہے ۔فرمایا : اللہ تعالیٰ ایسے انسان کا تکلیف سے بچانے کے لئے متولی نہیں ہوتا جس کو خدا کی پرواہ نہ ہو ۔کوئی بھی انسان مال و دولت سے دنیا کا بہشت نہیں پا سکتا ۔اطمینان اور تسلی اور تسکین ان باتوں سے نہیں ملتی ۔وہ خدا میں زندہ اور مرنے کے لئے مل سکتی ہے ۔پس یہ بے جا خواہشات کی آگ اسی جہنم کی آگ ہے جو انسان کو اقرار نہیں لینے دیتی ۔بلکہ اس کو پریشان رکھتی ہے ۔فرمایا : اس لئے میرے دوستوں کی نظر سے یہ امر پوشیدہ نہ رہے کہ انسان مال و زر کی دولت کے نشہ میں ایسا غرق نہ ہو کہ خدا تعالیٰ اور بندہ میں ایک حجاب پیدا ہو جائے ۔ پھر حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں : میرے دل میں یہ بات آئی ہے کہ الحمد للہ ۔۔۔ مالک یوم الدین سے یہ ثابت ہے کہ انسان ان صفات کو اپنے اندر لے ۔ہر عالم میں غرض ہر عالم میں پھر رحمان اور رحیم پھر مالک یوم الدین ہے ۔ایاک نعبد کہتا ہے تو پھر اس عبادت میں وہی صفات کا پرتو اپنے اندر لینا چاہیے ۔فرمایا: کمال یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رنگ میں رنگین ہو جائے جب تک یہ مرتبہ نہ ملے نہ تھکے نہ ہارے ۔اس کے بعد خود ایک کشش پیدا ہو جاتا ہے جو عبادت کی طرف لے جاتا ہے ۔ اس بارہ میں زندگی کا بھروسہ نہیں حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں :کسی کو کیا معلوم ہے کہ ظہر کے بعد عصر تک زندہ رہے ۔بعض دفعہ یک دفعہ ہی جان نکل جاتی ہے ۔بعض دفعہ چنگے بھلے آدمی مر جاتے ہیں ۔ایک وزیر ہوا خوری کر کے آئے ایک دو زینہ چڑھے اور چکر آیا بیٹھ گئے اور پھر دو تین زینہ پر چکر آیا اور جان نکل گئی ۔ایک اور غلام محی الدین یک دفعہ ہی مر گیا ۔موت کا کوئی وقت معلوم نہیں اس لئے اس سے بے فکر نہ ہوں ۔دین کی غم خواری بڑی چیز ہے ۔ساعت سے مراد قیامت بھی ہوگی مگر اس میں ساعت سے موت ہی مراد ہے ۔کیونکہ انقطاع تام کا وقت ہوتا ہے اور ایک عجیب زلزلہ اس پر طاری ہوتا ہے ۔گویا اندر ہی اندر ایک شکنجہ میں ہوتا ہے ۔اس لئے موت کا خیال رکھے ۔ جب یہ یاد ہوگا تو انسان نیکیاں بجا لانے کی کوشش کرتا ہے پھر بلا وجہ کے تماشوں میں نہ وقت اور نہ پیسہ ضائع کرے گا ۔اور نہ بے جا خواہشات کی تکمیل میں پیشہ ضائع کرے گا۔ پھر پاک تبدیلی پیدا کرنے میں فرماتے ہیں : پس غفلت نہ کرو ایک تبدیلی کرو ۔انسان کو نفس جھوٹی تسلی دیتا ہے ۔موت کو قریب سمجھو خدا کا وجود بر حق ہے ۔اب جیساکہ سورة فاتحہ میں تین گروہ کا ذکر ہے ۔تین کا مزہ چکھا دے گا ۔آخر والے مقدم ہونگے ۔ضالین ۔مسلمانوں کی مثال دے کر فرما رہے ہیں ۔کہ وہ پہلے ہو گئے ۔اسلام وہ تھا کہ ایک مرتد ہو جاتا ہے تو قیامت ہو جاتی تھی ۔اب ہزاروں عیسائی ہو چکے تھے ۔خود ناپاک ہوئے ہیں ۔اور پاک وجود کو گالی دی جاتی ہے ۔پھر مغضوب کا نمونہ طاعون سے دکھایا گیا ۔یہ ان لوگوں پر پڑتی ہے ۔آج کے زمانہ میں بھی طوفان زلزلے ہیں اور آفتیں ہیں یہ سب انسان سوچے تو خدا تعالیٰ کے غضب نازل ہو رہے ہیں ۔یہی چیزیں پھر خدا کی طرف لے کر آتی ہیں َپھر انعام یافتہ گروہ ہے ۔قاعدہ کی بات ہے کہ یہ کام نہ کرنے کا کہا جاتا ہے تو اس میں سے ایک اس کی خلاف ورزی کرتا ہے ۔کوئی بھی قوم ایسی نہیں جس کو منع کیا گیا اور وہ سب کے سب منع ہوئے ہوں ۔قرآن کی نسبت کہا ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔غرض دعاؤں میں لگے رہو کہ انعام یافتہ گروہ میں داخل کرے ۔مستقل دعاؤں کی ضرورت ہے ایک دو دن کی دعاؤں کی نہیں ۔پھر پاک تبدیلی اور آخرت کی فکر تقوی سے پیدا ہوتی ہے ۔آپ فرماتے ہیں :تقوی والے پر خدا کی تجلی ہوتی ہے وہ خدا کے سایہ میں ہوتا ہے مگر چاہیے کہ تقوی خالص ہو شیطان کا کچھ حصہ نہ ہو ۔شرک خدا کو پسند نہیں ۔اگر کچھ حصہ خدا کا ہو تو خدا کہتا ہے سب شیطان کا ہے ۔خدا کے پیاروں کو دکھ مصلحت الہی سے آتا ہے ۔ورنہ ساری دنیا جمع ہو جائے تو پھر بھی تکلیف نہیں دے سکتی ۔وہ نمونہ ہوتے ہیں اس لئے تکلیف اٹھانے کا نمونہ بھی دکھائیں۔خدا اپنے ولی کو تکلیف نہیں دینا چاہتا ۔یہ ان کے لئے نیکی ہے کیونکہ ان کے اخلاق واضح ہوتے ہیں ۔انبیاء کی تکلیف میں خدا کی ناراضگی نہیں ہوتی بلکہ ایک شجاعت کا نمونہ قائم کرتے ہیں ۔جنگ احد میں رسول کریم ﷺ اکیلے رہ گئے اس میں بھید بھی شجاعت کا ظاہر کرنا تھا ۔جب آپ دس ہزار کے مقابل پر اکیلے کھڑے ہو گئے ۔یہ نمونہ کسی نبی نے نہیں دکھایا۔ ہم اپنی جماعت کو کہتے ہیں کہ اتنے پر خوش نہ ہو جائیں کہ ہم موٹے موٹے گناہ نہیں کرتے ۔ان میں تو مشرک بھی زنا چوری نہیں کرتے ۔تقوی کا مضمون باریک ہے اس کو حاصل کرو ۔خدا کی عظمت دل میں بیٹھاؤ ۔جس کے اعمال میں ریا کاری ہوگی وہ واپس منہ پر مارے جاتے ہیں ۔متقی ہونا مشکل ہے ۔اگر کوئی تجھ سے کہے تو نے قلم چرایا ہے تو کیوں غصہ کرتا ہے ۔تیرا پرہیز تو محض خدا کے لئے ہے ۔یہ طیش اس واسطہ ہوئے کہ تم اللہ تعالیٰ سے تعلق نہ تھا ۔فرمایا : جب تک واقعی انسان پر بہت سی موتیں نہ آجائیں وہ متقی نہیں بنتا ۔سچی رویا کے پیچھے نہ پڑا کرو بلکہ حصول تقوی کے پیچھے رہو ۔متقی کے الہامات بھی صحیح ہیں ۔اگر تقوی نہیں تو قابل اعتبار نہیں ۔کسی کے الہام کو جاننا ہے تو پھر تقوی سے پہچانو ۔انبیاء کے نمونے کو قائم رکھو ۔جتنے بھی نبی آئے سب نے تقوی کی راہ سکھائی ۔نبی کمال نبی کی امت کے کمال کو چاہتا ہے ۔رسول کریم ﷺ پر کمالات نبوت ختم ہوئے ۔جو اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا چاہے وہ اپنی زندگی کو خارق عادت بنا لے ۔تقوی کا اعلی ترین معیار حاصل کرو ۔فرمایا دیکھو امتحان دینے والے محنت کرتے ہیں اور کمزور ہو جاتے ہیں ۔تقوی کے امتحان میں پاس ہونے کے لئے ہر تکلیف اٹھانے کے لئے تیار ہو جاؤ ۔مختصر خلاصہ ہماری تعلیم کا یہی ہے کہ انسان اپنی تمام طاقتوں کو خدا کی طرف لگا دے ۔اہل تقوی اپنی زندگی غربت اور مسکینی میں بسر کریں ۔کسی کے غصہ سے خود مغلوب نہ ہو جاؤ ۔تکبر اور غرور غضب کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں ۔فرمایا: میں نہیں چاہتا کہ میری جماعت والے آپس میں ایک دوسرے کو چھوٹا یا بڑا سمجھیں یا ایک دوسرے پر غرور کریں کسی کو کم سمجھیں خدا جانتا ہے بڑا کون ہے اور جھوٹا کون ہے ۔جس کے اندر حقارت ہے ڈر ہے وہ بیج بڑھ کر ہلاکت کا باعث بن جائے ۔بڑا وہ ہے جو مسکین کی بات کو آرام سے سنے ۔اس کی دلجوئی کرے ۔کوئی چڑ کی بات منہ پر نہ لاوے ۔جس سے دکھ پہنچے ۔خدا فرماتا ہے ۔کسی کو برے لقب سے نہ پکارو ۔یہ فعل فجار کا ہے ۔جو کسی کو چڑاتا ہے وہ نہ مرے گا جب تک وہ خود اس میں مبتلا نہ ہو ۔جب ایک چشمہ سے پانی پیتے ہو تو کون جانتا ہے کس کی قسمت میں زیادہ پانی ہے ۔خدا کی نظر میں معزز زیادہ متقی ہے ۔ پھر تقوی کے بارہ میں فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے جس قدر قویٰ عطا فرمائے ہیں وہ ضائع کرنے کے لئے نہیں ان کے جائز استعمال کرنا ہی ان کی نشو و نما ہے ۔فرمایا اسی لئے قوائے رجولیت نکالنے کی تعلیم نہیں دی بلکہ جائز استعمال کہا ہے ۔آنکھ بد کام کے لئے نہیں دی گئی بلکہ جائز استعمال کرو گے تو تزکیہ نفس ہوگا۔مسلسل کوشش کرنے والے ہدایت کے راستہ پر چلتے ہیں جس سے فلاح ملتی ہے ۔پس یہی فلاح یاب ہیں جو منزل مقصود تک پہنچ جائیں گے ۔اس لئے شروع میں ہی تقوی کی تعلیم دے کر ایک کتاب دی جس میں تقوی کی نصائح دیںَ ہماری جماعت غم کل غموں سے بڑھ کر اپنی جان پر لگائے کہ ان میں تقوی ہے یا نہیں۔ اگر تم لوگوں کے دل پر فتح پانا چاہتے ہو تو تقوی سے کام لو ۔دوسروں کو اخلاق فاضلہ کا نمونہ دکھاؤ تب کامیاب ہو جاؤ گے ۔کسی نے کیا خوب کہا ہے ۔جو بھی بات دل سے نکلتی ہے وہ دل پر ضرور اثر کرتی ہے ۔مومن کی ایک بات دل سے نکلنی چاہیے اور دوسروں کی فلاح کا موجب بنتی ہے ۔پہلے دل کو عمل والا بناؤ پھر دوسروں کی اصلاح چاہو ۔عمل کے بغیر قولی طاقت کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتی ۔بہت سے مولوی اپنے آپ کو نائب رسول کہہ کر واعظ کرتے ہیں تکبر غرور سے بچو ان کے اپنے کرتوت ان باتوں سے لگا لو کہ ان کی باتوں کا اثر تمہارے دل پر کس حد تک ہوتا ہے ۔پھر فرمایا : اس قسم کی عملی طاقت نہیں رکھتے ۔اگر یہ خود کرتے تو قرآن کیوں کہتا تم وہ کیوں کہتے ہو جو نہیں کرتے ۔یہ آیت بتاتی ہے کہ عمل نہ کرنے والے ہیں اور ہونگے ۔ہم سب کو پہلے اپنا جائزہ لینا چاہیے اور پھر دوسروں کی اصلاح ۔یہ نصیحت خاص طور پر عہدیداروں کو یاد رکھنی چاہیے ۔دوسروں کو تبدیلی کا کہتے ہیں مگر خود الٹ کرتے ہیں۔پھر خدا تعالیٰ کے حکم کا ثانوی حیثیت دے دیتے ہیں ۔ فرمایا : تم میری بات سنو اور خوب یاد رکھو اگر انسان کی گفتگو سچے دل سے نہ ہو اور عمل ساتھ نہ ہو وہ اثر انگیز نہیں ہوتی ۔اسی میں ہمارے نبی ﷺ کی کامیابی ہے ۔آپ کو جو فتح ملی اسی وجہ سے کہ آپ ﷺ کا قول وفعل مطابقت رکھتا تھا ۔پھر فرماتے ہیں : آج کل کے تعلیم یافتہ لوگوں پر ایک اور بڑی آفت پڑتی ہے وہ یہ ہے کہ دین سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے ۔پھر جب حیرت دان کا یا فلاسفر کا اعتراض پڑھتے ہیں تو شکوک شروع ہو جاتے ہیں ۔تب وہ عیسائی اور دہریہ بن جاتے ہیں ۔ایسی حالت میں ان کے والدین ان پر ظلم کرتے ہیں دین کا علم نہیں دیتے ۔اور شروع سے ایسا کام کرتے ہیں کہ دین نہیں سیکھتے ۔پس والدین کو بچوں کی تعلیم کی طرف توجہ دینی چاہیے ۔جماعت میں بہت لٹریچر ہے پڑھیں تو شکوک دور ہو جاتے ہیں َپھر باہم اتفاق و محبت پر کہہ چکا ہوں تم باہم اتفاق رکھو اور اجتماع کرو ۔ تم وجود واحد رکھو ورنہ ہوا نکل جائے گی ۔اگر اختلاف ہو تو پھر بے نصیب رہو گے ۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے آپس میں محبت کرو اور ایک دوسرے کے لئے غائبانہ دعا کرو ۔ایک شخص کی غائبانہ دعا پر فرشتہ بھی کہتا ہے کہ تیرے لئے بھی ایسا ہو ۔میں نصیحت کرتا ہوں اور کہنا چاہتا ہوں کہ آپس میں اختلاف نہ ہو ۔دو ہی مسئلے لیکر آیا ہوں خدا کی توحید پکڑو اور آپس میں محبت کا نمونہ دکھاؤ ۔یاد رکھو جب تک تم میں سے ہر ایک جو خود پسند کرتا ہے وہی اپنے بھائی کے لئے پسند نہ کرے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے ۔وہ بلا میں ہے پھر فرمایا : میرے وجود سے ایک صالح جماعت پیدا ہوگی ۔ (انشاء اللہ ) جو اپنے جذبات پر قابو نہیں پاتے ان کو جماعت سے الگ کر دونگا ۔جو ایسے ہیں وہ چند روزہ مہمان ہیں ۔میں کسی کے سبب سے اپنے اوپر اعتراض لینا نہیں چاہتا ۔ پس ڈرو میرے ساتھ وہ نہ رہے گا جو اپنا علاج نہ کرے گا۔جو بھی کمزور ہے وہ ان دعاؤں سے حصہ نہ پا سکے گا جو حضرت مسیح موعود ؑ نے اپنی جماعت کے لئے کی ہیں ۔پس سب کو اپنے جائزے لیتے رہنا چاہیے ۔پھر فرمایا : قرآن کریم میں ہے کہ تیری پیروی کرنے والوں پر قیامت تک تیرے مخالف پر غلبہ دونگا۔یہ وعدہ مسیح سے تھا میں تم کو کہتا ہوں مجھے بھی انہی الفاظ میں بشارت دی ہے ۔اب سوچ لیں میرے ساتھ رہ کر وہ لوگ اس کو پا سکتے ہیں جو امارہ میں پڑھے ہوئے ہوں ۔نہیں ہر گز نہیں ۔ پس جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہیں وہ اثر میری ذات تک پہنچتا ہے اور پھر خدا تعالیٰ کے نبی تک پہنچتا ہے ۔اگر ان باتوں کا اثر میری ہی ذات تک ہوتا تو مجھے کچھ پرواہ نہ تھی اس کا اثر رسول کریم ﷺ اور پھر خدا تعالیٰ تک جاتا ہے ۔اگر اس بشارت سے حصہ لینا چاہتے ہو تو پھر اتنا ہی کہتا ہوں کہ یہ کامیابی اس وقت تک حاصل نہ ہوگی جب تک لوامہ سے گزر کا مطمئنہ تک نہ پہنچ جاؤ ۔پس مامور کی باتوں کو دل کے کانوں سے سنو اور ان پر عمل کرو ۔اور اقرار کے بعد انکار کرنے والے نہ بنو ۔پھر قبولیت دعا کے بارہ میں فرمایا : قبولیت شرائط کے لئے بھی چند شرائط ہوتی ہیں ۔دعا کروانے والے اور دعا کرنے والے متعلق ہوتی ہیں ۔دعا کروانے والا خدا سے ڈرے اور تقوی پر رہے ۔ایسی صورت میں دعا کے لئے دروازہ قبولیت کھلتا ہے ۔اگر خدا ناراض ہے تو پھر وہ قبولیت نہیں پاتیں۔پس ہمارے دوستو! کے لئے لازم ہے کہ وہ ہماری دعاؤں کو ضائع ہونے سے بچاویں ۔اور ان کی راہ میں روک نہ ڈالیں ۔جو ان کی حرکتوں سے پڑ سکتی ہے ۔چاہیے کہ تقوی حاصل کریں ۔تقوی کے مدارج بہت سے ہیں لیکن صدق نیت سے ابتدائی مدارج کو طے کر یں تو اعلی مدارج کو پا لیتا ہے ۔فرمایا : ہماری جماعت کو لازم ہے جہاں تک ممکن ہو ہر ایک تقوی کی راہ پر قدم مارے تاکہ قبولیت دعا کا مزہ ملے ۔صرف بیعت سے خدا راضی نہیں ہوتا یہ صرف پوست ہے مغز اس کے اندر ہے ۔بعض میں مغز نہیں رہتا تو وہ ردی کی طرح پھینک دئے جاتے ہیں ۔اگر بیعت کرنے والے کے اندر تقوی نہیں تو ڈرنا چاہیے ورنہ وہ ایک دفعہ پھینک دیا جائے گا۔ جب تک مغز پیدا نہ ہو ایمان محبت اطاعت مریدی اسلام کا دعوی سچا نہیں ہے ۔یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک مغز کے سوا چھلکا کی کچھ قیمت نہیں ۔صرف دعوی پر کوئی فائدہ نہیں جب تک انسان اپنے آپ پر بہت سی موتیں وارد نہ کرے وہ انسانیت کے اصل مقصد کو نہیں پا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کرے ہم اپنی زندگیوں کو حضرت مسیح موعود ؑ کے مطابق ڈھالنے والے ہوں ہمارے قدم نیکیوں کی طرف بڑھنے والے ہوں آپ ؑ کی دعاؤں کو ضائع کرنے والے نہ ہوں بلکہ دعاؤں کے ہمیشہ وارث بنے اس دعا کے ساتھ آپ سب کو نئے سال کی مبارک باد دیتا ہوں اللہ تعالیٰ اس سال کو ہمارے لئے ذاتی طور پر بھی اور مجموعی طور پر بھی بے شمار برکات کا وارث بنائے ۔ آمین

Monday, 28 December 2015

Love for All Hatred for None


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم خلاصہ اختتامی خطاب بر موقع جلسہ سالانہ قادیان 2015(مرتب کردہ : یاسر احمد ناصر مربی سلسلہ ) تشہد و سورة الحمدللہ تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا :آج قادیان کا جلسہ اللہ کے فضل سے اختتام پذیر ہے ۔آج اللہ تعالیٰ پھر نئی ایجادات کی وجہ سے جو حضرت مسیح موعود ؑ کے زمانہ کے لئے مقدر تھیں تا کہ اکائی ہو مجھے یہاں لندن سے جلسہ سالانہ میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرما رہا میں ہی نہیں جو ادھر شامل ہیں وہ بھی شامل ہو رہے ہیں قادیان کے لوگ لند ن والوں کو اور لندن والے قادیان کے نظارے کر رہے ہیں اور یہ جو ایجادات حضرت مسیح موعود ؑ کے زمانہ میں شروع ہوئی ،روز بروز اضافہ اور اشاعت اسلام کا کام ہونا اور وحدت کا قائم ہونا آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم کا الہی کلام ہونے کی دلیل ہے ۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام کا خدا زندہ خدا ہے ۔اور چودہ سو سال پہلے کی پیشگوئیوں کو بڑی شان سے پورا کر رہا ہے ۔بلکہ آنحضرت ﷺ کے غلام صادق کے ذریعہ پیشگوئیوں کا سلسلہ جاری رکھا کچھ زمانہ میں اور کچھ آپ ؑ کے بعد پوری ہو رہی ہیں ۔حقیقی اسلام کا پتہ بھی حضرت مسیح موعود ؑ کے ذریعہ پتہ چلا ۔جس کی تعلیم ہمیشہ کے لئے ،جس کا خدا زندہ اور کلام کرنے والا ہے ۔آج بھی فساد زدہ دنیا کی آہ و بکا سنتا ہے اور ان کی راہنمائی فرماتا ہے اور غموں کو دور کرتا ہے اور جماعت احمدیہ کی تاریخ میں اس طرح کے بے شمار واقعات ہیں ۔بلکہ آج بھی حق کے متلاشیوں کو سچائی کی راہیں دکھاتا ہے ۔نئی ایجادات کی وجہ سے فیصلے کم ہوگئے ہیں ۔ہم ایک دوسرے کی تصویریں اور چہروں کے تاثرات دیکھ رہے ہیں ۔یہ بھی ہے جہاں نیکی ہے وہ بدی بھی ہے ۔فرشتوں کے ساتھ ساتھ شیطان بھی موجود ہے ۔نور ہے تو ظلمات بھی ہیں ۔جو شیطان ہے وہ برائی کو پھیلانے کے لئے تعلیم دے رہا ہے ۔یہی حال نئی ایجادات کے ساتھ بھی ہے ۔یہ ایجادات بھی شیطانی کاموں کو پھیلانے میں اپنی تمام تر صلاحتیں صرف کر رہی ہیں جن کی وجہ سے دنیا دین و خدا سے دور ہو رہی ہے ۔اس وقت صرف ایم ٹی اے کا جو 24 گھنٹے اللہ اور رسول کی باتوں میں لگا ہوا ہے ۔چند اور چینل بھی ہونگے جو کچھ وقت اس کے لئے دیتے ہیں ۔لیکن بعض دفعہ دوسروں کے جذبات کو زخمی بھی کر جاتے ہیں ۔زیادہ تر چینل بے حیائی اور شیطانی باتیں کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔شیطان ہر راستہ سے آدم ؑ کی اولاد کو بھٹکانے کے لئے زور لگا رہا ہے اور ہم احمدی بھی اسی دنیا میں ہیں ۔ہمیں بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ان نئی ایجادات کو اپنے نیکیوں میں بڑھنے کے لئے اور خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت میں ترقی کے لئے اور آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کو رشتہ محبت میں بڑھنے کے لئے استعمال کرنا ہے ۔ہمیشہ اس نعمت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے جو اللہ تعالیٰ نے وحدت پیدا کرنے کے لئے عطا فرمائی ہے ۔یہ اس کا احسان ہے کہ باوجود کم ہونے کے، وسائل بھی کم ہونے کے ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایسا ذریعہ عطا فرما دیا ہے کہ ہم 24 گھنٹے جب چاہیے روحانیت کی پیاس بجھا سکتے ہیں ۔دنیا کے پاس بہت مال ہے وسائل ہیں لیکن کونسا ملک ہے اور کونسا مذہبی سربراہ ہے جس کا رابطہ اپنے ماننے والوں کے لئے ہو ۔زیادہ سے زیادہ ہوگا تو چند منٹ کا ہو گا ۔اور وہ رابطہ اس لئے نہیں ہے کہ کسی کی بیعت میں ہیں یا ماننے والے ہیں بلکہ صرف دنیا کی خبروں سے آگاہ ہونے کے لئے ۔یہ انعام صرف حضرت مسیح موعود ؑ کی جماعت کو ہی عطا فرمایا ہے ۔یہ معجزہ اور نشان صرف جماعت احمدیہ کے پاس ہے کہ آپ سے وعدہ فرمایا تھا اور آنحضرت ﷺ خدا تعالیٰ سے اطلاع پا کر جو پیشگوئی فرمائی تھی کہ مسیح موعود ؑ کے ذریعہ سے خلافت قائم ہوگی ۔بلکہ اس ذریعہ سے ایک جماعت قائم کر دی جو دنیا میں پھیلی ہوئی ہے ۔ جو ایک لڑی میں پھروئی ہوئی ہے ۔ حضور انور ایدہ اللہ فرماتے ہیں؛ اور آج خلیفہ وقت کی آواز وحدت کا نشان بن کر ہر جگہ گونج رہی ہے ۔پس خوش قسمت ہیں جو آخرین میں شامل ہو کر اس وحدت کا حصہ بنے ہیں ۔خوش قسمت ہیں جو مسیح موعود ؑ کی بستی میں ہیں اور حضرت مسیح موعود ؑ کے ادنی غلام اور خلیفہ کی باتیں سن رہا ہے ۔اس وقت کہیں رات اور کہیں دن ہے کہیں صبح کہیں شام ہے لیکن قادیان کی بستی کے نظارہ سبھی لوگ کر رہے ہیں اور کچھ حد تک اس روحانی ماحول سے فیض پا رہے ہیں ۔کیسا وعدوں کا سچا ہمارا خدا ہے ۔جو ہم کو اپنے وعدوں کو پورا ہوتا دکھا کر ہمارے ایمان و یقین میں اضافہ فرما رہا ہے ۔یہ بات ہم کو احساس دلاتی ہے کہ ہم اس کے حکموں پر عمل کرنے والے ہوں ۔صرف زبانی شکر کافی نہیں بلکہ عمل سے ثابت کرنا ہوگا۔اگر دنیا کی مخالفت مول لی ہے تو اس کا حقیقی شکر بھی ادا کرنے والا ہونا چاہیے ۔آج سے 108 سال پہلے ایک تقریب ہو رہی تھی یہی مہینہ تھا اور یہی دن تھے جب چند سو لوگ جمع تھے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی باتیں سن لیں ۔لیکن آج ہندوستان سے باہر دنیا کے 43 ممالک سے 7 آٹھ ہزار لوگ اس بستی میں جمع ہیں جو قادیان میں جمع ہیں ۔مقصد وہی ہیں اپنے ایمان و ایقان میں بڑھنے کے لئے دعائیں کریں ۔لیکن ایک فرق ہے جو بہت بڑا فرق ہے اس وقت 108 سال پرانی مجلس میں خود مسیح موعود تھے جو دلوں کی صفائی کر رہا تھا ان غریب لوگوں کو بتا رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے ۔اور بتا رہا تھا کہ ایک وقت آئے گا دنیا میں یہ بستی دنیا میں جانی جائے گی اور آج ہم اس کی صداقت کے گواہ ہیں ۔آپ ؑ مخالفت کو بھی معجزہ قرار دیا ۔آ پ ؑ نے ان لوگوں کو فرمایا کہ اول اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ آپ کو ہدایت دی باوجود اس کے ہزاروں مولوی ہم کو دجال اور کافر کہتے رہے آپ کو ہمارے سلسلہ میں داخل ہونے کا موقع ملا ۔وہ چند سو غریب مگر اللہ کے تعلق یافتہ لوگوں نے دعائیں کیں ۔اس وقت بھی بہت سے ممالک سے لوگ وہاں جمع ہیں ۔روس سے عرب ممالک سے افریقہ سے بھی قادیان آئے ہوئے احمدی ہیں جن کو احمدیت میں شامل ہوئے کچھ عرصہ ہوا ہے ۔شب یہ جانتے ہیں کہ صرف اب ہندوستان تک یہ بات محدود نہیں بلکہ دنیا کے تمام ملکوں میں جہاں نام نہاد ملاء پہنچ سکتا ہے وہاں مخالفت ہے ۔ایک زمانہ تھا عربوں سے اسلام پھیلا ۔لیکن آج جب احمدیت کا سوال آتا ہے تو قرآن کریم کو بھول کر اسوہ رسول ﷺ کو بھول جاتے ہیں اور ان کی فراست پر تالے پڑ جاتے ہیں ۔ایک ہی چیز کہتے ہیں کہ نعوذباللہ حضرت مرزا غلام احمد قادیان ؑ جھوٹے تھے ۔اب تمام دنیا کے مولوی یہ فتوی دیتے ہیں مگر اس کے باوجود لوگ اس سلسلہ میں شامل ہو رہے ہیں ۔عربوں میں سے بھی آرہے ہیں اور اب ان عربوں کا کام ہے کہ وہی علم اور وہی فراست اپنے اندر قائم کریں اور حضرت مسیح موعود ؑ کا پیغام تمام عرب میں پھیلا دے ۔آپ ؑ نے اس وقت فرمایا کہ تمام مخالفتوں کے باوجود جماعت بڑھتی جاتی ہے ۔1907 میں آپ نے فرمایا ہماری جماعت چار لاکھ سے زیادہ ہوگی ۔مخالفت بہت ہوتی ہے مگر ہمارا سلسلہ بڑھ رہا ہے ۔ اس وقت قادیان افریقن احمدی بھی جلسہ میں موجود ہیں وہ جانتے ہیں کس طرح احمدیت سے متنفر کرنے کے لئے مولوی زور لگاتے ہیں ۔خدا تعالیٰ معجزہ دکھاتا ہے کہ وہ ناکام و خائب و خاسر ہو کر نکلتے ہیں ۔جب لوگ سچائی کو جان کر قبول کرتے ہیں تو وہ ذلیل و رسوا ہو کر مولوی وہاں سے نکلتا ہے ۔ہمیشہ یہی ہوا جہاں ہمارے مبلغ گئے وہاں مولوی گئے مگر ناکام ہوئے ۔اس وقت چار لاکھ تھی لیکن آج کئی افریقن ممالک ہیں جن میں سال میں ہی لاکھ لاکھ لوگ سلسلہ احمدیت میں آتے ہیں ۔لیکن ان مخالفین کو سمجھ نہیں آتی کہ ہماری مخالفت کے باوجود یہ سلسلہ ترقی کر رہا ہے تو کیوں ؟ تو کیا اللہ نعوذبا للہ جھوٹے کا ساتھ دے رہا ہے ۔آپ ؑ فرماتے ہیں کہ جانتے ہو مخالفت میں کیا حکمت ہے ۔حکمت یہ ہے کہ جو اللہ کی طرف سے ہوتا ہے وہ روز بروز ترقی کرتا ہے اور بڑھتا ہے ۔اس کو روکنے والا دن بدن تباہ ہوتا ہے اور ذلیل و تباہ ہوتا ہے ۔اللہ تعالیٰ مخالفین کو مارنا چاہتا ہے ۔یہ لوگ اپنی تمام کوشش کے باوجود حسرت سے مر رہے ہیں ۔پس میں مسلمانوں سے کہتا ہوں کہ سوچیں اللہ سے لڑائی نہ کریں اللہ کی آواز پر غور کریں ۔حضرت مسیح موعود ؑ نے 1907 کے جلسہ میں فرمایا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حقیقت ہے کوئی اس کو روک نہیں سکتا جس سلسلہ کو خدا بڑھانا چاہتا ہے تو اس کو کوئی روک نہیں سکتا اگر ان کی کوشش سے وہ سلسلہ رک جائے تو ماننا پڑے گا کہ وہ خدا پر غالب آگیا ۔حالانکہ خدا پر کوئی غالب نہیں آ سکتا ۔جو لوگ ہمارے پاس آتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی خبر براہین احمدیہ میں بتا دیا تھا۔اور یہ معمولی پیشگوئی نہیں بلکہ الہام ہے یاتین من کل فج عمیق ،یاتوک من کل فج عمیق ۔۔۔۔۔ فرمایا : وہ زمانہ تجھ پر آنے والا ہے کہ تو اکیلا نہ ہو گا فوج در فوج لوگ آئے ہیں ۔(تفصیلی ترجمہ ) وہ مدد ہر دور کی راہ سے آئے گی اور ایسی راہ سے کہ لوگوں کے آنے سے وہ راہ گہری ۔خدا مدد کرے گا تجھ پر اپنی نعمت پوری کرے گا ۔جب فتح آئے گی تو زمانہ ادھر آجائے گا تو کہا جائے گا کہ کیا یہ سچ نہ تھا خدا ایسا نہیں کہ تجھ کو چھوڑ دے جب تک پاک اور پلید الگ نہ ہو ۔وہ وقت آتا ہے کہ تو مشہور ہوگا ۔میں تیری مدد کرونگا میں تیری حفاظت کرونگا۔ٌ) جب یہ الہامات کا ذکر تھا اس وقت 700 لوگ تھے ۔اور اس تعداد کو دیکھ کر فرمایا تھا کہ لگتا ہے ہماری واپسی کا وقت اب قریب ہے ۔شائد کوئی اس وقت بھی کہتا ہو یا آج بھی کہہ رہے ہوں پیشگوئیوں کے الفاظ شاندار ہیں ۔لیکن لوگ 700 تھے ایک یہ بتا رہے ہیں کہ سارا سال لوگ آتے ہیں ۔دوسرا جب یہ پیشگوئی کی گئی تو قادیان کی اس بستی کو کوئی نہیں جانتا تھا اور آدمی بھی ایسا جس کو بستی والا بھی نہ جانتا تھا ۔تب کی یہ خبریں تھیں ۔اس کثرت سے آنے کی خبر ہے کہ راستے ٹوٹ جائیں گے ۔پس آپ ؑ نے اپنی زندگی میں ہزاروں لوگوں کو اپنے پاس آتے دیکھا اور لاکھوں لوگوں کو اپنی بیعت میں شامل ہوتے دیکھا ۔آپ ؑ کے خلافت ایک سے بڑھ کر ایک مقدمہ ہوا جن میں بریت بظاہر نا ممکن تھی مگر آپ کو بری فرمایا آپ ؑ کی جان کی حفاظت کی اور آپ ؑ کی عزت بھی قائم کی ۔آج قادیان کی ابتدائی حالت کو دیکھیں تو قریبی لوگ بھی آپ ؑ کو نہ جانتے تھے پھر ان پیشگوئیوں پر نظر ڈالی جائے تو پھر ان کی شان اور ان کی صداقت ابھرتی ہے ۔پاکستان اور ہندوستان کے علاوہ دنیا کے 42 ممالک میں بیٹھے اس جلسہ کی کاروائی سن رہا ہے ۔آپ میں سے ہر ایک شامل جلسہ آپ میں سے ہر ایک آپ ؑ کی سچائی کی دلیل ہے ۔ حضور انور ایدہ اللہ فرماتے ہیں : یہ بات اس وقت کہی 1907 میں 700 افراد سے تم مین سے ہر کوئی اس گاؤں سے نا واقف تھے 25 برس قبل جب کتاب لکھی تھی تب کا یہ دعوی تھا ۔آج دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے ہیں یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ ؑ دنیا میں مشہور ہوئے ۔ آپ کی جماعت 200 سے زیادہ ہے ۔بعض میں آپ کے ماننے والے اعلی عہدوں پر فائز ہیں ۔یہ سب اس بات کی عظیم دلیل ہے کہ آپ ؑ خدا کی طرف سے تھے ۔ اور جو پیشگوئیاں آپ ؑ نے فرمائی تھیں وہ خدائی تھیں ۔جو پہلے بھی بہت بڑی شان سے پوری ہوئی اور اب بھی ہو رہی ہیں اور انشاء اللہ آئندہ بھی اپنی شان کے ساتھ پوری ہونگی ۔یہ آواز جو قادیان کی گمنام بستی سے اٹھی آج دنیا کے ہر ملک میں گونج رہی ہے یہ معجزہ نہیں تو کیا ہے ؟۔حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں کہ دیکھو کتنے انبیاء گزرے ان کے بہت سے معجزات تو نہیں ہوتے تھے بلکہ بعض کے پاس ایک ہی ہوتا تھا اور جس کا میں نے بیان کیا ہے وہ عظیم معجزہ ہے جو ہر ایک طرح سے ثابت ہے اور اگر کوئی ضدی اور ہٹ دھرم نہ ہو تو اس کو میرا دعوی ہر صورت ماننا پڑتا ہے ۔مگر جو آنکھوں کے اندھے ہوں وہ روشنی کیسے دیکھ سکتے ہیں ۔بعض دفعہ خدا تعالیٰ خود کسی کی نیک فطرتی کی وجہ سے اس کو پیغام پہنچا دیتا ہے ۔ہزاروں لوگ شامل ہو رہے ہیں ۔جب آپ ؑ علیحدہ رہنا پسند کرتے تھے آج کیسے وہ وعدے پورے کئے آپ ؑ کی وجہ سے خلافت قائم ہوئی ۔پس یہ سلسلہ بڑھ رہا ہے پھول رہا ہے اور پھل رہا ہے اور خلافت احمدیہ کو جو تائیدات حاصل ہیں یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کو پورا فرما رہا ہے ایک طرف مخالفین کی مخالفت ہے ۔مگر دوسری طرف اللہ کی تائید بھی شامل ہے ۔چند واقعات آپ کے سامنے رکھتا ہوں کہ آپ ؑ کی ہر ہر لفظ کی آج بھی تائید اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے ۔مالی افریقہ میں آج سے 110 سال پہلے بلکہ 90 سال پہلے بھی کوئی اس ملک کو جانتا ہو۔لیکن اللہ تعالیٰ نے جب ارادہ کیا تو سامان بھی پیدا ہو گئے اور 2012 میں ریڈیو اسٹیشن کا آغاز ہوا اسلام کی تعلیم بتائی جانے لگی۔ایک دوست بیان کرتے ہیں جن کا نام لاسینو صاحب وہ ریڈیو سنتے تھے مگر بیعت نہیں ہوتی تھی ایک دن آرام کیا کہ خواب میں ایک بزرگ کسی راستہ سے گزر رہے تھے اور خواب میں بتایا گیا کہ احمدیوں کے خلیفہ ہیں جو آل محمد ﷺ سے ہیں ۔پھر انہوں نے بیعت کر لی ۔ پھر جیسا فرمایا اگر کوئی ضدی نہ ہو تو میرا دعوی ماننا پڑتا ہے ۔آج کل کے مولوی اسی زمرہ میں آتے ہیں ۔ان کو اپنے لنگر کی فکر ہے ۔مبلغ انچارچ سینیگال نے بتایا ایک مولوی تھے جو بہت مخالف تھے ۔کمشنر کے پاس گئے اور کہا پرہیز کیا کریں وہ دور ہونے لگے ۔اور بہانہ کرتے شامل نہ ہوتے ۔ان کے اوس رویہ سے 67 لوگ جماعت میں شامل ہو گئے اور پھر خفیہ پولیس کے پاس گیا اور جماعت کے خلاف بھڑکانے لگا ۔ساتھ ملک مالی میں دہشت گردی ہو رہی تھی حکومت کافی حساس ہو چکی تھی ۔جب پولیس کو خبر دی گئی تو اس نے تحقیق کے لئے تین آفسر بھیجے جب یہ جماعت کےبارہ تحقیق کرنے لگے تو حقیقت ان پر کھلی اور وہ تینوں آفسران بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو گئے ۔ مولویوں کے منصوبے کا ایک اور واقعہ ۔مولوی ہماری تبلیغ پر پابندی لگانا چاہتا ہے مگر اللہ ہمارے ساتھ ۔برکینا فاسو میں ایک گاؤں میں تبلیغ کے لئے گئے یہ دو حصوں میں بٹی ہوئی جگہ ہے دو قبیلے ہیں ایک جملہ بولتا ہے اور دوسرا سنفو بولتا ہے ۔جملہ زبان بولنے والے گاؤں میں گئے ۔اس نے منصوبہ بنایا کہ جب احمدی تبلیغ کرنے لگے گا تو گھر کو آگ لگا کر کہیں گے آگ لگ گئی تبلیغ نہ ہو سکے گی ۔آخر انہوں نے ایسا ہی کیا اور سارے لوگ منتشر ہو گئے ساری رات وہی گزاری ۔ایک تدبیر انہوں نے کی دوسری تدبیر خدا نے کی ۔کہتے صبح ہی صبح نماز کے بعد سارے لوگ جمع ہو گئے اور فطرت نیک تھی سمجھ گئے شرارت کی ہے تبلیغ سن کر انہوں نے فیصلہ کیا جماعت میں شامل ہوتے ہیں پھر 128 افراد اس صبح کی تبلیغ سے جماعت میں شامل ہوئے ۔ پھر اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود ؑ کی بیعت میں آنے والے کی دعا کو سن کر کس طرح ان کے ایمان کو بڑھاتا ہے ۔ایک واقعہ ہے ۔بینن میں مبلغ کہتے ہیں کہ ایک جماعت کے صدر قدوس صاحب ہیں وہ جماعت میں صرف اس وجہ سے داخل ہوئے کہ جماعت کا دعوی ہے کہ اسلام کا خدا آج بھی دعا سننتا ہے ۔1 اپریل 2015 کو بچہ کی پیدائش تھی ان کی بیوی کے ہاں ۔زچگی کی دردیں ہونے کے باوجود کہا گیا کہ ماں کی جان خطرہ میں پڑ سکتی ہے یہ سن کر پریشان ہوا ۔دوسرے ہسپتال جانے کے لئے روانہ ہوا اور دعائیں کرنے لگا کہ اے اللہ میں تو اس جماعت سے تعلق رکھتا ہوں کہ تو دعائیں سنتا ہے اور کہتے ہیں جب بیوی کو لیکر پہنچا کہ کوئی دوائی نہ دی تھی بچہ کی نارمل پیدائش ہو گئی ۔اس سے ایمان میں ترقی ہوئی ۔اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ ایمان پختہ ہو آج بھی جلوہ دکھاتا ۔کسی پیر کی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کے ساتھ جڑ جاؤ اللہ تعالیٰ خود ملتا ہے ۔ پھر جس کے حق میں فیصلہ کر دے اس کو ہدایت دینی ہے عجیب معاملات کرتا ہے ۔فرانس میں ایک احمدی ہیں ان کی بیوی احمدی نہ تھی مذہبی کٹر تھی ۔7 سال قبل بیعت کی ۔اس عورت نے کہا کہ بیوی نے یہ کہا ہے کہ بچہ دے تو بیعت کر لونگی میں نے کہا اللہ تعالیٰ پابند تو نہیں بہرحال اللہ تعالیٰ فضل کر دے چند دن بعد ہی امید سے ہوئی اور اپنے بیٹے کا نام بھی بشیر الدین محمود احمد رکھا ۔پس جو دعا بھی قبول ہوتی ہے وہ حضرت مسیح موعود ؑ کی سچائی کا ثبوت ہے ۔ اللہ تعالیٰ نو مبائعین کے لئے کیسے نشان دکھاتا ہے ۔ایک واقعہ ہے برکینا فاسو کی ایک جماعت میں ایک خاندان جماعت میں داخل ہوا اور اخلاص بہت تھا ۔مخالفت بھی ہوئی اس خاندان کی خاتون گوبا گوئیما صاحبہ نے بتایا کہ ایک شخص ان کے گھر آیا اور گالیاں دیں اور کہا تم نے جھوٹ کو گلے لگا لیا ہے ۔جماعت کو چھوڑ دو لیکن اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا وہ جوانی میں آنکھوں کی بیماری میں مبتلا ہو کر اندھا ہوگیا ۔ایک اور نے کہا آپ کا امام مہدی جیل میں فوت ہوا ۔عجیب بات ہے کہ میں جواب لینے نہ جا پائی تھی یہ خبر مشہور ہو گئی جس نے یہ بات کی تھی وہ جرم میں پکڑا گیا اور جیل کی سلاحوں کے پیچھے ڈال دیا گیا ۔کیا یہ بندہ کا کاروبار ہے ۔بہت سے ایسے واقعات ہیں ۔ قادیان کی بستی سے اٹھی ہوئی آواز دنیا کے 208 یا 209 ممالک میں گونج رہی ہے ۔اس وقت ہر وہ شخص جو کسی بھی جگہ سے آیا جس میں سب لوگ افریقن عرب وغیرہ شامل ہیں جنہوں نے قادیان کی چمک دیکھی ہے یہ آپ ؑ کی دعائیں ہی ہیں جو قادیان کی چمک دنیا کو دکھلا گئی ہے ۔یہ چھوٹی سی بستی اسی حضرت مسیح موعود ؑ کی وجہ سے دنیا میں پھیلی ہے ۔اج اسلام کا جھنڈا مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھ مل کر ہی دنیا میں لہرایا جا سکتا ہے ۔ حضرت مسیح موعود ؑ کے ساتھ جڑ کر ہی دنیا کو محمد ﷺ کی غلامی میں لایا جا سکتا ہے ۔پس اس کے لئے ہر احمدی کو اپنا حق ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔آپ ؑ فرماتے ہیں خدا تعالیٰ اپنی تائیدات اور اپنے نشانوں کو ابھی ختم نہیں کر چکا اسی کی ذات کی قسم ہے وہ بس نہین کرے گا جب تک میری سچائی دنیا میں ظاہر نہ کر دے اے وہ لوگو جو میری آواز سنتے ہو خدا سے ڈرو اور حد سے نہ بڑھو اگریہ منصوبہ میرا ہوتا تو خدا مجھ کو ہلاک کر دیتا کس قدر خدا کی مدد میرے ساتھ ہے ۔دشمن ہلاک ہو گئے اے بندگان خدا کچھ تو سوچو کیا جھوٹو کے ساتھ ایسا معاملہ کرتا ہے ۔اللہ تعالیٰ ہم کو بھی بیعت کا حق ادا کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود ؑ کی بیعت میں لانے والے ہوں ۔اللہ تعالیٰ احمدیوں ہر دشمن سے محفوظ رکھے ۔بنگلہ دیش کی پولیس کے مطابق وہ مسجد پر حملہ آور تھا وہ جو بم لیکر آیا تھا اگر سارے پھٹ جاتے تو کوئی ایک بھی نہ بچتا ۔اب حالات ایسے نہیں ہیں کہ اس طرح نارمل ہو کر بیٹھا جائے ۔لیکن ساتھ ہی جماعت کی انتظامیہ کو دوبارہ توجہ دلاتا ہوں حفاظت کا انتظام صحیح طرح کیا کریں ۔اور لا پرواہی نہ کیا کریں ۔ہمارے احمدی بھائی جو شہید ہوئے ہیں ۔ان کو ایک دہشت گرد تنظیم نے شہید کیا ہے ۔بہرحال ہر احمدی کو دعاؤں پر زور دینے کی ضرورت ہے اور ہر جگہ حفاظت کا بھی انتظام کرنے والے اور جلسہ میں شامل ہونے والے صحیح فیض پانے والے ہوں ۔اور اللہ تعالیٰ آپ سب کو حفاظت سے واپس لیکر جائے ۔ قادیان میں 19134 میں 44 ممالک کی نمائندگی ہے اور لند ن میں 5340 افراد لند ن میں ہیں ۔

Sunday, 27 December 2015

Love for All Hatred for None


Love for All Hatred for None


Love for All Hatred for None


Love for All Hatred for None


Love for All Hatred for None


Love for All Hatred for None


Love for All Hatred for None


Love for All Hatred for None


MashAllah

Love for All Hatred for None


Love for All Hatred for None


Love for All Hatred for None


Love for All Hatred for None


Love for All Hatred for None


Love for All Hatred for None


Saturday, 26 December 2015

Love for All Hatred for None


Love for All Hatred for None